26 جولائی 2005: ریکارڈ بارش نے ممبئی کو مفلوج کردیا، 21 برس بعد بھی وہ قیامت خیز دن شہریوں کے ذہنوں میں تازہ
Awaz E Bihar••142 ویوز•5 منٹ پڑھیں
آج بھی شدید بارش اور سیلابی صورتحال نے 26 جولائی کی ہولناک یادیں تازہ کردیں؛ ماہرین نے شہری منصوبہ بندی اور نکاسیٔ آب کے نظام کو مزید مضبوط بنانے پر زور دیا ممبئی کی تاریخ میں 26 جولائی 2005 ایک ایسے سیاہ باب کی حیثیت رکھتا ہے جسے کبھی فراموش نہیں کیا جاسکتا۔ صرف چند گھنٹوں کی موسلا دھار بارش نے ملک کے اقتصادی دارالحکومت کو مکمل طور پر مفلوج کرکے رکھ دیا تھا۔ سڑکیں دریا کا منظر پیش کرنے لگیں، ریلوے لائنیں پانی میں ڈوب گئیں، ہزاروں گاڑیاں راستوں میں پھنس گئیں اور لاکھوں افراد اپنے گھروں تک پہنچنے کے لیے کئی کئی کلومیٹر پیدل چلنے پر مجبور ہوئے۔ سانتا کروز موسمیاتی مرکز میں 24 گھنٹوں کے دوران 944 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی، جبکہ بعض مقامات پر تقریباً 994 ملی میٹر بارش ہونے کی اطلاعات بھی سامنے آئیں۔ یہ بارش شہر کی تاریخ کے بدترین موسمی حادثات میں شمار کی جاتی ہے۔ شدید بارش کے ساتھ سمندر میں بلند مد (ہائی ٹائیڈ) آنے کے باعث برساتی پانی بحرِ عرب میں نہیں جاسکا اور نکاسیٔ آب کا ایک صدی پرانا نظام مکمل طور پر ناکام ہوگیا۔ اس کے نتیجے میں شہر کے بیشتر نشیبی علاقے، رہائشی بستیاں، بازار، شاہراہیں اور ریلوے ٹریک کئی کئی فٹ پانی میں ڈوب گئے۔ لوکل ٹرین خدمات تقریباً بند ہوگئیں، بیسٹ بسوں کی آمدورفت شدید متاثر ہوئی اور ہوائی اڈے کی سرگرمیاں بھی درہم برہم ہوگئیں۔ دفاتر سے نکلنے والے لاکھوں افراد رات بھر سڑکوں، ریلوے اسٹیشنوں، اسکولوں، کالجوں، مذہبی مقامات اور دیگر عمارتوں میں پناہ لینے پر مجبور ہوئے جبکہ بے شمار لوگوں نے کئی گھنٹے پیدل سفر کرکے اپنے گھروں تک رسائی حاصل کی۔ اس قدرتی آفت میں 1493 افراد جان کی بازی ہار گئے جبکہ لاکھوں شہری براہ راست متاثر ہوئے۔ ہزاروں مکانات اور دکانوں میں پانی داخل ہوگیا، صنعتی و تجارتی سرگرمیاں بند رہیں اور شہر کو اربوں روپے کے معاشی نقصان کا سامنا کرنا پڑا۔ سرکاری اندازوں کے مطابق ہزاروں گاڑیاں، چار ہزار سے زائد ٹیکسیاں، سیکڑوں بیسٹ بسیں، آٹو رکشا اور متعدد لوکل ٹرینیں بھی متاثر ہوئیں۔ ماہرین نے اس سانحے کی کئی بنیادی وجوہات کی نشاندہی کی، جن میں سو سال سے زیادہ پرانا نکاسیٔ آب کا نظام، میتھی ندی پر تجاوزات، مینگروز کی بے دریغ کٹائی، قدرتی آبی گزرگاہوں کی بندش، غیر منصوبہ بند شہری توسیع اور بے ہنگم تعمیرات شامل ہیں۔ ان عوامل نے بارش کے پانی کے قدرتی بہاؤ کو شدید متاثر کیا اور شہر سیلاب کی لپیٹ میں آگیا۔ 26 جولائی کے سانحے کے بعد ریاستی حکومت اور برہن ممبئی میونسپل کارپوریشن (بی ایم سی) نے شہری انفراسٹرکچر کو بہتر بنانے کے متعدد منصوبے شروع کیے۔ میتھی ندی کی صفائی، بڑے پمپنگ اسٹیشنوں کی تعمیر، برساتی نالوں کی توسیع، سمندر میں پانی کی نکاسی کے منصوبے اور برِمسٹووڈ (BRIMSTOWAD) منصوبے پر عمل درآمد کی رفتار تیز کی گئی۔ اگرچہ ان منصوبوں پر ہزاروں کروڑ روپے خرچ کیے جاچکے ہیں، لیکن شہری ماہرین کا کہنا ہے کہ آبادی میں مسلسل اضافے، تجاوزات اور موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث آج بھی ممبئی مکمل طور پر سیلاب سے محفوظ نہیں ہوسکا۔ اتفاق سے اس سال بھی 6 اور 23جولائی کے موقع پر ممبئی اور مضافاتی علاقوں میں شدید بارش نے شہریوں کو ایک بار پھر 2005 کی ہولناک یادیں تازہ کرنے پر مجبور کردیا۔ مسلسل موسلا دھار بارش کے باعث کئی نشیبی علاقوں میں پانی جمع ہوگیا، متعدد شاہراہوں پر ٹریفک کی رفتار سست پڑ گئی، بعض مقامات پر لوکل ٹرین خدمات متاثر ہوئیں اور شہری انتظامیہ کو الرٹ رہنا پڑا۔ محکمۂ موسمیات نے آئندہ بھی شدید بارش کے امکان کے پیش نظر شہریوں کو غیر ضروری سفر سے گریز کرنے اور احتیاط برتنے کی ہدایت دی ہے۔ شہری منصوبہ بندی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی کے باعث انتہائی شدید بارشوں کے واقعات میں اضافہ ہورہا ہے، اس لیے صرف نالوں کی صفائی کافی نہیں بلکہ قدرتی آبی راستوں کی بحالی، مینگروز کا تحفظ، تجاوزات کے خاتمے، جدید ڈرینیج نظام، بارش کے پانی کے ذخیرے اور سائنسی بنیادوں پر شہری منصوبہ بندی کو ناگزیر بنانا ہوگا۔ اس تمام تر تباہی کے باوجود ممبئی نے ہمیشہ اپنی غیر معمولی قوتِ برداشت اور اجتماعی جذبے کا مظاہرہ کیا ہے۔ 26 جولائی 2005 کے بعد بھی شہریوں نے ایک دوسرے کی مدد کرکے انسان دوستی کی بے مثال مثال قائم کی تھی اور چند ہی دنوں میں شہر دوبارہ اپنی معمول کی رفتار پر لوٹ آیا تھا۔ یہی حوصلہ، باہمی تعاون اور مشکلات کا ڈٹ کر مقابلہ کرنا ممبئی کی اصل شناخت سمجھا جاتا ہے۔ آج، جب 26 جولائی 2005 کے اس تاریخی سانحے کو اکیس برس گزر چکے ہیں اور ایک بار پھر شہر شدید بارش اور سیلابی خطرات سے دوچار ہے، تو یہ واقعہ صرف ایک المناک یاد نہیں بلکہ ایک اہم سبق بھی ہے کہ اگر شہری منصوبہ بندی، ماحولیات کے تحفظ اور نکاسیٔ آب کے نظام کو مستقل بنیادوں پر مضبوط نہ بنایا گیا تو مستقبل میں ایسے سانحات کے خطرات مزید بڑھ سکتے ہیں۔