آئینی اداروں کو کمزور کرنا اس کے ڈی این اے میں ہے: شیوراج
Awaz E Bihar
••3 ویوز•3 منٹ پڑھیں
زراعت اور کسانوں کی بہبود کے مرکزی وزیرمرکزی شیو راج سنگھ چوہان نے ایک شہری، ایک ووٹ کو منصفانہ انتخابات کی بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ انتخاب ہارنے کے بعد مینڈیٹ کی توہین کرنا کانگریس کی پرانی عادت ہے۔ مسٹر چوہان نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم 'ایکس‘ پر اتوار کو جاری کردہ ایک بیان میں ووٹر فہرست کی خصوصی جامع نظر ثانی (ایس آئی آر) میں دھاندلی کے معاملے پر الیکشن کمیشن پر تنقید کرنے اور چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار سے استعفیٰ مانگنے پر کانگریس صدر ملیکارجن کھرگے کو نشانہ بنایا اور کہا، "ہارنے پر مینڈیٹ کی توہین کرنا کانگریس کی پرانی عادت ہے۔ الیکشن کمیشن کو بدنام کرنا اور آئینی اداروں کو کمزور کرنا کانگریس کے ڈی این اے میں ہے۔" انہوں نے کہا کہ کانگریس الیکشن جیت جائے تو الیکشن کمیشن ٹھیک اور ہار جائے تو الیکشن کمیشن خراب؟ انہوں نے سوال کیا کہ کرناٹک، تلنگانہ اور ہماچل میں کانگریس الیکشن کیسے جیتی؟ انہوں نے بیلٹ پیپر کے ذریعے انتخابات کرانے کے کانگریس کے مطالبے پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ کیا کانگریس اس مطالبے کے ذریعے ملک کو 80 اور 90 کی دہائی میں واپس لے جانا چاہتی ہے؟ انہوں نے کہا، "اب وہ بیلٹ پیپر سے الیکشن کرانے کی بات کر رہے ہیں۔ 1980 اور 1990 کی دہائی یاد کریں، جب بیلٹ باکس لوٹ لیے جاتے تھے، ایک ہی آدمی بیلٹ پیپرز پر مہر لگا دیتا تھا۔ کیا کانگریس ملک کو اس دور میں واپس لے جانا چاہتی ہے؟" انہوں نے کہا کہ ٹیکنالوجی سے انتخابات میں شفافیت آئی ہے، آخر کانگریس اس کی مخالفت کیوں کرنا چاہتی ہے؟ انہوں نے مزید کہا کہ کانگریس ملک میں ایمرجنسی لگا کر پہلے بھی جمہوریت کو کمزور کر چکی ہے اور اب آئینی اداروں کو کمزور کرنے کا خطرناک کھیل کھیل رہی ہے۔ مرکزی وزیر زراعت نے کہا کہ ادارے غلط ہیں، نظام غلط ہے، سب کو تباہ کر دو، ملک کو بے امن بنا دو، یہ گناہ ہے اور کانگریس یہ گناہ کرنے پر تلی ہوئی ہے، لیکن کانگریس کے ناپاک ارادے اور منصوبے کبھی کامیاب نہیں ہوں گے۔ انہوں نے کہا، "ایک شہری، ایک ووٹ ہی منصفانہ انتخابات کی بنیاد ہے۔ ووٹر فہرست میں مکمل تبدیلی سے انتخابات میں شفافیت بڑھتی ہے اور لوگوں کا اعتماد بحال ہوتا ہے۔" انہوں نے لوک سبھا میں قائدِ حزبِ اختلاف راہل گاندھی اور مسٹر کھرگے پر حملہ بولتے ہوئے کہا کہ مسٹر گاندھی کے کہنے پر مسٹر کھرگے نے وزیر اعظم اور وزیر داخلہ کو 'غیر قانونی' بتایا۔ یہ جمہوریت اور عوام کے فیصلے کی توہین ہے۔ یہ آئینی اداروں کو کمزور کرتا ہے، جمہوریت میں بے اعتمادی پیدا کرتا ہے، اور پورے ملک میں انارکی پھیلانے کی کوشش کرتا ہے۔ کانگریس کس قسم کی بیان بازی کر رہی ہے؟