دنیا کا سب سے بڑا طیارہ بردار جہاز ’’یو ایس ایس جیرالڈ فورڈ‘‘ایران کی جانب روانہ
Awaz E Bihar••0 ویوز•3 منٹ پڑھیں
واشنگٹن :اگرچہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو جوہری معاہدے تک پہنچنے کے لیے ایک ماہ کی مہلت دی ہے، تاہم واشنگٹن کی فوجی نقل و حرکت جاری ہے۔ خطے میں طیارہ بردار بحری جہاز "ابراہم لنکن" بھیجنے کے بعد اب اس بیڑے میں "یو ایس ایس جيرالڈ آر فورڈ" بھی شامل ہو جائے گا۔یہ طیارہ بردار جہاز جوہری توانائی سے چلتا ہے اور امریکی بحریہ سے وابستہ ہے جسے 2017 میں فعال کیا گیا تھا۔ اسے "جیرالڈ آر فورڈ" کلاس کے جہازوں میں صفِ اول کی حیثیت حاصل ہے۔ اس کا وزن ایک لاکھ ٹن سے زیادہ جبکہ لمبائی 337 میٹر ہے۔ برطانوی انسائیکلوپیڈیا "بریٹانیکا" کے مطابق یہ دنیا کا سب سے بڑا تیرتا ہوا جنگی جہاز ہے۔ اس میں عملے اور ایئر ونگ سمیت تقریباً 4600 افراد کی گنجائش موجود ہے۔ امریکی بحریہ نے اعلان کیا ہے کہ اس طیارہ بردار جہاز کو نئی ٹیکنالوجیز اور ایسی خصوصیات سے لیس کیا گیا ہے جو عملے پر نگرانی اور دیکھ بھال کے کام کا بوجھ کم کرتی ہیں۔ یو ایس ایس جیرالڈ آر فورڈ دو جوہری ری ایکٹرز، الیکٹرومیگنیٹک ایئر کرافٹ لانچ سسٹم (EMALS)، ایڈوانسڈ اریسٹنگ گیئر (AAG) اور ڈوئل بینڈ راڈار (DBR) کے ذریعے کام کرتا ہے۔ جہاز کی ساخت اور پاور پلانٹ کو اس طرح ڈیزائن کیا گیا ہے کہ یہ اپنی 50 سالہ سروس کے دوران نئے سسٹمز بشمول ڈائریکٹڈ انرجی ویپنز کو ایڈجسٹ کر سکے۔ امریکی بحریہ کا یہ جدید ترین طیارہ بردار جہاز 10 ہزار ٹن کا زیادہ سے زیادہ بوجھ اٹھانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ ویب سائٹ 'ملٹری' کے مطابق امریکی بحریہ اس جہاز پر بحرانوں کے جواب اور بڑی جنگی کارروائیوں میں ابتدائی فیصلہ کن حملوں جیسے متعدد مشنوں کے لیے بھروسہ کرتی ہے۔ اسی طرح اس طیارہ بردار جہاز کو مربوط الیکٹرانک اسکین سرچ اینڈ ٹریک راڈار سسٹم سے لیس کیا گیا ہے۔ ویب سائٹ 'سی فورسز کے مطابق اسے ریتھیون کمپنی کے تیار کردہ "سی اسپیرو" میزائل سے بھی لیس کیا گیا ہے جو تیز رفتار اور انتہائی پینترا بدلنے والے اینٹی شپ میزائلوں کے خلاف دفاع کرتا ہے۔ یو ایس ایس جیرالڈ آر فورڈ 90 تک طیارے لے جا سکتا ہے جن میں ایف 35، ایف اے 18 سپر ہارنیٹ، ای اے 18 جی الیکٹرانک اٹیک طیارے، ایم ایچ 60 آر ہیلی کاپٹرز اور ڈرونز شامل ہیں۔ اس میں موجود EMALS نظام طیاروں کو لانچ کرنے کے لیے روایتی طور پر استعمال ہونے والے "C-13" اسٹیم کیٹاپلٹس کی جگہ لیتا ہے، جس سے مستقبل میں انسان بردار یا بغیر پائلٹ کے طیاروں کی لانچنگ کا دائرہ وسیع ہو جاتا ہے۔ نیشنل سیکیورٹی جرنل نے مزید بتایا ہے کہ یہ طیارہ بردار جہاز بوئنگ ایف/اے-18 ای/ایف سپر ہارنیٹ، بوئنگ ای اے-18 جی گراؤلر، گرومین سی-2 گرے ہاؤنڈ، نارتھروپ گرومین ای-2 ہاک آئی، لاک ہیڈ مارٹن ایف-35 سی لائٹننگ 2، اسکورسکی ایس ایچ-60 سی ہاک ہیلی کاپٹرز اور جنگی ڈرونز سمیت 90 تک طیارے لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