جمعرات، 1 اکتوبر، 2026
اردوहिन्दीEnglish
آواز ای بہار
آواز ای بہار
ہومای پیپرویڈیوزقومیسیاستکھیلتعلیمبہارقومیسیاستکھیلصحتتعلیممضامینعالمی خبریں
اہمقومیسیاستکھیلتعلیمبہارقومیسیاستکھیلصحتتعلیممضامینعالمی خبریں

آواز ای بہار

بہار کی آواز — اردو، ہندی اور انگریزی میں تازہ ترین خبریں

زمرے

  • مقامی
  • قومی
  • سیاست
  • کاروبار
  • ٹیکنالوجی
  • کھیل
  • صحت
  • تعلیم

فوری لنکس

  • ہوم
  • ای پیپر
  • ویڈیوز
  • دن کی تصویر
  • ہمارے بارے میں
  • رابطہ کریں
  • پرائیویسی پالیسی
  • شرائط و ضوابط

نیوز روم

  • ادارتی پالیسی
  • تصحیح و شکایات
  • اشتہارات
  • نیوز روم رابطہ

زبانیں

  • اردو (Urdu)
  • हिन्दी (Hindi)
  • English

ہمیں فالو کریں

Email: awazebihar@gmail.com

Phone: +91-9473486854

© 2026 Awaz E Bihar Publications. جملہ حقوق محفوظ ہیں

Designed and Developed byZeloiteZeloite
بنگلہ دیش میں ہادی کی موت کے بعد پرتشددمظاہرے
  1. ہوم
  2. عالمی خبریں
عالمی خبریں

