برج بھوشن شرن سنگھ کوبری کیئے جانے کے فیصلے کو چیلنج کریں گے پہلوان
Awaz E Bihar••30 ویوز•3 منٹ پڑھیں
ونیش پھوگاٹ اور بجرنگ پونیہ نے پیر کے روز کہا کہ وہ ریسلنگ فیڈریشن آف انڈیا (ڈبلیو ایف آئی) کے سابق سربراہ برج بھوشن شرن سنگھ پر جنسی ہراسانی کے الزامات میں عدالت کے بری کرنے والے فیصلے کو آگے عدالت میں چیلنج کریں گے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ انصاف کے لیے ان کی لڑائی ابھی ختم نہیں ہوئی ہے۔ یہ بیان راؤز ایونیو کورٹس کے ایڈیشنل چیف جوڈیشل مجسٹریٹ اشونی پنوار کے ذریعہ چھ خاتون پہلوانوں کی شکایت پر درج جنسی ہراسانی کے معاملے میں برج بھوشن شرن سنگھ اور ڈبلیو ایف آئی کے سابق اسسٹنٹ سکریٹری ونود تومر کو بری کیے جانے کے کچھ گھنٹوں بعد آیا۔ عدالت کا تفصیلی فیصلہ ابھی جاری نہیں ہوا ہے۔ محترمہ پھوگاٹ اور مسٹر پونیہ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک مشترکہ پوسٹ میں کہا کہ شکایت کنندگان نے پہلے ہی اپنی قانونی ٹیم کو اس فیصلے کے خلاف اپیل کرنے کی ہدایت دے دی ہے۔ انہوں نے کہا، "خاتون پہلوانوں نے اپنے وکیلوں کو فیصلے کے خلاف اپیل کرنے کی ہدایت دی ہے، اور جتنی جلدی ہو سکے اپیل دائر کی جائے گی۔ ہم نے امید نہیں چھوڑی ہے۔ لڑائی جاری رہے گی۔" اس فیصلے پر مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے دونوں پہلوانوں نے کہا کہ ایک سیاسی طور پر بااثر رہنما کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کے لیے شکایت کنندگان کو 'بے پناہ ہمت‘ جمع کرنی پڑی تھی۔ بیان میں کہا گیا، "اپنی سیاسی طاقت اورزور کا استعمال کرتے ہوئے برج بھوشن نے مبینہ طور پر کئی لڑکیوں کو ڈرا دھمکا کر ان کے گاؤں واپس بھیج دیا۔" پہلوانوں نے کہا کہ مبینہ ڈرانے دھمکانے کے باوجود کئی خاتون پہلوان ڈٹی رہیں اور عدالتوں کے ذریعے معاملے کو آگے بڑھایا۔ انہوں نے کہا، "کئی خاتون پہلوانوں نے اپنی بات پر زور دیا اور عدالت میں برج بھوشن کے خلاف قانونی لڑائی جاری رکھی۔ ہم بے حد مایوس ہیں کہ عدالت نے خاتون پہلوانوں کے ذریعہ لگائے گئے جنسی ہراسانی کے الزامات میں برج بھوشن شرن سنگھ کو مجرم نہیں پایا۔" دونوں اولمپک کھلاڑیوں نے یہ بھی الزام لگایا کہ معاملے کی سماعت کے دوران 'حکومت اور نظام نے سابق ڈبلیو ایف آئی چیف کو بچانے کا کام کیا۔ یہ معاملہ 2023 میں دہلی کے جنتر منتر پر خاتون پہلوانوں کے احتجاج اور ان کی شکایتوں سے جڑا ہے۔ احتجاج کے بعد دہلی پولیس نے ایف آئی آر درج کی اور برج بھوشن شرن سنگھ اور ونود تومر کے خلاف جنسی ہراسانی، پیچھا کرنے، دھمکی دینے اور دیگر الزامات میں تقریباً 1,500 صفحات کی چارج شیٹ داخل کی۔ یہ الزام محترمہ ونیش پھوگاٹ سمیت چھ خاتون پہلوانوں نے لگائے تھے، جنہوں نے ڈبلیو ایف آئی کے صدر کے طور پر اپنے دورِ اقتدار کے دوران برج بھوشن پر جنسی ہراسانی کا الزام لگایا تھا۔ اسی سال مئی میں، محترمہ پھوگاٹ نے پہلی بار عوامی طور پر انکشاف کیا تھا کہ وہ اس معاملے میں چھ شکایت کنندگان میں سے ایک تھیں۔ تب تک، انہوں نے جاری قانونی کارروائی کا حوالہ دیتے ہوئے اپنی شناخت ظاہر کرنے سے گریز کیا تھا۔ انسٹاگرام پر پوسٹ کی گئی چار منٹ 22 سیکنڈ کی ایک ویڈیو میں محترمہ پھوگاٹ نے کہا تھا کہ معاملہ زیرِ التوا ہونے کے باوجود انہیں بولنے پر مجبور ہونا پڑا۔ محترمہ پھوگاٹ نے کہا تھا، "عدالت کی ہدایات میں کہا گیا ہے کہ کسی بھی متاثرہ کی شناخت ظاہر نہیں کی جانی چاہیے... لیکن آج، کچھ حالات کی وجہ سے، میں آپ کو کچھ بتانا چاہتی ہوں۔ میں خود ان چھ متاثرین میں سے ایک ہوں جنہوں نے شکایت درج کرائی تھی، اور ہماری گواہی ابھی بھی جاری ہے۔