جمعرات، 1 اکتوبر، 2026
اردوहिन्दीEnglish
آواز ای بہار
آواز ای بہار
ہومای پیپرویڈیوزقومیسیاستکھیلتعلیمبہارقومیسیاستکھیلصحتتعلیممضامینعالمی خبریں
اہمقومیسیاستکھیلتعلیمبہارقومیسیاستکھیلصحتتعلیممضامینعالمی خبریں

آواز ای بہار

بہار کی آواز — اردو، ہندی اور انگریزی میں تازہ ترین خبریں

زمرے

  • مقامی
  • قومی
  • سیاست
  • کاروبار
  • ٹیکنالوجی
  • کھیل
  • صحت
  • تعلیم

فوری لنکس

  • ہوم
  • ای پیپر
  • ویڈیوز
  • دن کی تصویر
  • ہمارے بارے میں
  • رابطہ کریں
  • پرائیویسی پالیسی
  • شرائط و ضوابط

نیوز روم

  • ادارتی پالیسی
  • تصحیح و شکایات
  • اشتہارات
  • نیوز روم رابطہ

زبانیں

  • اردو (Urdu)
  • हिन्दी (Hindi)
  • English

ہمیں فالو کریں

Email: awazebihar@gmail.com

Phone: +91-9473486854

© 2026 Awaz E Bihar Publications. جملہ حقوق محفوظ ہیں

Designed and Developed byZeloiteZeloite
ایران کے ساتھ جنگ ختم ہو گئی وائٹ ہاؤس کا اعلان
  1. ہوم
  2. عالمی خبریں
عالمی خبریں

