جمعرات، 1 اکتوبر، 2026
اردوहिन्दीEnglish
آواز ای بہار
آواز ای بہار
ہومای پیپرویڈیوزقومیسیاستکھیلتعلیمبہارقومیسیاستکھیلصحتتعلیممضامینعالمی خبریں
اہمقومیسیاستکھیلتعلیمبہارقومیسیاستکھیلصحتتعلیممضامینعالمی خبریں

آواز ای بہار

بہار کی آواز — اردو، ہندی اور انگریزی میں تازہ ترین خبریں

زمرے

  • مقامی
  • قومی
  • سیاست
  • کاروبار
  • ٹیکنالوجی
  • کھیل
  • صحت
  • تعلیم

فوری لنکس

  • ہوم
  • ای پیپر
  • ویڈیوز
  • دن کی تصویر
  • ہمارے بارے میں
  • رابطہ کریں
  • پرائیویسی پالیسی
  • شرائط و ضوابط

نیوز روم

  • ادارتی پالیسی
  • تصحیح و شکایات
  • اشتہارات
  • نیوز روم رابطہ

زبانیں

  • اردو (Urdu)
  • हिन्दी (Hindi)
  • English

ہمیں فالو کریں

Email: awazebihar@gmail.com

Phone: +91-9473486854

© 2026 Awaz E Bihar Publications. جملہ حقوق محفوظ ہیں

Designed and Developed byZeloiteZeloite
ووٹ چوری سے آئین و جمہوریت ختم ہو رہی ہے: راہل گاندھی
  1. ہوم
  2. سیاست
سیاست

