جموں و کشمیر اسمبلی میں ہنگامہ، پہلے ہی دن بی جے پی ارکان کا احتجاج
Awaz E Bihar••8 ویوز•3 منٹ پڑھیں
جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کے سات نشستوں پر مشتمل خزاں اجلاس کے پہلے ہی دن پیر کو اس وقت ہنگامہ آرائی اور کارروائی میں خلل پیدا ہوگیا جب بی جے پی ارکان نے یومیہ اجرت پر کام کرنے والے ملازمین، قومی صحت مشن (این ایچ ایم) کے ملازمین، بجلی کے نرخوں اور عمر عبداللہ کی قیادت والی حکومت کی مبینہ ناکامیوں سمیت مختلف مسائل پر احتجاج کرتے ہوئے ایوان کے ویل میں پہنچ کر نعرے بازی شروع کردی۔احتجاج کا آغاز تعزیتی قراردادوں کے فوراً بعد ہوا، جب بی جے پی ارکان نے یومیہ اجرت والے ملازمین کو مستقل کرنے اور این ایچ ایم ملازمین کے مسائل کے حل کے لیے کارروائی کا مطالبہ کرتے ہوئے نعرے لگائے اور پلے کارڈز لہرائے۔ بی جے پی نے بجلی کے نرخوں میں اضافے کا مسئلہ بھی اٹھایا۔ ارکان یومیہ اجرت والے ملازمین کے ساتھ انصاف کرو اور این ایچ ایم ملازمین کے ساتھ انصاف کرو جیسے نعرے لگا رہے تھے۔ انہوں نے بھارت ماتا کی جے کے نعرے بھی لگائے اور حکومت پر عوام سے متعلق مسائل حل کرنے میں ناکام رہنے کا الزام عائد کیا۔صورتحال اس وقت مزید کشیدہ ہوگئی جب بی جے پی ارکان ایوان کے ویل میں پہنچ گئے اور حکومت کے خلاف نعرے بازی تیز کردی۔اس کے جواب میں حکمراں بنچوں، جن میں نیشنل کانفرنس کے ارکان اور اس کے اتحادی شامل تھے، نے جموں و کشمیر کا ریاستی درجہ بحال کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے نعرے لگائے۔ کانگریس کے ارکان ووٹ چور سرکار کو ایک دھکا اور دو کے نعرے لگاتے ہوئے بھی نظر آئے۔ اسپیکر عبدالرحیم راتھر نے احتجاج کرنے والے بی جے پی ارکان سے بار بار اپنی نشستوں پر واپس جانے کی اپیل کی اور خبردار کیا کہ اگر کارروائی میں خلل جاری رہا تو ان کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔ انہوں نے یہ بھی ہدایت دی کہ احتجاج کے دوران لگائے گئے بعض نعروں اور دیے گئے بیانات کو اسمبلی کی کارروائی کے سرکاری ریکارڈ کا حصہ نہ بنایا جائے۔شور شرابے کے باوجود وقفہ سوالات جاری رہا اور وزرا نے ارکان اسمبلی کی جانب سے اٹھائے گئے سوالات کے جوابات دیے۔نائب وزیراعلیٰ سریندر چودھری نے اپوزیشن پر سیاسی مقاصد کے لیے جان بوجھ کر اسمبلی کی کارروائی میں خلل ڈالنے کا الزام عائد کیا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت عوامی مسائل سے متعلق سوالات کے جواب دینے کے لیے تیار ہے۔وقفہ سوال کے بعد نیشنل کانفرنس کے رکن اور ریٹائرڈ جسٹس حسنین مسعودی نے مرکز کے زیر انتظام خطے جموں و کشمیر میں 'جل جیون مشن' (جے جے ایم) کے نفاذ میں مبینہ بے ضابطگیوں کی تحقیقات کے لیے قائم ایوان کی کمیٹی کی رپورٹ اسمبلی کے میز پر پیش کی۔اس کمیٹی کو 9 اپریل 2025 کے ایک حکم نامے کے ذریعے جموں و کشمیر میں جل جیون مشن کے نفاذ میں مبینہ بے ضابطگیوں کا جائزہ لینے کے لیے تشکیل دیا گیا تھا۔جموں و کشمیر حکومت نے پیر کو انکشاف کیا کہ براہِ راست تقرری کوٹے کے تحت مختلف محکموں میں سرکاری ملازمتوں کی 40,672 آسامیاں خالی ہیں۔ یہ اعداد و شمار جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی میں وزیرِ انچارج نے کانگریس کے رکن اسمبلی عرفان حفیظ لون کے ایک سوال کے جواب میں پیش کیے۔