جمعرات، 1 اکتوبر، 2026
اردوहिन्दीEnglish
آواز ای بہار
آواز ای بہار
ہومای پیپرویڈیوزقومیسیاستکھیلتعلیمبہارقومیسیاستکھیلصحتتعلیممضامینعالمی خبریں
اہمقومیسیاستکھیلتعلیمبہارقومیسیاستکھیلصحتتعلیممضامینعالمی خبریں

آواز ای بہار

بہار کی آواز — اردو، ہندی اور انگریزی میں تازہ ترین خبریں

زمرے

  • مقامی
  • قومی
  • سیاست
  • کاروبار
  • ٹیکنالوجی
  • کھیل
  • صحت
  • تعلیم

فوری لنکس

  • ہوم
  • ای پیپر
  • ویڈیوز
  • دن کی تصویر
  • ہمارے بارے میں
  • رابطہ کریں
  • پرائیویسی پالیسی
  • شرائط و ضوابط

نیوز روم

  • ادارتی پالیسی
  • تصحیح و شکایات
  • اشتہارات
  • نیوز روم رابطہ

زبانیں

  • اردو (Urdu)
  • हिन्दी (Hindi)
  • English

ہمیں فالو کریں

Email: awazebihar@gmail.com

Phone: +91-9473486854

© 2026 Awaz E Bihar Publications. جملہ حقوق محفوظ ہیں

Designed and Developed byZeloiteZeloite
رمیش نے شی جن پنگ سے ملاقات کے بعد مودی کی چین پالیسی پر سوال اٹھائے، سرحد، آپریشن سندور اور معاشی انحصار کا معاملہ اٹھایا
  1. ہوم
  2. سیاست
سیاست

رمیش نے شی جن پنگ سے ملاقات کے بعد مودی کی چین پالیسی پر سوال اٹھائے، سرحد، آپریشن سندور اور معاشی انحصار کا معاملہ اٹھایا

