این سی آر بی رپورٹ: سائبر کرائم اور بچوں کے خلاف جنسی استحصال کی صورتحال تشویشناک، مجموعی جرائم میں کمی
Awaz E Bihar••84 ویوز•4 منٹ پڑھیں
نیشنل کرائم ریکارڈ بیورو (این سی آر بی) نے ' ہندوستان میں جرائم 2024' اور 'حادثاتی اموات اور خودکشی 2024' (اے ڈی ایس آئی 2024) کی تفصیلی رپورٹ جاری کر دی ہے۔ سال 2024 کے اعداد و شمار پر مبنی یہ رپورٹ ملک کی امن و امان کی صورتحال کی ایک ملی جلی تصویر پیش کرتی ہے۔ جہاں ایک طرف خواتین، دلتوں (ایس سی ) اور قبائلیوں (ایس ٹی ) کے خلاف جرائم میں کمی دیکھی گئی ہے، وہیں سائبر فراڈ اور بچوں کے خلاف جنسی استحصال کے بڑھتے ہوئے اعداد و شمار نے سکیورٹی ایجنسیوں کی تشویش میں اضافہ کر دیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق، ملک میں مجموعی جرائم میں 6 فیصد کی کمی آئی ہے۔ سال 2023 میں جہاں 62.41 لاکھ معاملات درج ہوئے تھے، وہیں 2024 میں یہ تعداد کم ہو کر 58.86 لاکھ رہ گئی ہے۔ فی لاکھ آبادی پر جرائم کی شرح بھی 448.3 سے کم ہو کر 418.9 ہو گئی ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ 'بھارتیہ نیا سنہتا (بی این ایس ) جیسے نئے قوانین کے نفاذ کے بعد 'ہرٹ کے معاملات کی درجہ بندی میں تبدیلی کی وجہ سے ان مقدمات میں 30 فیصد سے زائد کی کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔رپورٹ کا سب سے تکلیف دہ پہلو بچوں کے خلاف بڑھتے ہوئے جرائم ہیں۔ 'پوکسو ایکٹ کے تحت درج مقدمات میں حیران کن اضافہ ہوا ہے۔ حالیہ رپورٹ کے مطابق بچوں کے خلاف جرائم میں 5.9 فیصد اضافہ ہوا ہے اور 2024 میں کل 1,87,702 مقدمات درج کیے گئے۔ ان میں سے 69,191 کیسز صرف پوکسو ایکٹ کے تھے، جو کہ مجموعی جرائم کا 37 فیصد بنتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی لاپتہ بچوں کی تعداد میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ خواتین کے خلاف جرائم میں 1.5 فیصد کی معمولی کمی آئی ہے (کل 4.41 لاکھ کیسز)، لیکن شوہر یا رشتہ داروں کی طرف سے 'ظلم و تشدد کے واقعات اب بھی اس فہرست میں سب سے اوپر ہیں۔ چھوٹی ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں گوا اور چندی گڑھ میں 'عصمت دری کی شرح قومی اوسط سے زیادہ پائی گئی ہے۔خودکشی کے اعداد و شمار (اے ڈی ایس آئی ) سماجی صورتحال پر گہرے سوالات اٹھاتے ہیں۔ سال 2024 میں کل 1,70,746 افراد نے اپنی زندگی کا خاتمہ کیا۔ اس کا سب سے زیادہ اثر یومیہ مزدوروں، کسانوں، بے روزگار نوجوانوں اور گھریلو خواتین پر دیکھا گیا۔ شہروں میں دارالحکومت دہلی خودکشی کے واقعات میں سرِفہرست ہے، جس کے بعد بنگلورو کا نمبر آتا ہے۔ مزید برآں، منشیات کی زیادتی سے ہونے والی اموات میں تقریباً 50 فیصد کا اچھال آیا ہے، جس سے تمل ناڈو اور پنجاب سب سے زیادہ متاثر ہیں۔ ڈیجیٹل انڈیا کے دور میں سائبر کرائم سب سے بڑا چیلنج بن کر ابھرا ہے، جس میں 17 سے 18 فیصد کا بھاری اضافہ ہوا ہے۔ سائبر جرائم کے مقدمات 86,420 سے بڑھ کر 1,01,928 تک پہنچ گئے ہیں، جن میں سے 72.6 فیصد آن لائن فراڈ سے متعلق ہیں۔ ریاستوں میں تلنگانہ (27,230 کیسز) سائبر جرائم کا سب سے بڑا مرکز بن کر ابھرا ہے۔ سماجی تحفظ کے حوالے سے ایک مثبت اشارہ یہ ہے کہ دلتوں (ایس سی ) کے خلاف جرائم میں 3.6 فیصد اور قبائلیوں (ایس ٹی) کے خلاف جرائم میں 23 فیصد کی نمایاں کمی آئی ہے۔ قتل کے واقعات میں بھی 2.4 فیصد کی معمولی کمی دیکھی گئی ہے۔ ان اعداد و شمار نے واضح کر دیا ہے کہ ملک کا مستقبل یعنی بچے کس قدر غیر محفوظ ہیں۔ آنے والے سالوں میں حکومت اور انتظامیہ کے لیے سب سے بڑا چیلنج سائبر سکیورٹی کو مضبوط بنانا اور بچوں کے خلاف ان کے اپنے ہی ماحول میں ہونے والے استحصال کو روکنا ہوگا۔