ووٹ چوری سے آئین و جمہوریت ختم ہو رہی ہے: راہل گاندھی

Awaz E Bihar•24 ستمبر، 2026 کو 03:56 PM•10 ویوز•8 منٹ پڑھیں

کانگریس کے سابق صدر اور لوک سبھا میں اپوزیشن کے رہنما راہل گاندھی نے کہا ہے کہ 'ووٹ چوری کے ذریعے آئین، قانون اور جمہوری اداروں کو کمزور کر کے بی جے پی کے خلاف اقتدار مخالف (اینٹی انکمبنسی) لہر کو پوری طرح ختم کر دیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کی جانب سے کرائی جا رہی ووٹ چوری کا انکشاف ان کے ساتھی ہی کر چکے ہیں، اس لیے انہیں استعفیٰ دینا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ ووٹ چوری کی سازش میں وزیر اعظم نریندر مودی، وزیر داخلہ امت شاہ، قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈووبھال، چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار، صنعت کار گوتم اڈانی سمیت کئی لوگ شامل ہیں۔ ووٹ چوری ملک کی جمہوریت پر بہت بڑا حملہ ہے اور ملک کی جمہوریت کو نقصان پہنچانے کی یہ سازش غداری ہے۔ ووٹ چوری کرنے والے غداروں کے خلاف وہ چپ نہیں بیٹھیں گے۔ انہوں نے کہا کہ مسٹر گیانیش کمار کے فیصلوں پر ان کے ساتھ کے دو الیکشن کمشنر سوال اٹھا رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ مسٹر گیانیش کمار جی پڑھے لکھے انسان ہیں اور وہ جانتے ہیں کہ ملک کو ان کی وجہ سے کتنا نقصان ہو رہا ہے اس لیے چیف الیکشن کمشنر کو اپنا عہدہ چھوڑ دینا چاہیے۔مسٹر گاندھی نے جمعرات کے روز یہاں پارٹی ہیڈکوارٹر اندرا بھون میں پریس کانفرنس میں کہا کہ وزیر داخلہ امت شاہ کا یہ کہنا کہ اگلے 30 سال تک بی جے پی کی حکومت رہے گی اور لوگوں کو اس کی عادت ڈالنی چاہیے، اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ کہیں کچھ گڑبڑ ہو رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اقتدار مخالف لہر کبھی ختم نہیں ہو سکتی اور اگر ایسا ہو رہا ہے تو کچھ گڑبڑ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سیاسی پارٹی یا رہنما ہمیشہ مقبول نہیں رہ سکتا۔ انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ اندرا گاندھی بنگلہ دیش جنگ کے وقت ملک کی انتہائی مقبول وزیر اعظم تھیں لیکن دو تین سال بعد ان کے خلاف زبردست اقتدار مخالف لہر آئی۔ سابق وزیر اعظم اٹل بہاری واجپئی، راجیو گاندھی، منموہن سنگھ اور مختلف ریاستوں کے وزرائے اعلیٰ کے خلاف بھی اقتدار مخالف لہر آتی رہی ہے لیکن اب بی جے پی کے خلاف یہ لہر پوری طرح غائب دکھتی ہے اور اس کا غائب ہونا اہم سوال کھڑا کرتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ وہ ایک سیاسی خاندان سے آتے ہیں اور پچھلے 50 سال سے سیاست کو دیکھ رہے ہیں۔ انہیں لگتا ہے کہ کسی بھی سیاسی پارٹی یا رہنما کے بارے میں اس طرح کا دعویٰ نہیں کیا جا سکتا کہ وہ طویل عرصے تک اقتدار میں بنا رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ ہریانہ، مدھیہ پردیش، گجرات، اتر پردیش اور مہاراشٹر جیسی ریاستوں میں ایک پارٹی آتی ہے اور دوسری چلی جاتی ہے ، لیکن اب صورت حال بدل گئی ہے۔ یہ اقتدار مخالف لہر ختم کر دی گئی ہے۔
مسٹر گاندھی نے کہا کہ ووٹ چوری سے ملک کو برباد کیا جا رہا ہے۔ اس سلسلے میں سب سے پہلے آئین آتا ہے، اس کے بعد قانون اور پھر ادارے آتے ہیں لیکن ان کے مطابق آج آئین کو کمزور کیا جا رہا ہے، قانون اور اداروں کی خود مختاری ختم کی جا رہی ہے۔ اگر آئین نہیں رہے گا، قانون کمزور ہو جائیں گے اور اداروں کو ختم کر دیا جائے گا تو کچھ نہیں بچے گا۔
انہوں نے کہا کہ ووٹ سے آئین کو طاقت ملتی ہے، ووٹ سے ہی قانون بنتے ہیں اور قانون سے ادارے چلتے ہیں۔ جب لوگ ووٹ ڈالتے ہیں تو آئین کو طاقت ملتی ہے، لیکن اگر ووٹ کو ہی ختم کر دیا جائے تو قانون اور اداروں کا کوئی مطلب نہیں رہ جاتا۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں ووٹ کو تباہ کرنے کا کام کیا گیا ہے اور اسی وجہ سے ادارے بھی کمزور ہوئے ہیں۔
مسٹر گاندھی نے کہا کہ انہوں نے 28 اکتوبر 2025 کو پریس کانفرنس کر کے ملک میں 'ووٹ چوری کا معاملہ اٹھایا تھا اور اس کے بعد 'ووٹ چوری ادھیکار یاترا کے ذریعے بھی عوام کو بتایا کہ ووٹ چوری ہو رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس سے پہلے ہریانہ میں بھی ووٹ چوری ہوئی تھی اور الیکشن کمیشن ان واقعات سے باخبر تھا۔ ان پریس کانفرنسوں کے ذریعے الیکشن کمیشن پر دباؤ پڑا۔ یہ پوچھے جانے پر کہ انہیں کیسے معلوم ہوا کہ ووٹ چوری ہو رہی ہے، ان کا کہنا تھا کہ جب اقتدار مخالف لہر پوری طرح ختم ہوتی ہے تو اس کا مطلب ہے ووٹ چوری ہو رہی ہے۔
مسٹر گاندھی نے کہا کہ ووٹ چوری ووٹر فہرست سے نام ہٹا کر اور ای وی ایم کے ذریعے دونوں طرح سے کی جا رہی ہے۔ ووٹروں کے نام بدلے جا رہے ہیں، فہرست سے ہٹائے جا رہے ہیں اور ای وی ایم کے ذریعے بھی ووٹ چوری کی جا رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ دو دن پہلے دو الیکشن کمشنروں کی طرف سے اٹھائے گئے سوالات سے ان کی کہی ووٹ چوری کی بات کی تصدیق ہوئی ہے۔ دونوں الیکشن کمشنروں نے چیف الیکشن کمشنر کے فیصلوں پر اعتراض درج کرایا ہے اور یہ تب ہی ممکن ہوا ہے جب انہوں نے اپنی پریس کانفرنس کے ذریعے بتایا کہ ووٹ چوری ہو رہی ہے۔ مسٹر گاندھی نے کہا کہ انہوں نے ووٹ چوری کے خلاف یاترا نکالی اور کئی مسائل اٹھائے لیکن اس وقت دونوں الیکشن کمشنروں نے کچھ نہیں کہا اور جب ان کی پریس کانفرنس کی کہی باتیں سچ ثابت ہونے لگیں تو الیکشن کمشنروں نے چیف الیکشن کمشنر کے فیصلے پر اعتراض درج کرنے کا کام اسی دباؤ میں کیا۔
انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے ووٹ چوری کا راستہ نکالا ہے۔ انہوں نے دسمبر 2023 میں ایسا قانون بنایا جس کے تحت چیف الیکشن کمشنر کے انتخاب کے نظام میں تبدیلی کی گئی۔ انہوں نے اس سلسلے میں وزیر اعظم کو خط لکھ کر کہا تھا کہ الیکشن کمیشن کے انتخاب کا عمل منصفانہ ہونا چاہیے لیکن ان کی بات کو نظر انداز کیا گیا اور بعد میں انہی کے حساب سے چیف الیکشن کمشنر کی تقرری کی گئی۔ چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار اعلیٰ تعلیم یافتہ شخص ہیں اور انہیں سمجھنا چاہیے کہ وہ ملک کے لیے کیا کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عام کام نہیں ہو رہا بلکہ آئین پر حملہ کیا گیا ہے اور اسے کمزور کرنے کا کام کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ چیف الیکشن کمشنر کو فوری طور پر استعفیٰ دینا چاہیے۔
مسٹر گاندھی نے وزیر اعظم نریندر مودی، وزیر داخلہ امت شاہ، قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈووبھال اور راشٹریہ سویم سیوک سنگھ کے سربراہ موہن بھاگوت سمیت کچھ لوگوں کی تصویریں دکھاتے ہوئے کہا کہ یہ لوگ جمہوریت کو ختم کرنے کی سازش میں شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن کا انتخاب وزیر اعظم اور وزیر داخلہ امت شاہ نے کیا ہے اور اب چیف الیکشن کمشنر کے ساتھ کام کر رہے ان کے دو الیکشن کمشنر ان سے ہی سوال کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ووٹ ختم ہو چکا ہے اور قانون بنانے والے ادارے بھی ختم کیے جا رہے ہیں۔کانگریس رہنما نے کہا کہ آج ملک میں جمہوریت جس صورت حال میں پہنچ گئی ہے 1947 کے بعد سے کبھی ایسی صورت حال سے ملک نہیں گزرا ہے۔ انتخاب کے عمل کو ختم کیا جا رہا ہے، قانون بنانے والے اداروں کو تباہ کیا جا رہا ہے، ووٹ چوری کی جا رہی ہے اور اداروں کو ختم کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک کی آزادی کی تاریخ میں یہ پہلا موقع ہے جب وہ اس طرح کی صورت حال دیکھ رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ مسٹر مودی اور دیگر لوگوں نے جس طرح 'ووٹ چوری' کرائی ہے، اس کی تحقیقات ضرور ہوں گی اور ووٹ چوری کی سازش کے لیے ذمہ دار لوگوں کو سزا ملے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن میں جو کچھ ہو رہا ہے، اس کے خلاف آواز اٹھانے والے دونوں الیکشن کمشنروں کے حوصلے کی وہ سراہنا کرتے ہیں کیونکہ وہ جو کچھ ہو رہا ہے، اس کا انکشاف کر رہے ہیں۔
مسٹر گاندھی نے کہا کہ جو کچھ وہ کہہ رہے ہیں وہ کسی طرح کا قیاس یا گمراہ کن بات نہیں ہے بلکہ سچائی پر مبنی ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ وزیر اعظم اور وزیر داخلہ نے ملک کی جمہوریت کو برباد کیا ہے نیز جن لوگوں نے آئین کو برباد کرنے کا کام کیا ہے ان کی تحقیقات ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس ملک کی آزادی کی لڑائی لڑنے والی پارٹی ہے اور وہ جمہوریت نیز آئین کو بچانے کی اس لڑائی میں خاموش نہیں بیٹھے گی۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس اس معاملے کو چھوڑنے والی نہیں ہے اور 'ووٹ چوری کے خلاف اپنی لڑائی جاری رکھے گی۔
شیئر کریں:

