مغربی بنگال: آج اسمبلی میں یکساں سول کوڈ (یو سی سی) بل پیش ہونے کا امکان نہیں
Awaz E Bihar••45 ویوز•3 منٹ پڑھیں
مغربی بنگال اسمبلی میں پیر کو مجوزہ یکساں سول کوڈ (یو سی سی) بل پیش کیے جانے کا امکان نہیں ہے۔ اس کے بجائے ریاستی حکومت اس معاملے کا جائزہ لینے کے لیے ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل دے سکتی ہے۔ اسمبلی ذرائع کے مطابق مستقبل میں بل پیش کیا جائے گا یا نہیں، اس کا انحصار مجوزہ کمیٹی کی سفارشات یا اس کی رپورٹ پر ہوگا۔ تاہم کمیٹی کے ارکان اور اس کے طریقۂ کار کے بارے میں ابھی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا ہے۔ ریاستی اسمبلی کے بجٹ اجلاس کا پہلا مرحلہ پیر کو اختتام پذیر ہو رہا ہے، جبکہ دوسرا مرحلہ 7 جولائی سے شروع ہوگا۔ گزشتہ چند دنوں سے یہ قیاس آرائیاں جاری تھیں کہ ریاست کی بی جے پی حکومت اجلاس کے پہلے مرحلے کے آخری دن اسمبلی میں یو سی سی بل پیش کر سکتی ہے، لیکن ریاستی حکومت کے ذرائع کا کہنا ہے کہ اس بل کو ابھی تک محکمہ قانون کی منظوری حاصل نہیں ہوئی ہے۔ یہ محکمہ مغربی بنگال کے وزیر اعلیٰ شوبھیندو ادھیکاری کے پاس ہے۔ محکمہ جاتی ذرائع نے بتایا کہ ابھی یہ بھی طے نہیں ہوا کہ آیا حکومت 7 جولائی سے شروع ہونے والے اجلاس کے دوسرے مرحلے میں اس بل کو پیش کرنے کی اجازت دے گی یا نہیں۔ دریں اثنا، نَبَنّا (ریاستی سیکریٹریٹ) کے ذرائع نے بتایا کہ وزیر اعلیٰ پیر کو اسمبلی میں موجود رہ سکتے ہیں اور یو سی سی کے معاملے پر بیان بھی دے سکتے ہیں۔ توقع ہے کہ ان کے خطاب سے مجوزہ کمیٹی کے بارے میں صورتحال مزید واضح ہو جائے گی۔ جمعرات کی شام سے ہی یو سی سی بل پیش کیے جانے کی قیاس آرائیاں تیز ہو گئی تھیں۔ اسی روز اسمبلی اجلاس کے پہلے مرحلے کے دوران وزیر اعلیٰ نے اپنی تقریر میں اس بل کی حمایت کی تھی اور بعد ازاں رات میں ایک پارٹی پروگرام میں بھی اپنے مؤقف کو دہرایا، جس کے بعد بل پیش ہونے کی بحث مزید زور پکڑ گئی۔ بل میں تاخیر کے فیصلے پر حکومت کی جانب سے کوئی سرکاری وضاحت نہیں دی گئی ہے، تاہم ذرائع کا کہنا ہے کہ انتظامیہ اس حساس معاملے پر انتہائی احتیاط سے آگے بڑھنا چاہتی ہے تاکہ مجوزہ قانون میں کسی قسم کی خامی باقی نہ رہے۔ رپورٹوں کے مطابق ریاستی حکومت تمام پہلوؤں کا باریک بینی سے جائزہ لینے کے بعد ہی اگلا قدم اٹھانا چاہتی ہے۔ اس سے قبل بی جے پی کے زیر اقتدار کئی ریاستوں نے بھی یو سی سی نافذ کرنے سے پہلے اسی طرز پر کمیٹیاں تشکیل دی تھیں۔ اب تک اتراکھنڈ، گجرات اور آسام میں یکساں سول کوڈ نافذ کیا جا چکا ہے۔ ان ریاستوں میں قانون کا مسودہ تیار کرنے کے لیے خصوصی کمیٹیاں قائم کی گئی تھیں۔ ملک میں سب سے پہلے اتراکھنڈ نے یو سی سی بل پیش کیا تھا۔ وہاں بل پیش کرنے سے قبل سپریم کورٹ کی سابق جج جسٹس رنجنا دیسائی کی سربراہی میں ایک کمیٹی تشکیل دی گئی تھی، جنہوں نے بعد میں گجرات کی یو سی سی کمیٹی میں بھی خدمات انجام دیں۔ آسام نے بھی اسی نوعیت کی کمیٹی قائم کی تھی۔ حال ہی میں مدھیہ پردیش اور چھتیس گڑھ نے بھی یو سی سی نافذ کرنے کی سمت پیش رفت شروع کی ہے اور دونوں ریاستوں نے قانون کا مسودہ تیار کرنے کے لیے کمیٹیاں تشکیل دینے کا فیصلہ کیا ہے۔