جمعرات، 1 اکتوبر، 2026
اردوहिन्दीEnglish
آواز ای بہار
آواز ای بہار
ہومای پیپرویڈیوزقومیسیاستکھیلتعلیمبہارقومیسیاستکھیلصحتتعلیممضامینعالمی خبریں
اہمقومیسیاستکھیلتعلیمبہارقومیسیاستکھیلصحتتعلیممضامینعالمی خبریں

آواز ای بہار

بہار کی آواز — اردو، ہندی اور انگریزی میں تازہ ترین خبریں

زمرے

  • مقامی
  • قومی
  • سیاست
  • کاروبار
  • ٹیکنالوجی
  • کھیل
  • صحت
  • تعلیم

فوری لنکس

  • ہوم
  • ای پیپر
  • ویڈیوز
  • دن کی تصویر
  • ہمارے بارے میں
  • رابطہ کریں
  • پرائیویسی پالیسی
  • شرائط و ضوابط

نیوز روم

  • ادارتی پالیسی
  • تصحیح و شکایات
  • اشتہارات
  • نیوز روم رابطہ

زبانیں

  • اردو (Urdu)
  • हिन्दी (Hindi)
  • English

ہمیں فالو کریں

Email: awazebihar@gmail.com

Phone: +91-9473486854

© 2026 Awaz E Bihar Publications. جملہ حقوق محفوظ ہیں

Designed and Developed byZeloiteZeloite
حقوق نسواں اور عالمی یوم خواتین
  1. ہوم
  2. مضامین
مضامین