More from سیاست

ہندوستان میں دہشت گردی کو برداشت نہیں کیا جائے گا:مودی
سیاست

ہندوستان میں دہشت گردی کو برداشت نہیں کیا جائے گا:مودی

27 ستمبر، 2026
جموں و کشمیر اسمبلی میں ہنگامہ، پہلے ہی دن بی جے پی ارکان کا احتجاج
سیاست

جموں و کشمیر اسمبلی میں ہنگامہ، پہلے ہی دن بی جے پی ارکان کا احتجاج

21 ستمبر، 2026
ترقی یافتہ ہندوستان کے سفر کے مرکز میں ہے ملک کی نوجوان طاقت: مودی
سیاست

ترقی یافتہ ہندوستان کے سفر کے مرکز میں ہے ملک کی نوجوان طاقت: مودی

19 ستمبر، 2026
رمیش نے شی جن پنگ سے ملاقات کے بعد مودی کی چین پالیسی پر سوال اٹھائے، سرحد، آپریشن سندور اور معاشی انحصار کا معاملہ اٹھایا
سیاست

رمیش نے شی جن پنگ سے ملاقات کے بعد مودی کی چین پالیسی پر سوال اٹھائے، سرحد، آپریشن سندور اور معاشی انحصار کا معاملہ اٹھایا

13 ستمبر، 2026
’بچوں کی زندگی میں داخل ہونا ہوگا‘، یوم اساتذہ پر وزیراعظم نریندر مودی کی اساتذہ سے اپیل
سیاست

’بچوں کی زندگی میں داخل ہونا ہوگا‘، یوم اساتذہ پر وزیراعظم نریندر مودی کی اساتذہ سے اپیل

5 ستمبر، 2026
ملک کی معیشت مضبوط ہے تو اس کا اثر زمین پر کیوں نہیں نظرآ رہا: کانگریس
سیاست

ملک کی معیشت مضبوط ہے تو اس کا اثر زمین پر کیوں نہیں نظرآ رہا: کانگریس

1 ستمبر، 2026