ایران کے ساتھ جنگ ختم ہو گئی وائٹ ہاؤس کا اعلان

Awaz E Bihar•2 مئی، 2026 کو 04:00 PM•3 ویوز•7 منٹ پڑھیں

وائٹ ہاؤس نے کانگریس کو آگاہ کیا ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ ختم ہوگئی ہے۔ ترجمان وائٹ ہاؤس نے بتایا کہ مشرق وسطیٰ میں امریکی افواج کی موجودگی کے باوجود جنگ ختم ہوچکی۔ واضح رہے کہ وار پاورز سے متعلق کانگریس کی مقرر ڈیڈ لائن کا آج آخری دن تھا۔ جب کہ ٹرمپ نے میڈیا سے گفتگو میں وار پاورز کے حکم کو غیر آئینی قرار دیا تھا۔ پولیٹکو کی رپورٹ کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعہ کے روز قانون سازوں کو آگاہ کیا کہ ایران کے ساتھ جنگ ’’ختم ہو چکی ہے۔‘‘تاہم پولیٹکو نے لکھا کہ یہ اقدام دراصل اس بحث کو ٹھنڈا کرنے کی ایک کوشش ہے کہ آیا اس جنگ کے لیے کانگریس کی منظوری ضروری ہے یا نہیں۔ وائٹ ہاؤس نے ایک خط میں اپنی دلیل پیش کی کہ مشرقِ وسطیٰ کا تنازع 60 روزہ قانونی حد تک پہنچ گیا ہے، جس کے بعد کارروائیاں روکنا لازم ہوتا ہے، جب تک قانون ساز فوجی کارروائی کی اجازت نہ دیں۔
یہ خط کیپیٹل ہل میں بڑھتی ہوئی سیاسی کشمکش کو روکنے کی کوشش ہے، جہاں جنگ دوسرے مہینے میں داخل ہونے کے باوجود واضح حکمتِ عملی نہ ہونے پر ٹرمپ کو اپنی جماعت ریپبلکن پارٹی کی حمایت کھونے کا خدشہ ہے۔ تاہم وائٹ ہاؤس کی یہ منطق ڈیموکریٹس اور کچھ ریپبلکنز کو قابلِ قبول نہیں، جو کہتے ہیں کہ اس مرحلے پر انتظامیہ کو مہم ختم کر دینی چاہیے۔
ٹرمپ نے لکھا ’’7 اپریل 2026 کے بعد امریکہ اور ایران کے درمیان کوئی فائرنگ کا تبادلہ نہیں ہوا۔‘‘ انھوں نے اس جنگ بندی کا حوالہ دیا جسے انھوں نے غیر معینہ مدت تک بڑھا دیا ہے۔ 28 فروری 2026 کو شروع ہونے والی دشمنیاں ختم ہو چکی ہیں۔ یہ خط ایسے وقت میں بھی سامنے آیا ہے جب مذاکرات تعطل کا شکار ہیں اور ایران کی بندرگاہوں کی فوجی ناکہ بندی جاری ہے۔ جمعہ کو فلوریڈا روانگی سے قبل صحافیوں سے گفتگو میں صدر نے کہا کہ انھوں نے ایران کو حتمی پیش کش کر دی ہے، تاہم وہ اس کے ’’منتشر‘‘ حکومت کے ساتھ معاہدے کے امکانات کے بارے میں پُرامید نہیں۔ ٹرمپ نے ایرانی تجاویز سے متعلق کہا ’’انھوں نے کچھ پیش رفت کی ہے، مگر مجھے نہیں لگتا کہ وہ کبھی وہاں تک پہنچیں گے۔ میں کہوں گا کہ میں خوش نہیں ہوں۔ وہ معاہدہ کرنا چاہتے ہیں، لیکن میں مطمئن نہیں ہوں۔‘‘واضح رہے کہ 1973 کا’’وار پاورز ریزولوشن‘‘ تقاضہ کرتا ہے کہ صدر کی جانب سے کانگریس کو اطلاع دینے کے 60 دن بعد امریکی افواج کو کسی تنازع سے واپس بلا لیا جائے، جب تک قانون ساز مزید فوجی کارروائی کی منظوری نہ دیں۔ وائٹ ہاؤس کے پاس یہ اختیار بھی ہے کہ وہ تنازع کو سمیٹنے کے لیے مزید 30 دن کی توسیع طلب کرے۔ ٹرمپ نے جمعرات کو ان قانون سازوں پر تنقید کی جو منظوری کا مطالبہ کر رہے تھے۔ انھوں نے کہا ''مجھے نہیں لگتا کہ وہ جو مطالبہ کر رہے ہیں وہ آئینی ہے… یہ محبِ وطن لوگ نہیں ہیں۔
دوسری طرف وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے جمعرات کو کیپیٹل ہل میں اس قانونی مؤقف کا عندیہ دیا جس کے تحت انتظامیہ مشرقِ وسطیٰ میں کارروائیاں جاری رکھنا چاہتی ہے۔ انھوں نے سینیٹ کی سماعت میں کہا کہ جنگ بندی نے دراصل 60 دن کی گھڑی کو روک دیا ہے۔
1973 کے قانون کے تحت ٹرمپ کے اختیارات کو محدود کرنے کے حامیوں کا کہنا ہے کہ صدر اس قانون کی غلط تشریح کر رہے ہیں۔ انھوں نے اس بات کی نشان دہی بھی کی کہ جنگ بندی کے باوجود امریکی فوج ایران پر دباؤ ڈالنے کے لیے ناکہ بندی جاری رکھے ہوئے ہے، جب کہ تقریباً 50 ہزار امریکی فوجی اب بھی مشرقِ وسطیٰ میں تعینات ہیں۔ ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ ماضی کے صدور نے بھی 60 دن کی حد کی پابندی نہیں کی اور کہا ’’بہت سے صدور نے اس حد سے تجاوز کیا ہے… ہر دوسرے صدر نے اسے غیر آئینی سمجھا۔‘‘ پینٹاگون حکام کے مطابق امریکی افواج اب بھی تیار حالت میں ہیں اور اگر امن مذاکرات ناکام ہوئے تو ایران پر حملے دوبارہ شروع کیے جاسکتے ہیں۔ ڈیموکریٹ سینیٹر ٹِم کین نے کہا کہ فوجیوں کو علاقے سے واپس بلائے بغیر جنگ کے خاتمے کا اعلان کرنا ’’بالکل غلط‘‘ ہے۔ تاہم انھوں نے کہا کہ انتظامیہ کو جواب دہ ٹھہرانے کے لیے ریپبلکنز کو بھی ڈیموکریٹس کا ساتھ دینا ہوگا، کیوں کہ یہ ایک غیر مقبول جنگ ہے۔وہیں دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جاری تنازع سے جلد باہر نہ نکلنے کا اعلان کردیا۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے فلوریڈا میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مقاصد کے حصول تک تنازع سے نہیں نکل سکتےکیونکہ اس سے مسئلہ چند سالوں بعد دوبارہ پیدا ہوسکتا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر اعلان کیا کہ ایران کو ایٹمی ہتھیار حاصل نہیں کرنے دیں گے، ساتھ یہ بھی کہا کہ اگر ایران کو نہ روکتے تو اسرائیل اور یورپ کے پرزے پرزے کیے جاچکے ہوتے۔
امریکی صدر نے فلوریڈا میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ایران کے پاس بحریہ، فضائیہ اور کوئی قیادت نہیں رہی، ایران کی قیادت باقی نہ رہنے پر افسوس ہے، وہ بہت اچھے لوگ تھے، ایران کی پہلے اور دوسرے درجےکی قیادت ماری جا چکی، یہ برے لوگ تھے، انہوں نے 45 ہزار مظاہرین کو ہلاک کیا۔
صدر ٹرمپ نے کہا ایران سے متعلق بات کرنا پسند نہیں کرتا جب تک وہاں کام مکمل نہ ہو جائے، ایران سے متعلق یہ کام پچھلے صدور کے دور میں کر دینا چا ہیے تھا۔ صدر ٹرمپ نے کہا کہ آبنائے ہرمز میں تیل سے بھرے 400 بحری جہاز کھڑے ہیں، یہ جہاز وہاں سے نکل آئے تو ایندھن کی قیمتیں بہت کم ہو جائیں گی۔
فلوریڈا میں عشایئے سے خطاب میں صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایران ایسا ملک ہے جس کی قیادت کے لیے بھی کوئی تیار نہیں۔ ٹرمپ بولے ہم نے ویت نام میں 19 سال گزارے، عراق میں 12 سال گزارے، ایران میں صرف 6ہفتے گزارے ہیں اور کہا جا رہا ہے کہ اتنی دیر کیوں ہو رہی ہے؟
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر کا کہنا تھا کہ ایران کے ساتھ بات چیت کا سلسلہ تو چل رہا ہے لیکن تاحال کسی نتیجے پر نہیں پہنچ سکے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایران کے حوالے سے صرف دو ہی آپشن موجود ہیں، یا تو اسے ختم کر دیا جائے یا پھر کوئی باقاعدہ ڈیل کی جائے۔
صدر ٹرمپ نے کہا کہ انہیں یقین نہیں ہے کہ دونوں ممالک کسی معاہدے تک پہنچ پائیں گے، دیگر امور پر گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر نے بتایا کہ انہوں نے عراق کے نامزد وزیراعظم سے بات کی ہے اور وہ ان کی بھرپور حمایت کرتے ہیں۔ تاہم انہوں نے اٹلی اور اسپین کے رویے پر ناراضگی کا اظہار کیا۔ چین کے حوالے سے انہوں نے امید ظاہر کی کہ ان کا آئندہ دورہِ چین بہت شاندار رہے گا۔ دوسری جانب ایرانی سرکاری میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران نے امریکہ کے ساتھ مذاکرات کے لیے نئی تجاویز پر مبنی ایک مسودہ پاکستان کے حوالے کر دیا ہے، تاکہ اسے پاکستان کے ذریعے امریکی حکام تک پہنچایا جا سکے۔ یاد رہے کہ خطے کی صورتحال کے تناظر میں پاکستان دونوں ممالک کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کر رہا ہے۔
شیئر کریں:

More from عالمی خبریں

غزہ میں اسرائیلی جنگ کے تین سال بعد تباہی کی ہولناک تصویرسے پوری دنیا حیران
عالمی خبریں

غزہ میں اسرائیلی جنگ کے تین سال بعد تباہی کی ہولناک تصویرسے پوری دنیا حیران

29 ستمبر، 2026
امریکہ و چین 60 ارب ڈالر مالیت کی مصنوعات پر ٹیرف کم کرنے پر متفق
عالمی خبریں

امریکہ و چین 60 ارب ڈالر مالیت کی مصنوعات پر ٹیرف کم کرنے پر متفق

28 ستمبر، 2026
 آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے و اقوام متحدہ کے جوہری معائنہ کاروں کو ایران آنے کی اجازت دینے کا اعلان
عالمی خبریں

آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے و اقوام متحدہ کے جوہری معائنہ کاروں کو ایران آنے کی اجازت دینے کا اعلان

26 ستمبر، 2026
ہم فلسطین کے معاملے میں ناکام ہیں، آئرش وزیر اعظم مارٹن کا اقوام متحدہ میں خطاب
عالمی خبریں

ہم فلسطین کے معاملے میں ناکام ہیں، آئرش وزیر اعظم مارٹن کا اقوام متحدہ میں خطاب

25 ستمبر، 2026
دو عظیم رہنما ؤں کی نازک تجارتی جنگ بندی برقرار رکھنے کی کوشش
عالمی خبریں

دو عظیم رہنما ؤں کی نازک تجارتی جنگ بندی برقرار رکھنے کی کوشش

24 ستمبر، 2026
ایرانی پاسداران انقلاب کا امریکہ کے ساتھ طویل جنگ کے لیے تیار ہونے کا اعلان، نئی صلاحیتیں استعمال کرنے کی دھمکی
عالمی خبریں

ایرانی پاسداران انقلاب کا امریکہ کے ساتھ طویل جنگ کے لیے تیار ہونے کا اعلان، نئی صلاحیتیں استعمال کرنے کی دھمکی

21 ستمبر، 2026