ایران کے ساتھ جنگ بہت جلد ختم ہو جائے گی: ٹرمپ کا دعویٰ
Awaz E Bihar••13 ویوز•3 منٹ پڑھیں
واشنگٹن :امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے حوالے سے معاملات درست سمت میں آگے بڑھ رہے ہیں اور جنگ بہت جلد ختم ہو جائے گی۔ انہوں نے ایک بار پھر اس عزم کا اظہار کیا کہ ایران کبھی جوہری ہتھیار حاصل نہیں کر سکے گا۔ٹرمپ نے حالیہ دنوں میں اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ ’ٹروتھ سوشل‘ کے ذریعے تہران کو مسلسل دھمکی آمیز پیغامات دیے ہیں۔ہفتے کے روز آئرلینڈ کے دارالحکومت ڈبلن میں آئرلینڈ کی صدر کیتھرین کونولی سے ملاقات کے بعد صحافیوں نے ان سے سوال کیا کہ کیا وہ آبنائے ہرمز سے بحری آمدورفت کی روانی یقینی بنانے میں مدد کر سکتے ہیں؟اس کے جواب میں ٹرمپ نے کہا کہ سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا۔انہوں نے مزید کہا کہ جنگ بہت جلد ختم ہو جائے گی اور اس کے بعد تیل کی قیمتیں بہت تیزی سے نیچے آ جائیں گی۔ ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ ان کے خیال میں تہران کے پاس ایسے میزائل موجود ہیں جو یورپی شہروں کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔ٹرمپ نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا:میرے خیال میں یہ بہت جلد ہو جائے گا۔ غالباً وسط مدتی انتخابات کے فوراً بعد۔ وہ زیادہ سے زیادہ دیر تک مزاحمت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں تاکہ انتخابات کو پیچیدہ بنایا جا سکے، لیکن میرا خیال ہے کہ لوگ اس بات سے آگاہ ہیں۔ سعودی تیل پائپ لائن کو نشانہ بنانے والے حملے پر تبصرہ کرتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان ان کے بہت قریبی دوست ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ غالب امکان ہے کہ اس حملے کی ذمہ داری ایران پر عائد ہوتی ہے۔یہ بیان امریکی صدر کی جانب سے گزشتہ روز جمعے کو ایک بار پھر اس یقین دہانی کے بعد سامنے آیا کہ امریکہ تہران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دے گا۔یہ پیش رفت ایسے وقت میں بھی ہوئی، جب بحری جہازوں کو موصول ہونے والی ای میلز سے انکشاف ہوا کہ امریکہ نے آئل ٹینکرز کے لیے آبنائے ہرمز عبور کرنے کے نئے اوقات مقرر کیے ہیں، جن کے دوران انہیں امریکی فضائی تحفظ حاصل ہوگا۔یہ اقدام تجارتی جہازوں، خصوصاً رات کے اوقات میں، ایرانی حملوں میں اضافے کے بعد کیا گیا ہے۔بحری جہازوں کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ مخصوص اوقات مثلاً صبح 9 بجے اپنے سفر کا آغاز کریں۔گزشتہ کچھ عرصے کے دوران امریکی اور ایرانی فریقوں کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔ اس کی وجہ گزشتہ جون میں ہونے والے معاہدے کا خاتمہ تھا، جس کے بعد توجہ اس اہم بحری راستے پر مرکوز ہو گئی ہے۔گزشتہ چند روز کے دوران یہاں ایران اور امریکہ کے درمیان کشتیوں کی جنگ جیسی صورتحال بھی دیکھنے میں آئی ہے۔واضح رہے کہ رواں سال 28 فروری کو ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ شروع ہونے کے بعد ایرانی دھمکیوں کے باعث آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت بڑی حد تک مفلوج ہو گئی ہے۔ عام طور پر اس آبنائے سے روزانہ تقریباً 125 بڑے تجارتی بحری جہاز گزرتے تھے، جن میں تیل اور گیس کے ٹینکرز، بلک کارگو جہاز اور کنٹینر بحری جہاز شامل ہیں، تاہم اب ان کی تعداد کم ہو کر چند درجن رہ گئی ہے۔آبنائے ہرمز سے دنیا بھر میں روزانہ استعمال ہونے والے خام تیل اور مائع قدرتی گیس کی تقریباً 20 فیصد سپلائی گزرتی تھی۔دوسری جانب ایران سے منسلک بحری تجارت پر عائد امریکی ناکہ بندی کے باعث جولائی کے وسط میں پابندیاں دوبارہ عائد کیے جانے کے بعد ایران کی خام تیل کی برآمدات بھی رک گئی ہیں۔