جمعرات، 1 اکتوبر، 2026
اردوहिन्दीEnglish
آواز ای بہار
آواز ای بہار
ہومای پیپرویڈیوزقومیسیاستکھیلتعلیمبہارقومیسیاستکھیلصحتتعلیممضامینعالمی خبریں
اہمقومیسیاستکھیلتعلیمبہارقومیسیاستکھیلصحتتعلیممضامینعالمی خبریں

آواز ای بہار

بہار کی آواز — اردو، ہندی اور انگریزی میں تازہ ترین خبریں

زمرے

  • مقامی
  • قومی
  • سیاست
  • کاروبار
  • ٹیکنالوجی
  • کھیل
  • صحت
  • تعلیم

فوری لنکس

  • ہوم
  • ای پیپر
  • ویڈیوز
  • دن کی تصویر
  • ہمارے بارے میں
  • رابطہ کریں
  • پرائیویسی پالیسی
  • شرائط و ضوابط

نیوز روم

  • ادارتی پالیسی
  • تصحیح و شکایات
  • اشتہارات
  • نیوز روم رابطہ

زبانیں

  • اردو (Urdu)
  • हिन्दी (Hindi)
  • English

ہمیں فالو کریں

Email: awazebihar@gmail.com

Phone: +91-9473486854

© 2026 Awaz E Bihar Publications. جملہ حقوق محفوظ ہیں

Designed and Developed byZeloiteZeloite
بنگلہ دیش میں انتخابات میں ووٹنگ کی شرح 47 فیصد سے زائد، ہم خیال جماعتوں کے ساتھ حکومت چلائیں گے: طارق رحمان
  1. ہوم
  2. عالمی خبریں
عالمی خبریں

بنگلہ دیش میں انتخابات میں ووٹنگ کی شرح 47 فیصد سے زائد، ہم خیال جماعتوں کے ساتھ حکومت چلائیں گے: طارق رحمان