حقوق نسواں اور عالمی یوم خواتین

Awaz E Bihar•7 مارچ، 2026 کو 10:27 AM•33 ویوز•9 منٹ پڑھیں

غلام علی اخضر
اس دنیا کو آباد رکھنے کے لیے قدرت نے مرد اور عورت دونوں کو پیدا کیا اور ان کے اندر ایسے فطری جذبات اور ہارمونز رکھے جو انھیں ایک دوسرے کی طرف مائل کرنے کے ساتھ باہمی قدر و احترام کا جذبہ پیدا کریں۔ انسانی معاشرے کی بنیاد ہی اسی باہمی تعلق، تعاون اور توازن پر قائم ہے ،لیکن وقت کے ساتھ انسانی رویوں میں تبدیلی آئی اور یہ توازن بتدریج متاثر ہونے لگا۔ نتیجتاً ایک ایسا دور شروع ہوا جس میں تفریق اور عدم مساوات کو فروغ ملا اور معاشرے میں جنسی امتیاز کی ایک لہر دوڑ گئی۔جس کے نتیجے میں خواتین کو کمتر مخلوق سمجھا جانے لگا۔ بعض معاشروں میں ان کے ساتھ ایسا سلوک روا رکھا گیا جو بسا اوقات جانوروں کے ساتھ ہونے والے سلوک سے بھی بدتر تھا۔ انھیں محض عیش و عشرت کا سامان تصور کیا جانے لگا اور ان کی شخصیت کو انسان کے بجائے ایک شے کے طور پر دیکھا جانے لگا۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ اس سوچ کی جڑیں آج بھی بہت سے معاشروں میں موجود ہیں۔ اگرچہ دنیا کے مختلف حصوں میں خواتین کے حقوق کے حوالے سے شعور اور بیداری پیدا ہوئی ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ آج بھی بہت سی جگہوں پر خواتین کو وہ حقوق، نمائندگی اور مساوات حاصل نہیں جو انھیں ملنی چاہیے۔ واضح رہے کہ یہاں مساوات ایک دوسرے کامقابل نہیں بلکہ حقوق نسواں کے ساتھ انصاف مراد ہے۔اقبال نے نہایت خوبصورتی سے ایک شعر میں عورت کی اہمیت اور قدر کو بیان کردیا ہے:
وجودِ زن سے ہے تصویرِ کائنات میں رنگ
اسی کے ساز سے ہے زندگی کا سوزِ درُوں
یہ شعر اس امر کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ عورت صرف معاشرے کا حصہ ہی نہیں بلکہ اس کی روح اور اس کے حسن کی علامت ہے۔
عورتوں کے خلاف تفریق کو جنم دینے میں بعض فلسفیانہ نظریات نے بھی اپنا کردار ادا کیا ہے۔ تاریخ کے مختلف ادوار میں کچھ فلسفیوں کے خیالات نے اس سوچ کو مزید تقویت دی۔ مثال کے طور پر سقراط کا نظریہ ملاحظہ کیجیے:’
’عورت سے زیادہ فتنہ اور فساد کی چیز دنیا میں کوئی نہیں ہے۔ وہ ایک ایسا درخت ہے جو بظاہر انتہائی خوبصورت اور خوشنما نظر آتا ہے لیکن جب کوئی اسے کھاتا ہے تو مر جاتا ہے۔‘‘
اسی طرح افلاطون کا یہ قول:
’’دنیا میں جتنے ظالم اور ذلیل مرد ہوتے ہیں، وہ نتائج کی دنیا میں عورت بن جاتے ہیں۔‘‘
تاریخ کے کئی ادوار میں خواتین کے بارے میں متعصبانہ خیالات کو نہ صرف فروغ دیا گیا بلکہ انھیں فلسفیانہ جواز بھی فراہم کیا گیا۔ اس طرز فکر نے معاشرتی سطح پر صنفی تفریق کو مزید گہرا کیا۔
جنسی امتیاز کے فروغ میں بعض مذہبی تشریحات اور سماجی روایات نے بھی اپنا کردار ادا کیا ہے۔ اگرچہ مذاہب کی بنیادی تعلیمات انسانیت، عدل اور مساوات پر مبنی ہیں، لیکن وقت گزرنے کے ساتھ بعض معاشروں میں ان تعلیمات کی ایسی تعبیرات سامنے آئیں جنھوں نے خواتین کے مقام کو محدود کرنے میں کردار ادا کیا۔ آج کے دور میں ان پر گفتگو کرنانہایت حساس سمجھی جاتی ہے،اس لیے احتیاطاً گریزہے۔
وقت گزرنے کے ساتھ جب صنفی ناانصافی اور امتیاز کی شدت میں اضافہ ہوا تو خواتین نے خود اس کے خلاف آواز بلند کرنا شروع کی۔ انھوں نے اپنے حقوق کے حصول اور استحصال کے خاتمے کے لیے منظم جدوجہد کی۔ اسی جدوجہد کو عالمی سطح پر اجاگر کرنے کے لیے ایک عالمی دن منانے کا تصور پیش کیا گیا اور اس طرح عالمی یومِ خواتین ہر سال ۸؍مارچ کو دنیا بھر میں منایا جاتا ہے تاکہ معاشرے میں موجود صنفی امتیاز کو کم کیا جا سکے اور خواتین کے حقوق کے حوالے سے آگاہی پیدا کی جا سکے۔