بنگلہ دیش میں ہادی کی موت کے بعد پرتشددمظاہرے

Awaz E Bihar•19 دسمبر، 2025 کو 03:50 PM•0 ویوز•5 منٹ پڑھیں

بنگلہ دیش میں انقلابی منچ تحریک کے ایک سرکردہ رہنما شریف عثمان ہادی کی موت کے بعد مشتعل ہجوم نے جمعرات کی دیر رات سے جمعہ کی صبح تک ڈھاکہ اور دیگر کئی شہروں میں زبردست ہنگامہ کیا اور ہندوستانی ہائی کمیشن کے دفتر کے باہر مظاہرہ کرتے ہوئے ہند مخالف نعرے لگائے۔
بنگلہ دیش میں ’’جولائی بغاوت‘‘کے نمایاں چہرے اور دائیں بازو کی تنظیم 'انقلاب منچ‘ کے ترجمان شریف عثمان ہادی کا جمعرات کی رات سنگاپور کے ایک اسپتال میں انتقال ہو گیا۔ 12 دسمبر کو ڈھاکہ کے بیجوئے نگر علاقے میں ایک انتخابی مہم کے دوران ہوئے حملے میں ان کے سر میں گولی لگی تھی۔
ہادی کی موت کی خبر پھیلتے ہی ان کے حامی اور شدت پسند طلبا سڑکوں پر آگئے اور آگ زنی، توڑ پھوڑ اور مخصوص اہداف پر حملے شروع کر دیے۔
مشتعل ہجوم نے کھلنا اور چٹاگانگ میں بھارتی اسسٹنٹ ہائی کمشنرز پر حملہ کرنے کی کوشش کی۔ چٹاگانگ میں مظاہرین ہندوستانی ہائی کمیشن کی عمارت کی جانب بڑھے، ذاکر حسین روڈ پر پولیس بیریکیڈ توڑ دیے اور احاطے کے باہر دھرنے پر بیٹھ گئے۔ اس دوران انہوں نے ’’ہندوستان کا بائیکاٹ کرو‘‘’’عوامی لیگ کے اڈوں کو جلا دو‘‘اور ’’ہادی کا خون رائیگاں نہیں جائے گا‘‘ جیسے نعرے لگائے۔
ڈھاکہ میں مظاہرین بلڈوزر کے ساتھ آئے اور دھان منڈی 32 میں واقع بنگ بندھو شیخ مجیب الرحمن کے تاریخی گھر کے باقی ماندہ حصے کو منہدم کر دیا۔ عوامی لیگ کے کئی رہنماؤں کے دفاتر اور گھروں پر بھی حملے کیے گئے یا ان میں آگ لگا دی گئی، جن میں چشمہ ہل میں سابق وزیرِ تعلیم محیب الحسن چودھری نوفیل کا گھر اور اُترا میں سابق ڈھاکہ-18 عوامی لیگ کے رکنِ پارلیمنٹ حبیب حسن کے بھائی کا گھر شامل ہے۔
مظاہرین نے ڈھاکہ کے کاروان بازار علاقے میں اخبارات دی ڈیلی اسٹار اور پروتھوم آلو کے دفاتر میں توڑ پھوڑ کی اور آگ لگا دی۔ سینکڑوں مظاہرین نے پروتھوم آلو کی عمارت کی کئی منزلوں میں توڑ پھوڑ کی، فرنیچر، دستاویزات اور آلات سڑکوں پر پھینک دیے اور پھر انہیں آگ کے حوالے کردیا۔دی ڈیلی اسٹار کے دفتر میں صورتحال انتہائی سنگین ہو گئی۔ وہاں کم از کم 20 صحافی اور عملے کے افراد گہرے دھوئیں کے درمیان چھت پر پھنس گئے تھے اور آگ تیزی سے عمارت میں پھیل رہی تھی۔ فائر بریگیڈ کو آگ بجھانے میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا اور مشتعل ہجوم پر قابو پانے کے لیے فوج کو تعینات کرنا پڑا۔ تیجگاؤں اسٹیشن کی فائر یونٹ نے آخرکار رات تقریباً 1:40 بجے آگ پر قابو پا لیا۔اپنے حامیوں کے ساتھ وہاں پھنسے ہوئے نائب مدیر سبرت رائے نے کہا کہ ’’اندر بہت زیادہ دھواں ہے، چھت پر بھی سانس لینا مشکل ہو رہا ہے۔‘‘ایک اور رپورٹر عبداللہ ایم ڈی عباس نے سوشل میڈیا پر اپیل کرتے ہوئے کہا کہ ’’میرے تمام ساتھی چھت پر ہیں، وہ سانس نہیں لے پا رہے۔ براہِ کرم ہمارے لیے دعا کریں۔‘‘ بعد میں فوجی جوانوں نے علاقے کو محفوظ بنانے اور بچاؤ مہم میں مدد کی۔افسران نے ان واقعات پر تاحال کوئی سرکاری بیان جاری نہیں کیا ہے اور یہ واضح نہیں ہو سکا کہ کوئی گرفتاری عمل میں آئی ہے یا نہیں۔ ان حملوں کے بعد بنگلہ دیش میں مجموعی سلامتی کی صورتحال، سفارتی مشنز، صحافیوں اور سول سوسائٹی کے اداروں کی حفاظت کے حوالے سے ملک اور بیرونِ ملک شدید تشویش پیدا ہو گئی ہے۔
جمعہ کو صبح کے وقت سڑکوں پر صورتحال نسبتاً پُرسکون رہی، تاہم اس مسلم اکثریتی جنوبی ایشیائی ملک کے شہریوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ جمعے کی نماز کے بعد ایک بار پھر تشدد مظاہرے شروع ہوسکتے ہیں۔
32 سالہ شریف عثمان ہادی انقلاب منچا کے ترجمان تھے اور گزشتہ برس وزیراعظم شیخ حسینہ کی حکومت کا تختہ الٹنے والی طلبہ قیادت میں ہونے والے احتجاجی مظاہروں میں سرگرم رہے تھے۔ گزشتہ جمعے ڈھاکہ میں انتخابی مہم کے آغاز کے دوران نقاب پوش حملہ آوروں نے ہادی کے سر میں گولی ماری تھی۔ ابتدا میں انہیں مقامی اسپتال منتقل کیا گیا، بعد ازاں بہتر علاج کے لیے سنگاپور لے جایا گیا جہاں وہ چھ دن تک لائف سپورٹ پر رہنے کے بعد دم توڑ گئے۔ ہادی ہندوستان کے سخت ناقد تھے، جبکہ انقلاب منچا اپنی ویب سائٹ پر خود کو بغاوت کی روح سے متاثر ایک انقلابی ثقافتی پلیٹ فارم قرار دیتا ہے۔ ڈھاکہ میں سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ویڈیوز میں دیکھا جاسکتا ہے کہ جمعرات کی رات مشتعل ہجوم نے ملک کے سب سے بڑے روزنامے پرتھم آلو اور دی ڈیلی اسٹار کے دفاتر میں توڑ پھوڑ کی۔
مظاہروں کے دوران جذباتی نعرے لگائے گئے جن میں ہادی کا نام لیا گیا، مظاہرین نے اپنی تحریک جاری رکھنے اور فوری انصاف کا مطالبہ کیا۔
کئی علاقوں میں کشیدگی برقرار رہی، جبکہ مزید تشدد کو روکنے کے لیے اضافی پولیس اور نیم فوجی دستے تعینات کیے گئے۔
فائر سروس کے مطابق دی ڈیلی اسٹار کی عمارت میں لگنے والی آگ پر قابو پا لیا گیا، موقع پر فوجی دستے تعینات رہے اور فائر فائٹرز نے عمارت میں پھنسے صحافیوں کو نکال لیا۔
بنگلہ دیش میں اگست 2024 سے نوبیل انعام یافتہ محمد یونس کی سربراہی میں عبوری حکومت قائم ہے، جب طلبہ کی قیادت میں ہونے والی بغاوت کے بعد شیخ حسینہ بھارت فرار ہو گئی تھیں۔
شیئر کریں:

