امریکی فوج آبنائے ہرمز کےقریب آئی توواپس نہیں جا پائے گی
Awaz E Bihar••5 ویوز•5 منٹ پڑھیں
تہران/واشنگٹن، 4 اپریل (ایجنسی)۔ ایران نے پیر کے روز امریکہ کو خبردار کیا کہ وہ آبنائے ہرمز سے دور رہے۔ ایران کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیان کے جواب میں آیا ہے۔ ٹرمپ نے کہا تھا کہ امریکہ ان جہازوں کو آزاد کرانے میں مدد کرے گا جو ایران اور امریکہ-اسرائیل جنگ کے باعث خلیج میں پھنسے ہوئے ہیں۔ ٹرمپ کے مطابق یہ جہاز تقریباً دو ماہ سے پھنسے ہوئے ہیں اور عملے کے پاس خوراک اور دیگر سامان کی کمی ہو گئی ہے۔ ٹرمپ نے اس اقدام کو ''پروجیکٹ فریڈم'' کا نام دیا ہے۔ ٹرمپ نے اتوار کو ''ٹروتھ سوشل'' پر کہا، ''ہم نے ان ممالک سے کہا ہے کہ ہم ان کے جہازوں کو ان محدود آبی راستوں سے محفوظ طریقے سے نکالنے میں مدد کریں گے۔'' ایران کی مسلح افواج کی مشترکہ کمان کے سربراہ علی عبداللہی نے اس کا سخت جواب دیا۔ انہوں نے امریکی فوج کو خبردار کیا کہ وہ آبنائے ہرمز سے دور رہے۔ اگر امریکی فوج ہرمز کے قریب آئی یا داخل ہوئی تو اس پر حملہ کیا جائے گا۔ انہوں نے تجارتی جہازوں اور تیل بردار جہازوں کو ہدایت دی کہ وہ ایران کی فوج کے ساتھ رابطہ کے بغیر کسی بھی قسم کی نقل و حرکت نہ کریں۔ عبداللہی نے کہا کہ آبنائے ہرمز کی سلامتی ایران کے ہاتھ میں ہے اور جہازوں کی محفوظ گزرگاہ کی حفاظت ایران کی مسلح افواج کریں گی۔الجزیرہ، سی بی ایس، سی این این اور ایکسیوس کی رپورٹوں کے مطابق امریکی سینٹرل کمان (سینٹکام) نے اعلان کیا ہے کہ وہ امریکی صدر کی ہدایت پر 15,000 فوجی اہلکاروں، 100 سے زائد زمینی اور بحری طیاروں، جنگی جہازوں اور ڈرونز کے ساتھ اس مشن میں مدد فراہم کرے گا۔ سینٹکام کے کمانڈر ایڈمرل بریڈ کوپر نے کہا، ''اس دفاعی مشن کے لیے ہماری حمایت علاقائی سلامتی اور عالمی معیشت کے لیے نہایت ضروری ہے، کیونکہ ہم بحری ناکہ بندی کو بھی برقرار رکھے ہوئے ہیں۔''ادھر ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق واشنگٹن نے پاکستان کے ذریعے ایران کی 14 نکاتی تجویز کا جواب بھیجا ہے، جس کا تہران جائزہ لے رہا ہے۔ ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی کے حوالے سے کہا گیا، ''ہماری امریکہ سے جوہری پروگرام پر کوئی بات نہیں ہوئی ہے۔'' اس سے قبل ٹرمپ تہران کی اس تجویز کو ناقابل قبول قرار دے چکے ہیں۔ امریکی حکام نے کہا کہ ''پروجیکٹ فریڈم'' کے تحت امریکی بحریہ کے جنگی جہاز آبنائے سے گزرنے والے جہازوں کو براہ راست اسکواڈ نہیں کریں گے بلکہ پھنسے ہوئے جہازوں کو راستہ دکھائیں گے، جبکہ ایرانی حملوں کو روکنے کے لیے امریکی جنگی جہاز قریب ہی موجود رہیں گے۔اس دوران پاکستان کی وزارت خارجہ نے بتایا کہ امریکہ نے ایک ایرانی کنٹینر جہاز پر موجود 22 عملے کے ارکان کو پاکستان منتقل کر دیا ہے، جہاں انہیں ایرانی حکام کے حوالے کیا جائے گا۔ وزارت نے اس اقدام کو اعتماد سازی کی کوشش قرار دیا ہے۔ مزید کہا گیا کہ ضروری مرمت کے بعد ایرانی جہاز کو بھی پاکستان کی سمندری حدود میں واپس لایا جائے گا تاکہ اسے اس کے اصل مالکان کے حوالے کیا جا سکے۔ اس جہاز کو گزشتہ ماہ خلیج عمان میں ایک حملے کے دوران قبضے میں لیا گیا تھا، جسے تہران نے امریکہ کی بحری قزاقی قرار دیا تھا۔ ایرانی حکام کا موقف ہے کہ امریکی اقدامات سے صورت حال مزید پیچیدہ ہو جائے گی اور خلیج میں جہازوں کی سکیورٹی خطرے میں پڑ جائے گی۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ آبنائے ہرمز کی سکیورٹی برقرار رکھے ہوئے ہیں اور تمام تجارتی جہازوں و تیل بردار بحری جہازوں کو ایرانی افواج کے ساتھ ہم آہنگی کے بغیر کسی بھی نقل و حرکت سے گریز کرنا چاہیے۔ ایرانی مجلس شوریٰ (پارلیمنٹ) کی قومی سکیورٹی کمیٹی کے سربراہ ابراہیم عزیزی نے خبردار کیا ہے کہ اس بحری نظام میں امریکی مداخلت کو جنگ بندی کی خلاف ورزی تصور کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ یہ آبنائے ڈونلڈ ٹرمپ کی سوشل میڈیا پوسٹس کے ذریعے نہیں چلائی جائے گی۔ دوسری جانب برطانوی بحری تجارتی آپریشنز نے اطلاع دی ہے کہ خطے میں جاری فوجی آپریشنز کی وجہ سے آبنائے ہرمز میں سکیورٹی خطرات کی سطح بدستور تشویش ناک ہے۔ جہاز رانوں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ عمانی حکام کے ساتھ رابطہ رکھیں اور عمانی علاقائی پانیوں سے گزرنے پر غور کریں، جہاں امریکہ نے ایک بہتر سکیورٹی زون قائم کیا ہے۔واضح رہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا تھا کہ پیر سے امریکہ آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں کی نگرانی کرے گا کیونکہ دنیا بھر کے ممالک نے اس کا مطالبہ کیا ہے۔ دوسری طرف ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ 28 فروری سے جاری بد امنی اور جنگ کے بعد اب اس آبنائے کی صورت حال پہلے جیسی نہیں رہے گی۔ ایران نے گزرنے والے جہازوں سے فیس وصول کرنے کا اشارہ بھی دیا ہے، جسے عالمی سطح پر جہاز رانی کی آزادی کے خلاف قرار دیتے ہوئے تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ فروری کے اواخر سے ایران نے عملاً اس راستے کو بند کر رکھا ہے جہاں سے عالمی سطح پر تیل و گیس کی سپلائی کا پانچواں حصہ گزرتا ہے، جبکہ امریکہ نے 13 اپریل سے ایرانی بندرگاہوں کا محاصرہ کر رکھا ہے۔