ہفتہ، 10 اکتوبر، 2026
اردوहिन्दीEnglish
آواز ای بہار
آواز ای بہار
ہومای پیپرویڈیوزقومیسیاستکھیلبہارقومیسیاستکھیلمضامینعالمی خبریں
اہمقومیسیاستکھیلبہارقومیسیاستکھیلمضامینعالمی خبریں

آواز ای بہار

بہار کی آواز — اردو، ہندی اور انگریزی میں تازہ ترین خبریں

زمرے

  • مقامی
  • قومی
  • سیاست
  • کاروبار
  • ٹیکنالوجی
  • کھیل
  • صحت
  • تعلیم

فوری لنکس

  • ہوم
  • ای پیپر
  • ویڈیوز
  • دن کی تصویر
  • ہمارے بارے میں
  • رابطہ کریں
  • پرائیویسی پالیسی
  • شرائط و ضوابط

نیوز روم

  • ادارتی پالیسی
  • تصحیح و شکایات
  • اشتہارات
  • نیوز روم رابطہ

زبانیں

  • اردو (Urdu)
  • हिन्दी (Hindi)
  • English

ہمیں فالو کریں

Email: awazebihar@gmail.com

Phone: +91-9473486854

© 2026 Awaz E Bihar Publications. جملہ حقوق محفوظ ہیں

Designed and Developed byZeloiteZeloite
پورا ملک ایک نئے نظریئے کی تلاش میں ہے: سید سعادت اللہ حسینی
پورا ملک ایک نئے نظریئے کی تلاش میں ہے: سید سعادت اللہ حسینی — photo 2
1/2
  1. ہوم
  2. بہار
بہار

