آئی آر سی ٹی سی منی لانڈرنگ کیس: لالو، رابڑی اور تیجسوی عدالت میں حاضر، 30 اکتوبر کو اگلی سماعت
Awaz E Bihar
••0 ویوز•3 منٹ پڑھیں
نئی دہلی، 3 اکتوبر: آئی آر سی ٹی سی ہوٹل ٹینڈر سے متعلق منی لانڈرنگ کیس میں راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی) کے سربراہ لالو پرساد یادو، سابق وزیر اعلیٰ رابڑی دیوی اور تیجسوی پرساد یادو سمیت دیگر ملزمان ہفتہ کو دہلی کی راؤز ایونیو عدالت میں حاضر ہوئے۔ عدالت میں الزامات طے کرنے کی رسمی کارروائی مکمل نہیں ہوسکی۔ عدالت نے معاملے کی اگلی سماعت کے لیے 30 اکتوبر 2026 کی تاریخ مقرر کی ہے۔اس معاملے میں خصوصی جج وشال گوگنے کی عدالت نے 10 ستمبر کو مجموعی طور پر 16 ملزمان میں سے نو کے خلاف منی لانڈرنگ کی روک تھام کے قانون (PMLA) کے تحت الزامات عائد کرنے کا حکم دیا تھا، جبکہ سات ملزمان کو مقدمے سے ڈسچارج کر دیا گیا تھا۔ نو ملزمان میں لالو پرساد یادو، رابڑی دیوی، تیجسوی یادو، لارا پروجیکٹس، سرلا گپتا، پریم چند گپتا، سجاتا ہوٹلس اور ہوٹل کاروباری ونئے کوچر اور وجے کوچر شامل ہیں۔ 3 اکتوبر کو اسی حکم کے تحت ملزمان کو عدالت میں حاضر ہونا تھا۔ لالو پرساد یادو، رابڑی دیوی اور تیجسوی یادو سمیت دیگر ملزمان عدالت پہنچے، تاہم الزامات طے کرنے کی رسمی کارروائی اس دن پوری نہیں ہوسکی۔ اب یہ کارروائی اگلی سماعت میں آگے بڑھے گی۔ یہ معاملہ اس وقت کا ہے جب لالو پرساد یادو مرکزی وزیر ریلوے تھے۔ سی بی آئی اور ای ڈی کے مطابق ریلوے کے رانچی اور پوری میں واقع دو ہوٹلوں کے آپریشن اور دیکھ بھال سے متعلق ٹینڈر کے عمل میں مبینہ بے ضابطگیاں ہوئی تھیں۔ تحقیقاتی ایجنسیوں کا الزام ہے کہ ان ہوٹلوں کے ٹینڈر سجاتا ہوٹلس پرائیویٹ لمیٹڈ کو دیے گئے اور اس کے عوض پٹنہ کی زمین سے متعلق لین دین ہوا۔ ای ڈی کا الزام ہے کہ پٹنہ کی زمین پہلے کم قیمت پر ایک کمپنی سے متعلق لین دین کے ذریعے منتقل ہوئی اور بعد میں اس کمپنی کے شیئرز رابڑی دیوی اور تیجسوی یادو کو منتقل کیے گئے۔ ایجنسی اس پورے لین دین کو ہوٹل ٹینڈر سے مبینہ فائدے کے بدلے ہونے والے معاملے سے جوڑتی ہے۔ یہ الزامات ابھی مقدمے کا حصہ ہیں اور ان پر حتمی عدالتی فیصلہ نہیں ہوا ہے۔ 10 ستمبر کو راؤز ایونیو عدالت نے دستیاب مواد کی بنیاد پر نو ملزمان کے خلاف پی ایم ایل اے کے تحت الزامات طے کرنے کا حکم دیا تھا۔ عدالت نے کہا تھا کہ مقدمے میں کارروائی آگے بڑھانے کے لیے ابتدائی طور پر کافی مواد موجود ہے۔ عدالت نے سات دیگر ملزمان کے خلاف الزامات عائد کرنے کے لیے مناسب بنیاد نہ ملنے پر انہیں ڈسچارج کر دیا تھا۔ لالو پرساد یادو اور ان کے خاندان کی جانب سے الزامات کی تردید کی جاتی رہی ہے۔ دفاع کی جانب سے تحقیقات کو سیاسی محرکات سے جوڑنے کا موقف بھی پیش کیا گیا تھا، جسے عدالت نے اپنے 10 ستمبر کے حکم میں قبول نہیں کیا۔ اب معاملے کی اگلی سماعت 30 اکتوبر 2026 کو ہوگی۔ اس موقع پر الزامات طے کرنے کی رسمی کارروائی آگے بڑھنے کی توقع ہے۔ اس کے بعد ملزمان کے خلاف مقدمے کی عدالتی کارروائی مقررہ قانونی عمل کے مطابق آگے بڑھے گی۔