نوجوانوں کی تحریک نے ثابت کر دیا کہ حکومت کو جھکایا جا سکتا ہے: اکھلیش یادو
Awaz E Bihar••24 ویوز•5 منٹ پڑھیں
سماجوادی پارٹی (ایس پی) کے صدر اکھیلیش یادو نے منگل کے روز لوک سبھا میں کہا کہ امتحانی پرچہ لیک کے خلاف نوجوانوں کی حالیہ تحریک نے ثابت کر دیا ہے کہ حکومت کو جھکایا جا سکتا ہے۔ لوک پریکشا (غیر منصفانہ ذرائع کی روک تھام) ترمیمی بل، 2026 پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے اکھلیش یادو نے کہا کہ نوجوانوں نے ان لوگوں کو منہ توڑ جواب دیا ہے جو دعویٰ کرتے تھے کہ حکومت کسی بھی معاملے میں نہیں جھکتی۔ انہوں نے کہا کہ نوجوانوں نے ثابت کر دیا ہے کہ حکومت جھکتی بھی ہے، بس اسے جھکانے والا ہونا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ جب حکومت خوفزدہ ہو جاتی ہے تو جھکنے پر مجبور ہو جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس کی مثال کسانوں کی تحریک میں بھی دیکھی گئی تھی اور اب یہی حقیقت نوجوانوں کی تحریک سے بھی سامنے آئی ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ حکومت کے نمائندوں اور نوجوانوں کے درمیان ہونے والی بات چیت کی تفصیلات ایوان کے سامنے کیوں نہیں رکھی جا رہیں۔ اکھیلیش یادو نے کہا، "نوجوانوں کی تحریک کی وجہ سے 'پردھان جی' (دھرمیندر پردھان) کو ہٹا کر وزیر اعظم کو بچا لیا گیا۔" انہوں نے الزام لگایا کہ حکومت نے منفی سیاست کے لیے ہزاروں کروڑ روپے خرچ کیے، لیکن امتحانات میں پرچہ لیک روکنے میں ناکام رہی۔ ان کا کہنا تھا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) وعدے نہیں کرتی بلکہ صرف "جملے" دیتی ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ حکومت نوجوانوں کے مطالبات کو قبول کرے گی۔ سماجوادی پارٹی کے صدر نے کہا کہ پرچہ لیک سے صرف ایک طالب علم متاثر نہیں ہوتا بلکہ پورا خاندان اس کی اذیت جھیلتا ہے۔ اسی لیے نوجوانوں کی اس تحریک میں طلبہ کے والدین بھی بڑی تعداد میں شریک ہوئے اور یہ پہلی ایسی تحریک تھی جس میں پورے پورے خاندان شامل ہوئے۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں کہا، "بھگوان کے دربار سے چندے اور نذرانے تک غائب ہو گئے، جو خفیہ چندے کی چوری نہیں روک سکے، وہ پرچہ لیک کیا روکیں گے۔" انہوں نے مزید کہا کہ بھگوان کے نام پر دیے گئے خفیہ چندے کی چوری کرنا 'مہا پاپ' ہے۔ جاری۔۔۔۔ سماجوادی پارٹی (ایس پی) کے صدر اکھیلیش یادو نے لوک سبھا میں حکومت پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کا کام کر رہی ہے۔ ان کا دعویٰ تھا کہ قومی جمہوری اتحاد (این ڈی اے) حکومت کے دورِ اقتدار میں 20 اہم امتحانات کے پرچے لیک ہو چکے ہیں، جبکہ اتر پردیش میں تقریباً ہر سال امتحانی پرچے لیک ہونے کے واقعات سامنے آتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ قومی امتحانی ایجنسی (این ٹی اے) میں بڑی تعداد میں ملازمین آؤٹ سورسنگ کے ذریعے کام کر رہے ہیں۔ اتنے اہم ادارے میں آؤٹ سورس ملازمین کی تقرری حکومت کی جوابدہی پر سوالیہ نشان ہے۔ انہوں نے پوچھا کہ آخر اس کی ذمہ داری کس کی ہے۔ اکھیلیش یادو نے الزام لگایا کہ حکومت نہیں چاہتی کہ غریب خاندانوں کے بچے تعلیم حاصل کریں۔ ان کے مطابق حکومت نے تعلیمی نظام پر حملے کا آغاز سرکاری پرائمری اسکولوں سے کیا، کیونکہ ان میں دلت، پسماندہ طبقات اور غریب خاندانوں کے بچے تعلیم حاصل کرتے ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ انہیں تعلیم سے محروم رکھنے کے لیے سرکاری پرائمری اسکول بند کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں ایک لاکھ سے زائد سرکاری اسکول بند کیے جا چکے ہیں، جبکہ صرف اتر پردیش میں 26 ہزار 386 سرکاری اسکول بند کیے گئے ہیں۔ ان کے مطابق سیکنڈری اسکول بھی بند کیے جا رہے ہیں اور اعلیٰ تعلیم میں تقرریوں کے عمل میں بڑے پیمانے پر بدعنوانی ہو رہی ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ بڑے تعلیمی اداروں میں صرف "یک رنگی" سوچ رکھنے والے افراد کو تعینات کر کے ان اداروں کو کمزور کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نئے جامعات قائم کرنے میں ناکام رہی ہے، جبکہ رام پور میں واقع نجی محمد علی جوہر یونیورسٹی کو منہدم کرنے کے احکامات دیے گئے ہیں۔ انہوں نے سوال کیا کہ نفرت کی سیاست آخر ملک کو کس سمت لے جا رہی ہے۔ اکھیلیش یادو نے کہا کہ پہلے فوج میں ہر سال تقریباً 80 ہزار بھرتیاں ہوتی تھیں، لیکن اب صرف 10 ہزار اگنی ویر بھرتی کیے جا رہے ہیں۔ ان کے مطابق حکومت نوجوانوں کے روزگار کے مواقع ختم کر رہی ہے اور ایسے میں نوجوان ملازمت کے لیے کہاں جائیں۔ پارلیمانی امور کے وزیر کیرن رجیجو کی جانب سے ایمرجنسی کا حوالہ دیے جانے پر اکھلیش یادو نے کہا کہ انہوں نے ایمرجنسی کا دور تو نہیں دیکھا، لیکن حال ہی میں نوجوانوں کے خلاف پولیس کی کارروائی دیکھی ہے، جو کسی ایمرجنسی سے کم نہیں تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ نوجوانوں پر ہونے والے حملوں نے ایمرجنسی کی یاد تازہ کر دی۔ انہوں نے کہا، "اگر نوجوانوں کو اچھی تعلیم اور شفاف امتحانات ملیں گے تو ان کی ترقی یقینی ہوگی۔ اگر نیت صاف ہوگی تو قومی اہلیت و داخلہ امتحان (نیٹ) بھی شفاف ہوگا۔"