Awaz E Bihar•12 فروری، 2026 کو 03:19 PM•0 ویوز•7 منٹ پڑھیں

بنگلہ دیش میں جاری قومی انتخابات میں دوپہر 2 بجے تک ووٹر ٹرن آؤٹ 47.91 فیصد رہا۔ یہ اعداد و شمار ملک بھر کے 36,031 پولنگ مراکز سے موصول ہونے والی معلومات کی بنیاد پر جاری کیے گئے۔ الیکشن کمیشن (ای سی) کے سینئر سیکریٹری اختر احمد نے جمعرات کو یہ بات بتائی۔
ای سی کے ایک عہدیدار نے کہا کہ کمیشن کو ابتدائی طور پر پریذائیڈنگ افسران سے براہِ راست معلومات جمع کرنے میں مشکلات پیش آئیں کیونکہ وہ پولنگ اسٹیشنوں پر ووٹروں کے ہجوم کو منظم کرنے میں مصروف تھے۔
انہوں نے کہا، "وہی ووٹروں کے ہجوم کو سنبھال رہے تھے، اس لیے ہمیں دشواری ہوئی۔ اسی وجہ سے ہم نے طریقہ کار میں تبدیلی کی۔ اب ہم اسسٹنٹ ریٹرننگ افسران سے معلومات حاصل کر رہے ہیں۔" انہوں نے مزید بتایا کہ بعد میں ایک اور تازہ اپڈیٹ فراہم کی جائے گی۔
الیکشن کمشنر نے کہا کہ بعض "الگ تھلگ واقعات" پیش آئے، جو زیادہ تر پولنگ مراکز کے باہر قانون و انتظام سے متعلق تھے، تاہم مقامی انتظامیہ کی فوری مداخلت کے بعد ووٹنگ منصوبے کے مطابق جاری رہی۔
انہوں نے تصدیق کی کہ میمن سنگھ-1 میں صبح سویرے ایک اسسٹنٹ پریذائیڈنگ افسر کے انتقال کے باوجود ووٹنگ بلا تعطل جاری رہی۔
انہوں نے کہا، "متبادل افسر فراہم کر دیا گیا تھا، اس لیے ووٹنگ سہل انداز میں جاری رہی۔"
انتخابی دن پر تشدد کی اطلاعات کے بارے میں ای سی نے کہا کہ کوئی ہلاکت نہیں ہوئی۔ مہیر پور میں ووٹنگ کے بعد جھڑپ ہوئی جس میں دو افراد زخمی ہوئے۔
انہوں نے کہا، "انہیں ابتدائی طبی امداد دی گئی اور وہ گھروں کو واپس چلے گئے۔ کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ہے۔"
الیکشن کمیشن نے واضح کیا کہ ٹرن آؤٹ کے اعداد و شمار میں پارلیمانی انتخابات اور ریفرنڈم دونوں کے ووٹ شامل ہیں۔
جب کمیشن سے پوچھا گیا کہ کیا وہ ٹرن آؤٹ سے مطمئن ہیں، تو الیکشن کمشنر نے کہا، "یہ فیصلہ آپ (میڈیا) کریں۔ ظاہر ہے ہم زیادہ ٹرن آؤٹ چاہتے ہیں۔ آپ طے کریں کہ ہمیں مطمئن ہونا چاہیے یا نہیں۔" ادھر بی این پی کے چیئرمین طارق رحمان نے کہا کہ اگر انتخابات آزادانہ، منصفانہ اور تنازعات سے پاک طریقے سے منعقد ہوئے تو ان کی جماعت نتائج قبول کرے گی۔
انہوں نے گلشن میں پارٹی چیئرمین کے دفتر میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا "اگر انتخابات آزاد ہوں، اگر وہ منصفانہ ہوں، اگر وہ تنازع سے پاک ہوں، تو ہم انہیں کیوں قبول نہیں کریں گے؟ یقیناً ہم قبول کریں گے۔ تمام جماعتیں قبول کریں گی۔"
بے ضابطگیوں کی اطلاعات کا حوالہ دیتے ہوئے طارق رحمان نے کہا کہ بعض "ناپسندیدہ واقعات" اور ووٹروں کو گمراہ کرنے کی کوششیں دیکھنے میں آئیں۔
انہوں نے کہا، "جب ملک بھر میں لوگ تیزی سے ووٹ ڈال رہے ہیں تو وہ نتائج بھی جلد چاہتے ہیں۔" انہوں نے امید ظاہر کی کہ الیکشن کمیشن بروقت نتائج کے اعلان کو یقینی بنائے گا۔
چیئرمین طارق رحمان نے کہا کہ ان کی پارٹی ان تمام جماعتوں کے ساتھ ملک چلانے کی خواہاں ہے جنہوں نے اس تحریک میں ان کے ساتھ حصہ لیا۔
دارالحکومت میں متعدد پولنگ مراکز کا دورہ کرنے کے بعد انہوں نے بی این پی کے گلشن آفس کے سامنے نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ "ہم ان لوگوں کے ساتھ ملک (کم یا زیادہ) چلانا چاہتے ہیں جن کے ساتھ ہم نے تحریک چلائی۔" انہوں نے اعتماد کا اظہار کیا کہ ان کی پارٹی تاریخی انتخابات میں کامیابی حاصل کرے گی۔
یہ پوچھے جانے پر کہ وہ کتنی نشستوں کے جیتنے کی توقع کرتے ہیں؟ تو طارق رحمان نے جواب دیا کہ "ہم پُرامید ہیں کہ ہم کافی حلقے جیتیں گے تاکہ ہم ملک پر اچھی طرح سے حکومت کرسکیں۔"
بنگلہ دیش جماعت اسلامی کے امیر ڈاکٹر شفیق الرحمان نے کارکنان کو نتائج آنے تک پولنگ اسٹیشنز کی نگرانی کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ ہوشیار رہیں اور ثابت قدمی سے کھڑے رہیں۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری اپنے بیان میں شفیق الرحمان نے الزام لگایا کہ ملک کے مختلف علاقوں میں جعلی ووٹ ڈالنے کی کوششیں کی گئی۔
انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ ووٹ کے حق کے تحفظ کے لیے نتائج کے اعلان تک اپنے متعلقہ پولنگ اسٹیشنز کی نگرانی کریں۔
امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ میرے عزیز ہم وطنو! آج آپ کی فتح کا دن ہے۔ آج آپ کی آزادی کا دن ہے، کچھ لوگ ایسے ہو سکتے ہیں جو آپ سے وہ چھیننے کی کوشش کریں جو آپ کا حق ہے، جو آپ کے حقوق پر قبضہ جمانا چاہیں۔
ڈاکٹر شفیق الرحمان نے مزید کہا کہ انہیں ایسا کرنے کی اجازت مت دیجیے۔ یہی وہ ناانصافی ہے جس کے خلاف ہم گزشتہ 17 برس سے جدوجہد کرتے آرہے ہیں، اسی لیے ہمیں ہرگز اجازت نہیں دینی چاہیے کہ وہ باب دوبارہ کھلے یا اس کی بدصورت شکل ایک بار پھر سر اٹھائے۔
1991، 1996 اور 2001 کے انتخابات کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ان انتخابات کے نتائج معمول کے وقت میں سامنے آئے تھے اور امید ظاہر کی کہ اس بار بھی اسی طرح بروقت نتائج کا اعلان کیا جائے گا۔
قبل ازیں بنگلہ دیش کے چیف آف آرمی اسٹاف جنرل وقار الزمان نے جولائی کی بغاوت کے بعد طویل عرصے سے منتظر اس ووٹنگ کے حوالے سے اپنے جوش و خروش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ گزشتہ ڈیڑھ سال سے اس دن کا بے چینی سے انتظار کر رہے تھے اور انہیں ایک منصفانہ انتخاب کی امید ہے، جبکہ چیف ایڈوائزر محمد یونس نے انتخابات کو قومی خوشی اور تجدید کا لمحہ قرار دیا۔
چیف آف آرمی اسٹاف نے آدم جی کینٹونمنٹ کالج کے پولنگ اسٹیشن پر اپنا ووٹ ڈالنے کے بعد کہا، "آج انتخابات جاری ہیں۔ ووٹنگ کے لیے خوشگوار ماحول قائم ہے۔ مجھے ملک بھر سے اطلاعات موصول ہوئی ہیں اور میری رپورٹس کے مطابق ہر جگہ پُرامن طور پر ووٹنگ ہو رہی ہے۔"
انہوں نے مزید کہا، "میں تمام ووٹروں سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ پولنگ مراکز پر جائیں اور بلا خوف و خطر اپنا حقِ رائے دہی استعمال کریں۔ آج ہمارے لیے بہت اہم دن ہے۔" انہوں نے منصفانہ انتخابات کے انعقاد کو یقینی بنانے کے عزم کا بھی اظہار کیا۔
آرمی چیف نے میڈیا کے کردار کو بھی سراہا اور کہا کہ اگرچہ وہ خود ووٹ نہیں ڈال سکتے، تاہم وہ عوام کو صورتحال سے آگاہ کرکے اور شہریوں کو ووٹ ڈالنے کی ترغیب دے کر اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔
ادھر چیف ایڈوائزر محمد یونس نے صبح اپنا ووٹ ڈالنے کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انتخابات کو سراہا اور کہا "یہ بے حد خوشی کا دن ہے۔ آج ایک نئے بنگلہ دیش کی سالگرہ ہے۔ ہم اس سالگرہ کو پورا دن منائیں گے،" اور شہریوں سے اپیل کی کہ وہ بلا خوف و خطر ریفرنڈم میں حصہ لیں۔
انہوں نے کہا "آج سے ہمیں ہر قدم پر ایک نیا بنگلہ دیش تعمیر کرنے کا موقع ملا ہے۔ کسی امیدوار کو ووٹ دینا اہم ہے، لیکن ریفرنڈم بہت اہم ہے۔ پورا بنگلہ دیش بدل جائے گا۔"
واضح رہے کہ بنگلہ دیش میں عام انتخابات کیلئے ووٹنگ کا عمل مکمل ہوگیا جہاں انتخابات میں 50 سیاسی جماعتیں شریک ہیں جب کہ 12 کروڑ 70 لاکھ سے زائد ووٹرز ہیں۔
ملک بھر کے 299 حلقوں میں مقامی وقت کے مطابق صبح 7:30 بجے شروع ہونے والی پولنگ شام 4:30 بجے تک جاری رہی۔
300 پارلیمانی نشستوں کے لیے بنگلا دیش نیشنلسٹ پارٹی، بنگلا دیش کی جماعت اسلامی، نیشنل سٹیزن پارٹی اور جماعتی پارٹی سمیت دیگر پارٹیوں کے امیدواروں میں مقابلہ ہے جب کہ حکومت بنانے کے لیے 300 میں سے 151 نشستوں پر اکثریت حاصل کرنا لازم ہے
شیئر کریں:

More from عالمی خبریں

غزہ میں اسرائیلی جنگ کے تین سال بعد تباہی کی ہولناک تصویرسے پوری دنیا حیران
عالمی خبریں

غزہ میں اسرائیلی جنگ کے تین سال بعد تباہی کی ہولناک تصویرسے پوری دنیا حیران

29 ستمبر، 2026
امریکہ و چین 60 ارب ڈالر مالیت کی مصنوعات پر ٹیرف کم کرنے پر متفق
عالمی خبریں

امریکہ و چین 60 ارب ڈالر مالیت کی مصنوعات پر ٹیرف کم کرنے پر متفق

28 ستمبر، 2026
 آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے و اقوام متحدہ کے جوہری معائنہ کاروں کو ایران آنے کی اجازت دینے کا اعلان
عالمی خبریں

آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے و اقوام متحدہ کے جوہری معائنہ کاروں کو ایران آنے کی اجازت دینے کا اعلان

26 ستمبر، 2026
ہم فلسطین کے معاملے میں ناکام ہیں، آئرش وزیر اعظم مارٹن کا اقوام متحدہ میں خطاب
عالمی خبریں

ہم فلسطین کے معاملے میں ناکام ہیں، آئرش وزیر اعظم مارٹن کا اقوام متحدہ میں خطاب

25 ستمبر، 2026
دو عظیم رہنما ؤں کی نازک تجارتی جنگ بندی برقرار رکھنے کی کوشش
عالمی خبریں

دو عظیم رہنما ؤں کی نازک تجارتی جنگ بندی برقرار رکھنے کی کوشش

24 ستمبر، 2026
ایرانی پاسداران انقلاب کا امریکہ کے ساتھ طویل جنگ کے لیے تیار ہونے کا اعلان، نئی صلاحیتیں استعمال کرنے کی دھمکی
عالمی خبریں

ایرانی پاسداران انقلاب کا امریکہ کے ساتھ طویل جنگ کے لیے تیار ہونے کا اعلان، نئی صلاحیتیں استعمال کرنے کی دھمکی

21 ستمبر، 2026