وانگچک کو جنتر منتر سے ہٹانے پر اپوزیشن پارٹیوں نے مرکز پر جمہوری حقوق کو دبانے کا لگایا الزام
Awaz E Bihar••44 ویوز•4 منٹ پڑھیں
کانگریس سمیت اہم اپوزیشن پارٹیوں کے رہنماؤں نے گزشتہ 20 دنوں سے بھوک ہڑتال کر رہے ماہر تعلیم اور حقوق کے کارکن سونم وانگچک کو ہفتہ کو جنتر منتر سے ہٹائے جانے پر مرکز کی حکومت پر جم کر تنقید کی اور اس کارروائی کو جمہوری حقوق کو دبانے کے رجحان کی علامت قرار دیا۔ اس دوران مرکز میں برسراقتدار بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے وانگچک کی صحت کے معاملے پر اپوزیشن پارٹیوں کی سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ کیا اپوزیشن صرف سیاسی تماشہ برقرار رکھنے کے لیے ان کی حالت اور خراب کرنا پسند کرتا ہے؟ کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے نے کہا کہ جنتر منتر پر پیش آنے والا واقعہ جمہوریت اور آئین پر ایک اور سیاہ داغ ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ کسانوں، خاتون پہلوانوں، دلتوں-قبائلیوں اور پیپر لیک سے متاثرہ طلبہ سمیت مختلف طبقات کی آواز کو حکومت لگاتار ان سنا کرتی رہی ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ جمہوری احتجاج کو دبانے کا یہ رجحان تشویشناک ہے۔ کانگریس کے سابق صدر اور لوک سبھا میں حزب اختلاف کے لیڈر راہل گاندھی نے وانگچک کو جنتر منتر سے ہٹا کر اسپتال میں داخل کرانے کے حکومت کے فیصلے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ 'جھوٹ اور تشدد' پر مبنی حکومت ہر معاملے میں غلط فیصلہ لیتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسٹر وانگچک عوامی مفاد کے مسائل پر پرامن بھوک ہڑتال کر رہے تھے، لیکن حکومت نے انہیں جنتر منتر سے ہٹا کر غلط قدم اٹھایا ہے۔ سوالنامہ لیک، تعلیم کی بڑھتی ہوئی لاگت اور طلبہ کی خودکشیاں ملک کے مستقبل سے جڑے سنگین مسائل ہیں، جنہیں طاقت کے استعمال سے دبایا نہیں جا سکتا۔ 'طلبہ کی گونج' مہم کے ذریعے طلبہ اپنی آواز اٹھاتے رہیں گے اور کوئی بھی طاقت انہیں روک نہیں سکتی۔ سماجوادی پارٹی کے صدر اکھلیش یادو نے کہا کہ "سونم وانگچک جی کو 'طاقت کا استعمال' کر کے، زبردستی ان کی بھوک ہڑتال کی جگہ سے اٹھا کر لے جانا انتہائی قابل مذمت خبر ہے۔ آج صبح کا یہ واقعہ تھوڑی ہی دیر میں پوری دنیا اور ملک بھر میں پھیل چکا ہے۔ ساری دنیا اور ملک بھر میں سونم وانگچک جی کے تعلق سے گہری تشویش ہے اور بی جے پی حکومت کے خلاف غصہ بھی۔ جو لوگ سادہ وردی میں اس کارروائی کو انجام دینے کے لیے دھوکے سے اچانک گھسے تھے، ان کی شناخت عام کی جائے۔" عام آدمی پارٹی کے سینئر رہنما اور رکن پارلیمنٹ سنجے سنگھ نے الزام لگایا کہ حکومت 20 جولائی کو مجوزہ پارلیمنٹ مارچ سے گھبرا گئی اور اسی وجہ سے پولیس کے ذریعے وانگچک کو زبردستی اسپتال بھیجا گیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ پولیس نے مظاہرین پر لاٹھی چارج بھی کیا تاکہ تحریک کو دبایا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ وانگچک کروڑوں نوجوانوں کی آواز اٹھا رہے تھے، لیکن 20 دنوں تک حکومت کا کوئی نمائندہ ان سے بات چیت کرنے نہیں پہنچا۔ صنعت کار رابرٹ واڈرا نے کہا کہ وانگچک کی بگڑتی ہوئی طبیعت کے درمیان انہیں احتجاج گاہ سے ہٹا کر اسپتال لے جانا کئی سنگین سوالات کھڑے کرتا ہے۔ جمہوریت میں عوام کی آواز کو دبایا نہیں جاتا، بلکہ مذاکرات اور حساسیت کے ساتھ سنا جاتا ہے۔ انہوں نے حکومت سے مسٹر وانگچک کے مطالبات پر سنجیدگی سے غور کرنے اور باعزت و پرامن حل نکالنے کی اپیل کی۔ اپوزیشن رہنماؤں کے الزامات کے درمیان بی جے پی کے آئی ٹی سیل کے سربراہ امت مالویہ نے سوشل میڈیا 'ایکس پر لکھا، "مسٹر وانگچک کی شروعاتی میڈیکل رپورٹ اب پبلک ڈومین میں ہے جس میں لکھا ہے کہ طبی جانچ ان کی اپنی رضامندی سے کی گئی تھی تو آخر غصہ کس بات کا ہے؟ دہلی ہائی کورٹ کی ہدایات کے بعد حکام نے بھوک ہڑتال کے دوران ان کی طبیعت بگڑنے کے بعد ٹھیک ہونے میں مدد کے لیے اسپتال میں داخل کرایا۔ انہوں نے سوالیہ لہجے میں کہا کہ "کیا اپوزیشن صرف سیاسی تماشہ برقرار رکھنے کے لیے ان کی حالت اور خراب کرنا پسند کرتی؟ ایسی صورتحال میں وقت پر میڈیکل کیئر یقینی بنانا ذمہ دارانہ قدم ہے، نہ کہ من گھڑت تنازع کا موضوع۔" واضح رہے کہ وانگچک کو آج صبح دہلی پولیس جنتر منتر سے وردھمان مہاویر میڈیکل کالج (وی ایم ایم سی) اور صفدرجنگ اسپتال لے کر گئی۔ ڈاکٹروں نے بتایا کہ 20 دنوں کی بھوک ہڑتال کی وجہ سے ان کے جسم میں پانی کی کمی (ڈی ہائیڈریشن) اور پوٹاشیم کی کمی کی علامات پائی گئی ہیں۔ انہوں نے نسوں سے دوا لینے (آئی وی فلوئڈ)، او آر ایس اور دیگر دوائیں لینے سے انکار کر دیا ہے۔ ڈاکٹروں کے مطابق ان کی حالت مستحکم ہے اور ان کی لگاتار نگرانی کی جا رہی ہے۔