وینزوئیلا میں زلزلے سے بڑے پیمانے پر تباہی، عمارتیں ملبے کا ڈھیر بن گئیں، 10 ہزار سے زائد اموات کا خدشہ
Awaz E Bihar••0 ویوز•6 منٹ پڑھیں
کراکس: زلزلے سے وینزوئیلا کے دارالحکومت کراکس سمیت مختلف شہروں میں درجنوں عمارتیں تباہ ہوگئیں اور بڑی تعداد میں لوگوں کے ملبے تلے دبے ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ وینزوئیلا میں پے در پے زلزلے کے شدید جھٹکوں نے بڑے پیمانے پر تباہی پھیلا دی اور ہزاروں اموات کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ امریکی جیولوجیکل سروے کے مطابق وینزوئیلا میں پہلا زلزلہ 7.1 شدت کا تھا جس کے چند منٹ بعد 7.5 شدت کا ایک اور زلزلہ آیا، زلزلہ مقامی وقت کے مطابق شام 6 بجے آیا جس سے عمارتیں لرز اٹھیں۔ رپورٹ کے مطابق زلزلے سے وینزویلا کے دارالحکومت کراکس سمیت مختلف شہروں میں درجنوں عمارتیں تباہ ہو گئیں اور بڑی تعداد میں لوگوں کے ملبے تلے دبے ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ وینزوئیلا کی قائم مقام صدر ڈیلسی روڈ ریگز نے زلزلے کو قومی سانحہ قرار دیتے ہوئے بتایا کہ کئی عمارتیں تباہ ہو گئی ہیں، زلزلے سے کراکس کے مرکزی مائی کیٹیا ائیرپورٹ کو شدید نقصان پہنچا ہے، زلزلے میں اب تک 32 افراد کی ہلاکت اور 700 افراد کے زخمی ہونے کی تصدیق ہو چکی ہے۔ حکومت کی جانب سے ہنگامی صورتحال کے اعلان کے بعد بڑے پیمانے پر امدادی سرگرمیاں شروع کر دی گئی ہیں۔ اس کے علاوہ امریکہ کی ریاست کیلیفورنیا کے شمالی علاقوں میں بھی زلزلہ آیا جس کی شدت 5.6 نوٹ کی گئی اور 10 لاکھ افراد کو الرٹ جاری کردیا گیا ہے۔ امریکی جیولیوجیکل سروے نے وینزوئیلا میں زلزلے کے باعث دس ہزار سے ایک لاکھ کے درمیان اموات اموات کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ وینزوئیلا میں زلزلے سے ابتدائی رپورٹ اچھی نہیں، بڑی تعداد میں اموات ہوئی ہیں، امریکی اداروں کو فوری مدد کی ہدایت کردی ہے۔ روڈریگز نے آج جمعرات کے روز قوم سے اپنے خطاب میں کہا کہ "اس وقت ہمیں 164افراد کی ہلاکت اور 971 سے زائد زخمیوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں"۔ انہوں نے مزید کہا کہ ابھی تک دارالحکومت کے قریب واقع صوبے "لا گوایرا" کے بارے میں مکمل معلومات موجود نہیں ہے، جو ان کے مطابق سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے۔ امریکی جیولوجیکل سروے کے مطابق بدھ کی شام وینزویلا میں 7.2 اور 7.5 شدت کے دو زلزلے آئے جن کے بعد 30 آفٹر شاکس (زلزلہ کے بعد کے جھٹکے) ریکارڈ کیے گئے۔امریکی جیولوجیکل سروے نے بتایا کہ "یہ زلزلہ ایک جڑواں زلزلے کا دوسرا حصہ تھا"۔ ادارے نے پہلے سے لگائے گئے 7.1 شدت کے تخمینے کو درست کر کے 7.2 کر دیا ہے۔امریکی جیولوجیکل سروے کے اعداد و شمار سے یہ بھی ظاہر ہوا ہے کہ کاراکاس میں عمارتوں کے گرنے اور پڑوسی ملک کولمبیا میں محسوس کیے جانے والے یہ زلزلے ایک منٹ کے اندر دو مختلف مقامات پر آئے، جن کے درمیان فاصلہ تقریباً 45 کلومیٹر تھا اور ان کی گہرائی بھی مختلف تھی۔کراکس کے رہائشی زلزلے کے جھٹکوں سے عمارتوں کے ہلنے کے بعد فوری طور پر باہر نکل آئے۔ ایک چشم دید گواہ نے بتایا کہ ان کے اپارٹمنٹ کے ایک حصے میں دراڑیں پڑ گئیں اور داخلی راستے کے شیشے ٹوٹ گئے۔ ادھر امریکی جیولوجیکل سروے نے اشارہ دیا کہ وینزویلا کے زلزلوں سے جانی نقصان کا امکان "بہت زیادہ" ہے۔ زلزلوں کے فوری بعد صدر روڈریگز نے ملک میں ہنگامی حالت کا اعلان کر دیا۔ بدھ کی رات ٹیلی ویژن پر خطاب میں انہوں نے بتایا کہ 7.2 اور 7.5 شدت کے زلزلوں اور بعد کے 30 جھٹکوں کی وجہ سے کراکس میں کئی عمارتیں گر گئیں اور دارالحکومت کو سروس فراہم کرنے والا "مائیکیٹیا" انٹرنیشنل ایئرپورٹ "انفراسٹرکچر کو شدید نقصان" پہنچنے کے باعث بند کر دیا گیا ہے۔ امریکی نظام برائے انتباہِ سونامی نے زلزلے کے بعد پورٹو ریکو اور امریکی و برطانوی ورجن جزائر میں سمندری لہریں اٹھنے کے امکان پر انتباہ جاری کیا ہے۔ امریکی ادارے کا کہنا ہے کہ وینزویلا کے ساحل کے قریب واقع جزائر خطرناک لہروں کی زد میں آ سکتے ہیں۔اسی دوران، جاپان کی موسمیاتی ایجنسی نے اعلان کیا ہے کہ ملک کے شمال میں 6.9 شدت کا زلزلہ آیا ہے، تاہم سونامی کی وارننگ جاری نہیں کی گئی۔ یہ زلزلہ ملک کے شمال میں واقع "ایواتے" علاقے کے قریب آیا، جس کا مرکز زمین کی سطح سے تقریباً 50 کلومیٹر گہرائی میں تھا۔ جاپان دنیا کے ان ممالک میں شامل ہے جہاں سب سے زیادہ زلزلے آتے ہیں، جس کی وجہ اس کا بحر الکاہل کے گرد "رنگ آف فائر" نامی زلزلہ خیز خطے میں واقع ہونا ہے، جہاں کئی ٹیکٹونک پلیٹیں آپس میں ملتی ہیں۔ ملک میں ہر سال ہزاروں زلزلے آتے ہیں جن میں سے زیادہ تر کمزور ہوتے ہیں، لیکن اس کی تاریخ تباہ کن زلزلوں سے بھری پڑی ہے۔دوسری جانب وینزویلا بھی کیریبیئن خطے میں ٹیکٹونک پلیٹوں کے سنگم کے قریب واقع ہونے کی وجہ سے زلزلوں کا شکار رہتا ہے۔ خاص طور پر کیریبیئن سی فالٹ لائن کے ساتھ، تاہم یہ جاپان کے مقابلے میں زلزلہ خیزی کے لحاظ سے کم فعال ہے۔ امریکی جیولوجیکل سروے کے مطابق وینزویلا میں پہلا زلزلہ 7.1 شدت کا تھا جس کے چند منٹ بعد 7.5 شدت کا ایک اور زلزلہ آیا، زلزلہ مقامی وقت کے مطابق شام 6 بجے آیا جس سے عمارتیں لرز اٹھیں۔ رپورٹ کے مطابق زلزلے سے وینزویلا کے دارالحکومت کراکس سمیت مختلف شہروں میں درجنوں عمارتیں تباہ ہو گئیں اور بڑی تعداد میں لوگوں کے ملبے تلے دبے ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ وینزویلا کی قائم مقام صدر ڈیلسی روڈ ریگز نے زلزلے کو قومی سانحہ قرار دیتے ہوئے بتایا کہ کئی عمارتیں تباہ ہو گئی ہیں، زلزلے سے کراکس کے مرکزی مائی کیٹیا ائیرپورٹ کو شدید نقصان پہنچا ہے، زلزلے میں اب تک 167افراد کی ہلاکت اور 970 سے زائد افراد کے زخمی ہونے کی تصدیق ہو چکی ہے۔ حکومت کی جانب سے ہنگامی صورتحال کے اعلان کے بعد بڑے پیمانے پر امدادی سرگرمیاں شروع کر دی گئی ہیں۔ اس کے علاوہ امریکہ کی ریاست کیلیفورنیا کے شمالی علاقوں میں بھی زلزلہ آیا جس کی شدت 5.6 نوٹ کی گئی اور 10 لاکھ افراد کو الرٹ جاری کردیا گیا ہے۔ امریکی جیولیوجیکل سروے نے وینزویلا میں زلزلے کے باعث دس ہزار سے ایک لاکھ کے درمیان اموات اموات کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ وینزویلا میں زلزلے سے ابتدائی رپورٹ اچھی نہیں، بڑی تعداد میں اموات ہوئی ہیں، امریکی اداروں کو فوری مدد کی ہدایت کردی ہے۔