واشنگٹن اپنی مشرق وسطیٰ پالیسی کو اسرائیل کے تابع نہیں ہونے دے سکتا:جے ڈی وینس
Awaz E Bihar••12 ویوز•4 منٹ پڑھیں
امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا ہے کہ واشنگٹن اپنی ’’مشرق وسطیٰ کی پالیسی کو اسرائیل کے تابع‘‘ نہیں ہونے دے سکتا اور اسے امریکی مفادات کو اولین ترجیح دینی چاہیے۔ منگل کو آل اِن پوڈکاسٹ کے زیر اہتمام ایک کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وینس نے اسرائیل کو فوجی ٹیکنالوجی اور انٹیلی جنس کے تبادلے میں امریکہ کا ایک اہم شراکت دار قرار دیا، تاہم کہا کہ دونوں حکومتیں ہر معاملے پر متفق نہیں ہوتیں۔ انہوں نے کہا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس وقت اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو سے اختلاف کرنے پر آمادگی ظاہر کی ہے جب انہیں محسوس ہوتا ہے کہ امریکی اور اسرائیلی مفادات ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔ وینس نے نیتن یاہو کے عرفی نام ’’بی بی‘‘ کا استعمال کرتے ہوئے کہا، میرے خیال میں گزشتہ 40 برس کے تقریباً ہر صدر کے مقابلے میں انہوں نے اس بات پر اختلاف کرنے کے لیے زیادہ آمادگی ظاہر کی ہے کہ جب انہیں محسوس ہو کہ امریکی عوام کے مفادات اسرائیلی حکومت کے مفادات سے مختلف ہیں تو وہ بی بی نیتن یاہو سے راستہ الگ کر سکتے ہیں۔ وینس نے کہا کہ ٹرمپ اس بات کو تسلیم کرنے کے لیے تیار رہے ہیں کہ اسرائیل کے نقطۂ نظر سے نیتن یاہو درست ہو سکتے ہیں، لیکن اس کے باوجود امریکہ کے لیے مختلف طریقہ اختیار کرنا ضروری ہو سکتا ہے۔ انہوں نے کہا، ’اس تعلق سمیت تمام تعلقات کو امریکی مفاد کی بنیاد پر استوار کرنا ہی اس معاملے پر حقیقت پسندانہ گفتگو کا راستہ ہے۔‘‘ انہوں نے واشنگٹن کے نیٹو کے ساتھ تعلقات کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ اگرچہ امریکہ کے یورپی اتحادیوں کے ساتھ اہم شراکت داریاں ہیں، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ امریکی خارجہ پالیسی اس اتحاد کے تابع ہو جائے۔ وینس نے کہا، ''ہم جب کسی کے ساتھ کام کریں گے تو کریں گے، جب اختلاف ہوگا تو اختلاف کریں گے، اور ہم امریکہ کے مفادات کو آگے بڑھائیں گے۔ یہی ایک حقیقت پسندانہ خارجہ پالیسی اختیار کرنے کا واحد طریقہ ہے۔ دریں اثنا، اسرائیل میں امریکی سفیر مائیک ہکابی نے کہا کہ ٹرمپ اور نیتن یاہو کے درمیان تعلقات بدستور مضبوط ہیں۔ بدھ کو شائع ہونے والے 'وائی نیٹ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں ہکابی نے کہا کہ دونوں ممالک انتہائی قریبی تعاون کر رہے ہیں اور اشارہ دیا کہ ان کا تعاون عوامی سطح پر سامنے آنے والی معلومات سے کہیں زیادہ وسیع ہے۔ امریکہ میں اسرائیل کی حمایت میں کمی کے حوالے سے ہکابی نے اس کی وجہ وہ چیز قرار دی جسے انہوں نے غلط معلومات کہا۔انہوں نے یہ دلیل بھی دی کہ ایران کے ساتھ امریکہ کا تصادم صرف اسرائیل کے تحفظ کے لیے نہیں ہے۔ ہکابی نے کہاجب ہم ایران کے خلاف شراکت داری کر رہے ہیں تو ہم اسرائیل کا دفاع نہیں کر رہے، ہم امریکہ کا دفاع کر رہے ہیں۔انہوں نے ایران کی جانب سے طویل عرصے سے جاری امریکہ مردہ باد کے نعروں کا حوالہ دیا۔انہوں نے مزید کہا اسرائیل شاید ابتدائی پیش خیمہ ہے، لیکن اصل ہدف ہم ہیں۔ ہکابی نے اس دعوے کو مسترد کیا کہ اسرائیل نے ٹرمپ کو ایران کے ساتھ جنگ میں دھکیلا اور کہا کہ صدر نے یہ فیصلہ آزادانہ طور پر کیا۔انہوں نے کہاانہوں نے یہ فیصلہ اپنی مرضی سے کیا۔جب ان سے پوچھا گیا کہ اگر اسرائیل کو کسی وجودی خطرے سے بچانے کے لیے امریکہ کو ایران یا کسی دوسری طاقت کے ساتھ جنگ میں جانا پڑے تو کیا امریکہ ایسا کرے گا، تو ہکابی نے کہااگر یہ امریکہ کے بہترین مفاد میں ہوا تو صدر کارروائی کریں گے۔ لیکن یہی وہ کام ہے جو ان سے مطلوب ہے۔انہوں نے مغربی کنارے میں انتہا پسند آباد کاروں کے تشدد پر بھی بات کی، جس کی وہ پہلے بھی مذمت کر چکے ہیں۔ ہکابی نے زور دیا کہ وہ نہیں سمجھتے کہ ایسے واقعات کے ذمہ دار افراد پوری آباد کار برادری کی نمائندگی کرتے ہیں۔ انہوں نے کہامیں نے کبھی بھی ان تمام کارروائیوں کو آباد کاروں سے منسوب نہیں کیا۔ درحقیقت، میں کہتا ہوں کہ یہ آباد کار نہیں بلکہ 'اَن سیٹلرز ہیں۔