Awaz E Bihar•13 ستمبر، 2026 کو 04:21 PM•9 ویوز•4 منٹ پڑھیں

کانگریس کے جنرل سکریٹری اور شعبۂ مواصلات کے انچارج جے رام رمیش نے اتوار کو وزیراعظم نریندر مودی کی چینی صدر شی جن پنگ کے ساتھ دو طرفہ ملاقات کے بعد حکومت کی جانب سے سرحدی تجاوزات سے نمٹنے، آپریشن سندور کے تناظر میں چین کے مبینہ کردار اور بیجنگ پر بھارت کے بڑھتے ہوئے معاشی انحصار کے حوالے سے سوالات اٹھائے۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں رمیش نے کہا کہ مودی اور شی جن پنگ کی ملاقات ختم ہو چکی ہے، لیکن بھارت کی چین پالیسی سے متعلق کئی اہم سوالات اب بھی جواب طلب ہیں۔رمیش نے لکھاکہ اب جبکہ صدر شی جن پنگ کے ساتھ ان کی دو طرفہ ملاقات ختم ہو چکی ہے، وزیراعظم نریندر مودی کے سامنے چار ایسے سوالات ہیں جن کے جواب بھارت مسلسل تلاش کر رہا ہے۔انہوں نے جن معاملات کو اٹھایا ان میں سرحدی تجاوزات کے حوالے سے بھارت کے موقف میں مبینہ کمزوری، آپریشن سندور کے تناظر میں چین کے کردار اور بیجنگ پر خطرناک حد تک معاشی انحصار شامل ہیں۔رمیش نے سوال کیاکہ انہوں نے سرحدی تجاوزات اور آپریشن سندور میں چین کے کردار کے حوالے سے ہمارے موقف کو کیوں کمزور کیا، جبکہ بیجنگ پر خطرناک حد تک معاشی انحصار کو بڑھنے دیا جا رہا ہے؟
ان کے یہ تبصرے نئی دہلی میں 18ویں برکس سربراہی اجلاس کے موقع پر مودی اور شی جن پنگ کے درمیان ہونے والی ملاقات کے بعد سامنے آئے۔ اس ملاقات پر بھارت اور چین کی سرحد سے متعلق مسلسل خدشات اور دونوں ممالک کے باہمی تعلقات کو مستحکم کرنے کی کوششوں کے پس منظر میں گہری نظر رکھی گئی۔
2020 میں مشرقی لداخ میں فوجی تصادم کے بعد سے بھارت اور چین کے تعلقات کشیدہ رہے ہیں۔ اگرچہ کئی تنازعی مقامات پر فوجی انخلا عمل میں آ چکا ہے، تاہم دونوں ممالک لائن آف ایکچوئل کنٹرول (ایل اے سی) کے ساتھ اب بھی خاطر خواہ فوجی تعیناتی اور بنیادی ڈھانچہ برقرار رکھے ہوئے ہیں۔
کانگریس حکومت سے سرحد کی صورتحال کے بارے میں بارہا سوال کرتی رہی ہے اور مبینہ چینی تجاوزات پر مزید وضاحت کا مطالبہ کرتی رہی ہے۔ دوسری جانب حکومت کا کہنا ہے کہ بھارت کی علاقائی سالمیت اور قومی سلامتی سب سے زیادہ اہم ہیں اور فوجی تیاری کے ساتھ ساتھ سفارتی رابطے بھی جاری رکھے جا رہے ہیں۔
رمیش نے آپریشن سندور کا بھی حوالہ دیا۔ یہ فوجی کارروائی پہلگام دہشت گردانہ حملے کے بعد بھارت نے شروع کی تھی۔ انہوں نے اس معاملے میں چین کے مبینہ کردار کے حوالے سے حکومت کے موقف پر سوال اٹھایا۔ تاہم انہوں نے اپنی پوسٹ میں اس الزام کی بنیاد بننے والے مخصوص شواہد یا اقدامات کی وضاحت نہیں کی۔کانگریس رہنما نے بھارت اور چین کے تعلقات کے معاشی پہلو پر بھی توجہ مرکوز کی اور چینی اشیا اور صنعتی خام مال پر ملک کے مسلسل انحصار کی نشاندہی کی۔ چین بھارت کا ایک بڑا تجارتی شراکت دار ہے اور دونوں ممالک کے درمیان تجارت کا حجم کئی ارب ڈالر تک پہنچتا ہے۔ اس دوران بھارتی صنعتیں الیکٹرانکس، دواسازی کے خام اجزا، مشینری، شمسی توانائی کے آلات اور دیگر اہم پرزوں کے لیے چین سے بڑی مقدار میں درآمدات کرتی ہیں۔
مودی حکومت نے اندرونِ ملک مینوفیکچرنگ کو وسعت دینے، سپلائی چین کو متنوع بنانے اور تزویراتی شعبوں میں سرمایہ کاری راغب کرنے کے اقدامات کے ذریعے چین پر اس انحصار کو کم کرنے کی کوشش کی ہے۔ تاہم موجودہ تجارتی روابط کا حجم اور متعدد بھارتی صنعتوں کا چینی خام مال اور پرزوں پر انحصار کسی بھی فوری معاشی علیحدگی کو مشکل بنا دیتا ہے۔
مودی اور شی جن پنگ کی ملاقات کئی برس کی کشیدگی کے بعد دوبارہ شروع ہونے والے سفارتی رابطوں کی جانب ایک اور قدم ہے۔ دونوں ممالک ماضی میں اس بات کی اہمیت پر زور دے چکے ہیں کہ سرحد پر امن اور سکون برقرار رکھنا باہمی تعلقات کی ترقی کے لیے ایک بنیادی ضرورت ہے۔
کانگریس کا مؤقف رہا ہے کہ بیجنگ کے ساتھ سفارتی رابطوں کے ساتھ ساتھ سلامتی سے متعلق خدشات پر زیادہ شفافیت اور معاشی کمزوریوں کو کم کرنے کے لیے ایک جامع حکمت عملی بھی ضروری ہے۔ دوسری جانب حکومت کا کہنا ہے کہ بھارت کے قومی مفادات کے تحفظ کے لیے بات چیت، سفارتی رابطے اور فوجی تیاری بیک وقت جاری ہیں۔
شیئر کریں:

More from سیاست

ہندوستان میں دہشت گردی کو برداشت نہیں کیا جائے گا:مودی
سیاست

ہندوستان میں دہشت گردی کو برداشت نہیں کیا جائے گا:مودی

27 ستمبر، 2026
ووٹ چوری سے آئین و جمہوریت ختم ہو رہی ہے: راہل گاندھی
سیاست

ووٹ چوری سے آئین و جمہوریت ختم ہو رہی ہے: راہل گاندھی

24 ستمبر، 2026
جموں و کشمیر اسمبلی میں ہنگامہ، پہلے ہی دن بی جے پی ارکان کا احتجاج
سیاست

جموں و کشمیر اسمبلی میں ہنگامہ، پہلے ہی دن بی جے پی ارکان کا احتجاج

21 ستمبر، 2026
ترقی یافتہ ہندوستان کے سفر کے مرکز میں ہے ملک کی نوجوان طاقت: مودی
سیاست

ترقی یافتہ ہندوستان کے سفر کے مرکز میں ہے ملک کی نوجوان طاقت: مودی

19 ستمبر، 2026
’بچوں کی زندگی میں داخل ہونا ہوگا‘، یوم اساتذہ پر وزیراعظم نریندر مودی کی اساتذہ سے اپیل
سیاست

’بچوں کی زندگی میں داخل ہونا ہوگا‘، یوم اساتذہ پر وزیراعظم نریندر مودی کی اساتذہ سے اپیل

5 ستمبر، 2026
ملک کی معیشت مضبوط ہے تو اس کا اثر زمین پر کیوں نہیں نظرآ رہا: کانگریس
سیاست

ملک کی معیشت مضبوط ہے تو اس کا اثر زمین پر کیوں نہیں نظرآ رہا: کانگریس

1 ستمبر، 2026