پورا ملک ایک نئے نظریئے کی تلاش میں ہے: سید سعادت اللہ حسینی

Awaz E Bihar
•10 اکتوبر، 2026 کو 01:23 PM•1 ویوز•6 منٹ پڑھیں

جماعت اسلامی ہند، بہار کا سہ روزہ آل بہار اجتماع ارکان پٹنہ میں شروع

پٹنہ، 10 اکتوبر (اے بی این)جماعت اسلامی ہند کے امیر سید سعادت اللہ حسینی نے کہا ہے کہ ہندوستان اس وقت غیر معمولی سماجی، سیاسی اور نظریاتی انتشار سے گزر رہا ہے۔ مذہبی، طبقاتی اور معاشرتی تضادات شدت اختیار کر رہے ہیں اور مختلف طبقات میں بے چینی پائی جاتی ہے۔ ایسے حالات میں پورا ملک ایک نئے نظریے اور نئی فکری سمت کی تلاش میں ہے۔ یہ صورت حال بظاہر تشویش ناک ہے، لیکن فکری اور نظریاتی تحریکوں کے لیے نئے امکانات بھی پیدا کرتی ہے۔ سعادت اللہ حسینی انجمن اسلامیہ ہال میں جماعت اسلامی ہند بہار کے سہ روزہ آل بہار اجتماع ارکان سے خطاب کر رہے تھے۔ ان کے خطاب کا موضوع تھا، ”بدلتے ہوئے حالات میں تحریک اسلامی“۔اجتماع میں ریاست کے تمام اضلاع سے آئے ارکان شرکت کر رہے ہیں جن میں کثیر تعداد میں خواتین بھی شامل ہیں۔امیر جماعت نے کہا کہ ملک میں اسلام اور مسلمانوں سے متعلق غیر معمولی بحث و مباحثہ جاری ہے۔ نماز، اذان، حجاب اور اسلامی تعلیمات پر گاؤں، محلوں، تعلیمی اداروں اور عوامی مقامات پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ یہ صورت حال اسلام کا صحیح تعارف پیش کرنے کا ایک اہم موقع ہے۔ انہوں نے کہا کہ ”دعوت کا اسٹیج سج چکا ہے، اب ہمیں آگے بڑھ کر اپنا پیغام پیش کرنا ہے۔“
سید سعادت اللہ حسینی نے زور دیا کہ مذہبی اختلافات کو ٹکراؤ اور کشیدگی کے بجائے مکالمے اور باہمی افہام و تفہیم کا ذریعہ بنایا جائے۔ اس مکالمے کو کانفرنس ہال تک محدود رکھنے کے بجائے گاؤں گاؤں، محلہ محلہ اور گھر گھر پہنچایا جائے، بالخصوص نئی نسل کے سوالات اور فکری تقاضوں پر توجہ دی جائے۔انہوں نے کہا کہ تحریک اسلامی کو موجودہ مشکلات کے ساتھ مستقبل کے ہندوستان کی تعمیر پر بھی غور کرناہے۔ ملک میں انصاف، امن، باہمی اعتماد اور مثبت سماجی تبدیلی کے لیے مؤثر کردار ادا کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔اس موقع پر جماعت اسلامی ہند کے سکریٹری ٹی آر عارف علی نے”تحریک اسلامی اور سوشل انگیج منٹ“ کے موضوع پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ حالات میں اسلام کے حق میں رائے عامہ میں مثبت تبدیلی لانے کے لیے سماجی روابط کو مضبوط کرنا اور معاشرے کے تمام طبقات کے ساتھ مثبت تعلقات قائم کرنا ضروری ہے۔ اسلاموفوبیا اور مسلمانوں کے خلاف نفرت کے ماحول میں باہمی اعتماد، اچھے اخلاق اور عملی کردار کے ذریعے غلط فہمیوں کو دور کرنے کی کوشش ہونی چاہیے۔انہوں نے کہا کہ اسلام ایک جامع نظامِ حیات ہے، جو ہر دور اور ہر معاشرے میں رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ ہمارے سامنے ایک مثالی اسلامی معاشرے کا نصب العین ضرور ہے، لیکن ہمیں یہ حقیقت بھی سمجھنی چاہیے کہ ہم ایک کثیر مذہبی معاشرے میں رہتے ہیں، جہاں مسلمان اقلیت میں ہیں۔ ایسے حالات میں اپنے محدود حلقوں سے نکل کر عام لوگوں کے ساتھ سماجی روابط بڑھانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
جناب عارف علی نے زور دیا کہ محض مثالی اسلامی معاشرے کی بات کرنا کافی نہیں، بلکہ موجودہ معاشرے کے ساتھ عملی تعلقات قائم کرنا بھی ضروری ہے۔ ہمیں اپنے پڑوسیوں، رشتہ داروں، محلے کے باشندوں اور مختلف مذاہب و طبقات کے لوگوں کے ساتھ خوش گوار تعلقات استوار کرنے چاہئیں۔ٹی آر عارف صاحب نے کہا کہ سماجی روابط یک طرفہ عمل نہیں ہیں۔ ہمیں اپنی بات دوسروں تک پہنچانے کے ساتھ ان کی بات سننے، ان کے خیالات سمجھنے اور ان کے تجربات سے سیکھنے کے لیے بھی تیار رہنا چاہیے۔ ہمارا عقیدہ مضبوط ہو، لیکن دل و دماغ کے دروازے بھی کھلے رہیں۔انہوں نے کہا کہ اسلام کے حق میں مثبت رائے عامہ کی تشکیل کا مؤثر ذریعہ اچھا اخلاق، خدمتِ خلق، باہمی احترام اور مسلسل سماجی رابطہ ہے۔ تحریک اسلامی کے کارکنوں کو معاشرے سے الگ تھلگ رہنے کے بجائے اس کے درمیان رہ کر لوگوں کے دلوں میں جگہ بنانے اور اسلام کے بارے میں پائی جانے والی غلط فہمیوں کو دور کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے جماعت اسلامی ہند، بہار کے امیر حلقہ مولانا رضوان احمد اصلاحی نے کہا کہ موجودہ ملکی حالات میں ہندو سماج سمیت غیر مسلموں کے اندر اسلام اور مسلمانوں کے مذہبی و سماجی معاملات کو جاننے کی دلچسپی بڑھ رہی ہے۔ لوگ یہ سمجھنا چاہتے ہیں کہ مساجد اور مدارس کیا ہیں، مسلمان اوقاف سے جذباتی وابستگی کیوں رکھتے ہیں، مسلم پرسنل لا کی حقیقت کیا ہے اور یکساں سول کوڈ کی مخالفت کی وجوہات کیا ہیں۔ یہ صورت حال جہاں امت مسلمہ کے لیے چیلنج ہے، وہیں تحریک اسلامی کے لیے اسلام کا صحیح تعارف پیش کرنے کا ایک بہترین موقع بھی ہے۔مولانا رضوان احمد اصلاحی نے کہا کہ موجودہ حالات سے خوف زدہ ہونے یا محض جذباتی ردعمل ظاہر کرنے کے بجائے مسلمانوں کو حکمت، صبر اور استقامت کے ساتھ اسلام کی حقیقی تعلیمات کو عام کرنا چاہیے۔ اسلام عدل و انصاف، امن، مساوات، بھائی چارے اور انسانی ہمدردی کا پیغام دیتا ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ مسلمانوں کا اخلاق و کردار ایسا ہو کہ دوسرے مذاہب کے لوگ بھی ان کی امانت، دیانت اور حسنِ سلوک کا اعتراف کریں۔امیر حلقہ نے کہا کہ آج دنیا بھر میں عدل و انصاف کی آواز بلند ہو رہی ہے۔ نئی نسل بھی حق، انصاف اور مساوات کا مطالبہ کر رہی ہے۔ یہ تحریک اسلامی کے لیے امید کی ایک نئی کرن ہے۔ انہوں نے کہا کہ انصاف کا قیام فرد، سماج اور ریاست سب کی بنیادی ضرورت ہے اور اسلامی تحریک کو اس مقصد کے لیے مسلسل جدوجہد کرنی چاہیے۔
مولانا اصلاحی نے کہا کہ امت مسلمہ کو صرف اپنے مسائل تک محدود رہنے کے بجائے عام انسانوں کی فلاح و بہبود کے لیے بھی آگے آنا ہوگا۔ مسلمانوں کو اپنی ذمہ داریوں کا احساس کرتے ہوئے خدمتِ خلق، اصلاحِ معاشرہ اور قیامِ عدل میں مؤثر کردار ادا کرنا چاہیے۔ریاستی اجتماع کے مقصد پر روشنی ڈالتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ محض ایک تنظیمی روایت نہیں بلکہ فکر و عمل کی تجدید، خود احتسابی اور تربیت و تزکیہ کا اہم ذریعہ ہے۔ انہوں نے ارکان و کارکنان سے اپیل کی کہ وہ اجتماع سے نئے عزم اور تازہ حوصلے کے ساتھ واپس جائیں اور اپنے اپنے علاقوں میں دعوتِ دین، خدمتِ انسانیت اور اصلاحِ معاشرہ کی سرگرمیوں کو مزید مؤثر بنائیں۔
شیئر کریں:

Awaz E Bihar

تجربہ کار صحافی اور مصنف

More from بہار

کسان گنے کی کھیتی کا رقبہ بڑھائیں ، جدید تکنیک اپناکر آمدنی میں اضافہ کریں: سنجے کمار
بہار

کسان گنے کی کھیتی کا رقبہ بڑھائیں ، جدید تکنیک اپناکر آمدنی میں اضافہ کریں: سنجے کمار

10 اکتوبر، 2026
زمین کے معاملات لٹکانے والے افسران کی خیر نہیں دلیپ جیسوال کا سخت انتباہ
بہار

زمین کے معاملات لٹکانے والے افسران کی خیر نہیں دلیپ جیسوال کا سخت انتباہ

9 اکتوبر، 2026
انڈیا اتحاد بکھرا ہوا ہے، ایس آئی آر پر اپوزیشن پھیلا رہی ہے غلط فہمی: بی جے پی
بہار

انڈیا اتحاد بکھرا ہوا ہے، ایس آئی آر پر اپوزیشن پھیلا رہی ہے غلط فہمی: بی جے پی

9 اکتوبر، 2026
فرکا آبی معاہدے کی تجدید میں 2050 تک بہار کی آبی ضروریات کو مدنظر رکھا جائے: سنجے جھا
بہار

فرکا آبی معاہدے کی تجدید میں 2050 تک بہار کی آبی ضروریات کو مدنظر رکھا جائے: سنجے جھا

9 اکتوبر، 2026
کلاسیکی موسیقی ہماری شاندار ثقافتی روایت کا اہم حصہ ہے، اسے فروغ دینے کی ضرورت ہے: وزیر اعلیٰ
بہار

کلاسیکی موسیقی ہماری شاندار ثقافتی روایت کا اہم حصہ ہے، اسے فروغ دینے کی ضرورت ہے: وزیر اعلیٰ

9 اکتوبر، 2026
بہار میں صنعتی ترقی کا بڑا منصوبہ، پانچ لاکھ کروڑ کی سرمایہ کاری کا ہدف
بہار

بہار میں صنعتی ترقی کا بڑا منصوبہ، پانچ لاکھ کروڑ کی سرمایہ کاری کا ہدف

8 اکتوبر، 2026