More from عالمی خبریں

غزہ میں اسرائیلی جنگ کے تین سال بعد تباہی کی ہولناک تصویرسے پوری دنیا حیران
عالمی خبریں

غزہ میں اسرائیلی جنگ کے تین سال بعد تباہی کی ہولناک تصویرسے پوری دنیا حیران

29 ستمبر، 2026
امریکہ و چین 60 ارب ڈالر مالیت کی مصنوعات پر ٹیرف کم کرنے پر متفق
عالمی خبریں

امریکہ و چین 60 ارب ڈالر مالیت کی مصنوعات پر ٹیرف کم کرنے پر متفق

28 ستمبر، 2026
 آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے و اقوام متحدہ کے جوہری معائنہ کاروں کو ایران آنے کی اجازت دینے کا اعلان
عالمی خبریں

آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے و اقوام متحدہ کے جوہری معائنہ کاروں کو ایران آنے کی اجازت دینے کا اعلان

26 ستمبر، 2026
ہم فلسطین کے معاملے میں ناکام ہیں، آئرش وزیر اعظم مارٹن کا اقوام متحدہ میں خطاب
عالمی خبریں

ہم فلسطین کے معاملے میں ناکام ہیں، آئرش وزیر اعظم مارٹن کا اقوام متحدہ میں خطاب

25 ستمبر، 2026
دو عظیم رہنما ؤں کی نازک تجارتی جنگ بندی برقرار رکھنے کی کوشش
عالمی خبریں

دو عظیم رہنما ؤں کی نازک تجارتی جنگ بندی برقرار رکھنے کی کوشش

24 ستمبر، 2026
ایرانی پاسداران انقلاب کا امریکہ کے ساتھ طویل جنگ کے لیے تیار ہونے کا اعلان، نئی صلاحیتیں استعمال کرنے کی دھمکی
عالمی خبریں

ایرانی پاسداران انقلاب کا امریکہ کے ساتھ طویل جنگ کے لیے تیار ہونے کا اعلان، نئی صلاحیتیں استعمال کرنے کی دھمکی

21 ستمبر، 2026