اس دن کو منانے کا بنیادی خیال ۱۹۱۰ء میں جرمنی کی سوشلسٹ رہنما کلارا زیٹکن نے پیش کیا ۔ انھوں نے تجویز دی کہ خواتین کے حقوق اور ان کے مطالبات کو اجاگر کرنے کے لیے ہر ملک میں سال میں ایک مرتبہ ایک مخصوص دن عالمی یومِ خواتین کے طور پر منایا جانا چاہیے۔ ان کی اس تجویز سے سترہ ممالک کی سو سے زائد خواتین نے اتفاق کیا۔
عالمی یوم خواتین کی تاریخ پر نظر ڈالیں تو پہلا عالمی یومِ خواتین ۱۹ مارچ ۱۹۱۱ء کو آسٹریا، ڈنمارک، جرمنی اور سوئٹزرلینڈ میں مشترکہ طور پر منایا گیا۔ دو سال بعد ۱۹۱۳ء میں آٹھ مارچ کو باقاعدہ طور پر بین الاقوامی یومِ خواتین کے طور پر مقرر کیا گیا۔ اس فیصلے کے پس منظر میں ۱۹۰۸ کا ایک اہم واقعہ بھی تھا جب تقریباً پندرہ ہزار خواتین ووٹ کے حق، مناسب تنخواہ اور کام کے اوقات میں کمی کے مطالبات کے ساتھ نیویارک کی سڑکوں پر نکل آئی تھیں۔ اس احتجاج کے تقریباً ایک سال بعد۲۸ فروری۱۹۰۹ء کو امریکہ میں سوشلسٹ پارٹی آف امریکہ کے تعاون سے پہلا قومی یومِ خواتین منایا گیا۔
بعد ازاں۱۹۷۵ جو کہ بین الاقوامی خواتین کا سال تھا، اقوامِ متحدہ نے ۸ مارچ کو باضابطہ طور پر عالمی یومِ خواتین کے طور پر منانے کا آغاز کیا۔ اس کے بعد سے اقوامِ متحدہ ہر سال اس دن کے لیے ایک مخصوص موضوع بھی مقرر کرتی ہے تاکہ خواتین کے مسائل کو مختلف زاویوں سے اجاگر کیا جا سکے۔
ان موضوعات میں۱۹۹۶ میں’ماضی کی کامیابیوں کا جشن منانا اور مستقبل کی منصوبہ بندی کرنا‘، ۱۹۹۷ میں’خواتین اور امن کی میز‘، ۱۹۹۸ میں’خواتین اور انسانی حقوق‘، ۱۹۹۹ میں’خواتین کے خلاف تشدد سے پاک دنیا‘،۲۰۰۰ میں’امن کے قیام کے لیے خواتین کا اتحاد‘،۲۰۰۱ میں’خواتین اور امن‘،’۲۰۰۲ میں’آج کی افغان خواتین: حقائق اور مواقع‘،۲۰۰۳ میں’ صنفی مساوات اور پائیدار ترقیاتی اہداف‘،۲۰۰۴ میں’ خواتین اور ایچ آئی وی/ایڈز‘،۲۰۰۵ میں۲۰۰۵ کے بعد صنفی مساوات: ایک محفوظ مستقبل کی تعمیر‘،۲۰۰۶ میں’ فیصلہ سازی میں خواتین: چیلنجز کا سامنا، تبدیلی لانا‘،۲۰۰۷ میں’ خواتین اور لڑکیوں کے خلاف تشدد پر سزا ‘، ۲۰۰۸ میں ’خواتین اور لڑکیوں میں سرمایہ کاری‘،۲۰۰۹ میں’ خواتین اور مردوں کا اتحاد: خواتین اور لڑکیوں کے خلاف تشدد کا خاتمہ‘،۲۰۱۰ میں ’مساوی حقوق، مساوی مواقع: سب کے لیے ترقی‘۲۰۱۱ میں’ تعلیم، تربیت، سائنس اور ٹیکنالوجی تک مساوی رسائی‘،۲۰۱۲ میں’ دیہی خواتین کو بااختیار بنانا: بھوک اور غربت کا خاتمہ‘،۲۰۱۳ میں’ وعدہ وفا کریں: خواتین کے خلاف تشدد روکنے کا وقت‘،۲۰۱۴ میں’ خواتین کے لیے برابری، سب کے لیے ترقی‘،۲۰۱۵ میں’ خواتین کو بااختیار بنانا، انسانیت کو بااختیار بنانا‘،۲۰۱۶ میں’۲۰۳۰ تک کرہ ارض پر برابری: صنفی مساوات کے لیے قدم بڑھائیں‘،۲۰۱۷ میں’ بدلتی ہوئی دنیا میں خواتین: ۲۰۳۰ تک کرہ ارض پر برابری‘،۲۰۱۸ میں ’وقت اب ہے: دیہی اور شہری کارکن خواتین کی زندگی بدلنا‘،’۲۰۱۹ میں برابر سوچیں، ذہانت سے بنائیں، تبدیلی کے لیے اختراع کریں‘’۲۰۲۰ میں میں نسلِ مساوات ہوں: خواتین کے حقوق کی علمبردار‘،’۲۰۲۱ میں ’خواتین کی قیادت: کووڈ۔۱۹ کی دنیا میں مساوی مستقبل کا حصول‘،۲۰۲۲ میں’ پائیدار کل کے لیے آج صنفی مساوات‘،۲۰۲۳ میں’ ڈیجیٹل آل: صنفی مساوات کے لیے اختراع اور ٹیکنالوجی‘،۲۰۲۴ میں’ خواتین میں سرمایہ کاری: ترقی کی رفتار تیز کریں‘اور۲۰۲۵ میں ’تمام خواتین اور لڑکیوں کے حقوق، مساوات اور بااختیار بنانے کے عمل کو تیز کرنا‘شامل تھے۔جب کہ اس سال۲۰۲۶ کا موضوع’حقوق، انصاف، عمل ، تمام خواتین اور لڑکیوںکے لیے‘ ہے۔
