ٹی ایم ضیاء الحق قومی گیت ’’وندے ماترم‘‘ کی تخلیق کے ڈیڑھ سو سال مکمل ہونے پر حکومت کی جانب سے پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں خصوصی بحث منعقد کی گئی۔ یہ بات سب جانتے ہیں کہ یہ گیت آزادی کی جدوجہد کے دوران لکھا گیا تھا اور انگریز حکومت کے خلاف لڑنے والے مجاہدینِ آزادی کے لیے حوصلے اور ولولے کا سرچشمہ بنا۔ آزادی سے قبل کانگریس کے اجلاسوں میں یہ گیت گایا جاتا تھا اور آزادی کے بعد دستور ساز اسمبلی نے اسے قومی گیت کی حیثیت دی۔ایسے میں یہ سوال فطری ہے کہ پارلیمنٹ میں اس موضوع پر بحث کی آخر ضرورت ہی کیا تھی؟ اگر حکومت چاہتی تو اس موقع پر کوئی ثقافتی، ادبی یا تعلیمی پروگرام منعقد کر سکتی تھی۔ مگر اس کے بجائے سیاسی فائدے کی خاطر پارلیمنٹ کا قیمتی وقت ایک ایسے موضوع پر صرف کیا گیا جس پر قومی اتفاق پہلے ہی موجود ہے، جبکہ ملک کے اصل اور فوری مسائل کو نظر انداز کر دیا گیا۔یہ وہ وقت ہے جب ملک میں ووٹر لسٹ کی خصوصی جانچ کے دوران کئی تنازعات سامنے آئے اور اس عمل میں لگے درجنوں افراد اپنی جانیں گنوا بیٹھے۔ معیشت مسلسل دباؤ میں ہے، روپیہ عالمی منڈی میں روز نئی گراوٹ کے ریکارڈ بنا رہا ہے۔ دہلی اور اس کے آس پاس کے علاقے شدید فضائی آلودگی کی لپیٹ میں ہیں۔ ملک کے کئی ہوائی اڈوں پر بدانتظامی رہی اور گووا میں آگ لگنے سے کئی لوگ جان سے گئے۔ مگر ان تمام سنگین مسائل پر پارلیمنٹ میں کوئی سنجیدہ بحث نہیں ہوئی، توجہ صرف ’’وندے ماترم‘‘ پر مرکوز رہی۔ اصل بات یہ ہے کہ بہار میں انتخابی کامیابی کے بعد وزیر اعظم نریندر مودی اور ان کی پارٹی کی نظریں اب مغربی بنگال کے آئندہ اسمبلی انتخابات پر ہیں۔ بنگال میں سیاسی مقابلہ سخت ہے اور جیت آسان نہیں۔ اسی لیے جذباتی فضا بنانے کے لیے ’’وندے ماترم‘‘ جیسے حساس اور علامتی موضوع کو سامنے لایا گیا۔ یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں کہ وزیر اعظم مودی سیاسی فائدے کے لیے قومی اور مذہبی علامتوں کے استعمال میں خاص مہارت رکھتے ہیں۔ چونکہ ’’وندے ماترم‘‘ کی تخلیق بنگال کی سرزمین پر ہوئی اور اس کے خالق بنکم چندر چٹرجی تھے، اس لیے حکومت کو امید تھی کہ اس بحث کے ذریعے وہ خود کو سب سے بڑا دیش بھکت اور بنگالی شناخت کا محافظ ثابت کر سکے گی۔ مگر پارلیمنٹ میں یہ سیاسی چال الٹی پڑ گئی۔ بحث کے دوران وزیر اعظم نے جواہر لعل نہرو اور کانگریس کو نشانہ بنایا، لیکن اپوزیشن کے مقررین پوری تیاری کے ساتھ آئے تھے۔ انہوں نے تاریخی حوالوں اور مستند دلائل کے ذریعے حکومت کے دعوؤں کا جواب دیا۔ اپوزیشن نے یاد دلایا کہ آزادی کی جدوجہد کے دوران آر ایس ایس اور ہندو مہاسبھا نے انگریز حکومت کا ساتھ دیا تھا، جبکہ کانگریس کے کارکن جیلوں میں تھے اور قربانیاں دے رہے تھے۔ یہ بھی واضح کیا گیا کہ ’’وندے ماترم‘‘ کے صرف پہلے دو بندوں کو قومی گیت ماننے کا فیصلہ کسی ایک فرد نے نہیں بلکہ ایک کمیٹی نے کیا تھا، جس میں جواہر لعل نہرو، رابندر ناتھ ٹیگور، مولانا ابوالکلام آزاد اور دیگر ممتاز شخصیات شامل تھیں۔ مزید یہ کہ ایک وقت میں انگریز حکومت نے ’’وندے ماترم‘‘ کا نعرہ لگانے پر پابندی عائد کر رکھی تھی اور اس جرم میں سزائیں دی جاتی تھیں۔یہاں سے بحث کا رخ صرف سیاست تک محدود نہیں رہا بلکہ اس نے آئینی اور تاریخی شکل اختیار کر لی۔ متنازعہ مسئلہ کوئی نیا نہیں، اس کی جڑیں صدیوں پر محیط تاریخ میں پھیلی ہوئی ہیں۔ مگر موجودہ دور میں اسے جس انداز سے پیش کیا جا رہا ہے وہ نہ صرف تاریخی شعور کے خلاف ہے بلکہ آئینی فہم سے بھی متصادم نظر آتا ہے۔ افسوس یہ ہے کہ اس حساس موضوع کو جذباتی رنگ دے کر سنجیدہ مکالمے کی گنجائش ختم کر دی گئی ہے۔ ہندوستان کی تاریخ مذہبی اور تہذیبی تنوع کی ایک روشن مثال ہے۔ مختلف عقائد، زبانوں اور تہذیبوں نے مل کر اس ملک کی شناخت بنائی ہے۔ لیکن جب تاریخ کو سیاسی مفاد کے لیے استعمال کیا جاتا ہے تو وہ علم و شعور کا ذریعہ نہیں رہتی بلکہ سماج کو تقسیم کرنے کا ہتھیار بن جاتی ہے۔ آئینی نقطۂ نظر سے دیکھا جائے تو آئینِ ہند ہر شہری کو برابری، مذہبی آزادی اور بنیادی حقوق کی ضمانت دیتا ہے۔ عدالتِ عالیہ اور سپریم کورٹ بارہا یہ واضح کر چکی ہیں کہ کسی بھی تاریخی یا مذہبی دعوے کا فیصلہ ثبوت، شہادت اور قانون کی بنیاد پر ہوگا، نہ کہ سیاسی نعروں یا اکثریتی دباؤ پر۔ اس کے باوجود اس مسئلے کو بار بار عدالتوں سے نکال کر سڑکوں اور جلسوں میں لے آیا گیا، جہاں جذبات دلیل پر غالب آ جاتے ہیں۔تاریخی اعتبار سے بھی یہ حقیقت اپنی جگہ مسلم ہے کہ مختلف مؤرخین کے درمیان اختلاف پایا جاتا ہے۔ تاریخ کسی ایک رائے یا بیانیے کا نام نہیں، بلکہ مختلف ماخذ اور نقطہ ہائے نظر کا مجموعہ ہوتی ہے۔ مگر میڈیا اور سیاست کے ذریعے ایک مخصوص بیانیے کو اس طرح پھیلایا گیا کہ عوام نے اسے ہی آخری سچ مان لیا۔اصل مسئلہ یہ ہے کہ اس تنازعے کو حل کرنے کے بجائے اسے زندہ رکھنا سیاسی جماعتوں کے لیے فائدہ مند ثابت ہوا۔ ہر انتخابی موسم میں یہ مسئلہ ابھرتا ہے، ماحول کو گرم کرتا ہے اور پھر خاموشی چھا جاتی ہے، مگر سماج میں پیدا ہونے والی دراڑیں باقی رہتی ہیں۔ ان دراڑوں نے فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور آئینی قدروں دونوں کو نقصان پہنچایا ہے۔آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ اس پوری بحث سے حکومت کو کوئی خاص فائدہ حاصل نہیں ہوا۔ بلکہ اپوزیشن نے تاریخی اور آئینی دلائل کے ذریعے حکومت کو کڑے سوالوں میں گھیر لیا۔ عام زبان میں کہیں تو جو داؤ سوچا گیا تھا، وہ خود اسی میں پھنس گیا۔ یعنی وندے ماترم پر بحث کا داؤ، مودی سرکار کو الٹا پڑ گیا۔