اگرچہ عالمی سطح پر خواتین کے حقوق کے حوالے سے آگاہی میں اضافہ ہوا ہے، لیکن ہمارے معاشرے میں اس حوالے سے صورت حال اب بھی پوری طرح اطمینان بخش نہیں۔ گلوبل جینڈر گیپ رپورٹ کے مطابق اگر موجودہ رفتار برقرار رہی تو دنیا میں مکمل صنفی مساوات حاصل کرنے میں تقریباً دو سو سال لگ سکتے ہیں۔
ہمارے معاشرے میں رائج پدرشاہی نظام کی وجہ سے آج بھی بے شمار لڑکیاں گھروں کی چاردیواری تک محدود ہیں۔ اگر تعلیم کی صورت حال کا جائزہ لیا جائے تو اینول اسٹیٹس آف ایجوکیشن رپورٹ کے مطابق بڑی تعداد میں لڑکیاں اسکول جانے کے بجائے گھریلو کاموں میں مصروف رہتی ہیں۔ اسی طرح چودہ سے اٹھارہ سال کی عمر کی تقریباً بتیس فیصد لڑکیاں گھریلو مجبوریوں اور سماجی رکاوٹوں کے باعث اپنی تعلیم ادھوری چھوڑنے پر مجبور ہو جاتی ہیں۔ یہ اعداد و شمار ہمارے معاشرے میں موجود گہری صنفی تفریق اور لڑکیوں کو درپیش تعلیمی چیلنجز کی عکاسی کرتے ہیں۔
عالمی یومِ خواتین کا بنیادی مقصد ایک ایسا معاشرہ تشکیل دینا ہے جو تعصب، دقیانوسی تصورات اور امتیاز سے پاک ہو۔ ایسا معاشرہ جہاں خواتین کو ان کے بنیادی حقوق حاصل ہوں۔ اس کے ساتھ ساتھ عورتوں پر ہونے والے ظلم و زیادتی کا سدباب بھی ناگزیر ہے۔
آج بھی نہ جانے کتنی خواتین جہیز اور دیگر غیر ضروری وجوہات کی بنا پر ظلم و ستم کا شکار ہوتی ہیں۔ اس صورت حال کو بدلنے کے لیے ضروری ہے کہ ہر فرد اپنی اصلاح کا آغاز اپنے گھر سے کرے۔ بچیوں کو معیاری تعلیم فراہم کی جائے، انھیں خود کفیل بنایا جائے اور گھریلو و سماجی معاملات میں ان سے مشورہ لے کر انھیں فیصلہ سازی کا اختیار بھی دیا جائے۔اسی طرح سرکاری اور غیر سرکاری اداروں میں خواتین کی نمائندگی میں اضافہ بھی ضروری ہے۔ حکومت کو بھی اپنی ذمے داری دیانت داری سے ادا کرنی چاہیے۔ یہ کافی نہیں کہ انتخابات کے دوران خواتین کی فلاح و بہبود کے حوالے سے بلند و بانگ دعوے کیے جائیں، بلکہ زمینی سطح پر حقیقی تبدیلی بھی نظر آنی چاہیے۔خاص طور پر وہ خواتین جو منتخب ہو کر پارلیمان یا اسمبلیوں تک پہنچتی ہیں، انھیں پارٹی سے بالاتر ہو کر خواتین کے مسائل پر متفقہ آواز بلند کرنی چاہیے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ جب حزبِ اختلاف کی خواتین ارکان کسی مسئلے کو اٹھاتی ہیں تو اقتدار میں شامل خواتین محض اپنی جماعت کے دفاع کی خاطر ان مسائل کو دبانے کی کوشش کرتی ہیں۔ نتیجتاً خواتین کے حقیقی مسائل سیاسی کشمکش کی نذر ہو جاتے ہیں ۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ خواتین کے حقوق کے معاملے کو سیاست سے بالا تر رکھ کر خلوص نیت کے ساتھ حل کیا جائے۔ کیوں کہ ایک صحت مند اور ترقی یافتہ معاشرہ اسی وقت ممکن ہے جب مرد اور عورت دونوں کو مساوی مواقع اور یکساں احترام حاصل ہو۔
٭٭٭
شیئر کریں:

More from مضامین

عبد الجلیل مستان
مضامین

عبد الجلیل مستان

28 ستمبر، 2026
آٹھ سال کے بعد اردو ڈائرکٹریٹ، پٹنہ کا بے مثال جشن اردو
مضامین

آٹھ سال کے بعد اردو ڈائرکٹریٹ، پٹنہ کا بے مثال جشن اردو

28 اگست، 2026
آزادی کے بعد آزادی کی تلاش،خواب ابھی باقی ہے
مضامین

آزادی کے بعد آزادی کی تلاش،خواب ابھی باقی ہے

21 اگست، 2026
سپریم کورٹ کا حکم، انتظامی ضوابط اور جدید معاشی تحفظ کا پیغام
مضامین

سپریم کورٹ کا حکم، انتظامی ضوابط اور جدید معاشی تحفظ کا پیغام

21 اگست، 2026
شوبھندو حکومت کے 100 دن
مضامین

شوبھندو حکومت کے 100 دن

20 اگست، 2026
​پولیس تشدد کے خلاف اہم فیصلہ
مضامین

​پولیس تشدد کے خلاف اہم فیصلہ

13 جولائی، 2026