94 لاکھ 71 ہزار افراد کی خون کی کمی کی جانچ، 18 لاکھ سے زائد میں انیمیا کی تصدیق
Awaz E Bihar••22 ویوز•5 منٹ پڑھیں
پٹنہ، 29 ستمبر: ریاست میں خون کی کمی یعنی انیمیا کی شرح کو کم کرنے کے مقصد سے بہار حکومت کے محکمۂ صحت کی جانب سے چلائے جا رہے خصوصی مہم ’’انیمیا سے پاک بہار‘‘ کے تحت بڑے پیمانے پر جانچ، علاج اور غذائی مشاورت کا سلسلہ جاری ہے۔ 25 اگست سے 28 ستمبر 2026 تک ریاست بھر میں 94 لاکھ 71 ہزار 377 افراد کی انیمیا کی جانچ کی جا چکی ہے۔قابل ذکر ہے کہ اس خصوصی مہم کا آغاز وزیر اعلیٰ سمراٹ چودھری نے 25 اگست 2026 کو کیا تھا۔ مہم کے تحت اب تک کی گئی جانچ میں 5,632 افراد شدید انیمیا، 3 لاکھ 34 ہزار 171 افراد درمیانی درجے کے انیمیا اور 14 لاکھ 22 ہزار 767 افراد معمولی درجے کے انیمیا میں مبتلا پائے گئے ہیں۔ محکمۂ صحت کی جانب سے انیمیا سے متاثرہ افراد کو ان کی ضرورت کے مطابق علاج، غذائی مشاورت، بہتر طبی مراکز کو بھیجنے اور مسلسل نگرانی کی سہولت فراہم کی جا رہی ہے۔ یہ خصوصی مہم 25 اگست سے 30 نومبر 2026 تک جاری رہے گی۔ صحت کے وزیر نشانت نے کہا کہ ’’انیمیا سے پاک بہار‘‘ مہم کے ذریعے زیادہ سے زیادہ لوگوں تک خون کی کمی کی جانچ، علاج اور غذائی مشاورت کی سہولت پہنچانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ انیمیا کی بروقت شناخت ہونے سے متاثرہ افراد کو ضرورت کے مطابق فوری علاج فراہم کرنا آسان ہوتا ہے۔انہوں نے کہا کہ خون کی کمی کا براہِ راست اثر خصوصاً بچوں، نوعمر لڑکے لڑکیوں، خواتین، حاملہ خواتین اور دودھ پلانے والی ماؤں کی صحت پر پڑتا ہے۔ اسی لیے محکمۂ صحت کی جانب سے جانچ کے ساتھ شدید اور درمیانی درجے کے انیمیا میں مبتلا افراد کے علاج، طبی مراکز کو بھیجنے اور مسلسل طبی نگرانی پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔صحت کے وزیر نے کہا کہ انیمیا کی روک تھام میں مناسب اور متوازن غذا بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔ اسی لیے مہم کے دوران لوگوں کو آئرن سے بھرپور مقامی غذائی اشیا، متوازن خوراک اور صحت مند طرز زندگی کے بارے میں بھی آگاہ کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے مہم کی کامیابی کے لیے محکمۂ صحت کے افسران و اہلکاروں کے ساتھ عام لوگوں کی شمولیت کو بھی ضروری قرار دیا۔ محکمۂ صحت نے ریاست میں انیمیا کی جانچ اور ضرورت کے مطابق علاج کے لیے مجموعی طور پر ایک کروڑ 20 لاکھ 82 ہزار 500 افراد کی اسکریننگ کا ہدف مقرر کیا ہے۔ 28 ستمبر تک 94 لاکھ 71 ہزار 377 افراد کی جانچ مکمل کی جا چکی ہے۔ مہم کے تحت انیمیا کی جانچ کے لیے ضلع اسپتال، سب ڈویژنل اسپتال، ریفرل اسپتال، کمیونٹی ہیلتھ سینٹر، پرائمری ہیلتھ سینٹر، اضافی پرائمری ہیلتھ سینٹر، آیوشمان آروگیہ مندر اور صحت ذیلی مراکز میں انتظامات کیے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ گرام صحت، صفائی و تغذیہ دن، پردھان منتری محفوظ زچگی مہم کے اجلاسوں اور سرکاری و سرکاری امداد یافتہ اسکولوں میں بھی متحرک طبی ٹیموں کے ذریعے خون کی کمی کی جانچ کی جا رہی ہے۔ جانچ کے لیے ڈیجیٹل ہیموگلوبینومیٹر، ٹیسٹ اسٹرپس، کیوبٹ، لینسیٹ، الکحل سواب اور قابلِ تلف دستانوں سمیت ضروری طبی سامان دستیاب کرایا گیا ہے۔ علاج کے لیے ضرورت کے مطابق آئرن فولک ایسڈ شربت اور مقررہ مقدار والی آئرن فولک ایسڈ کی گولیاں مفت فراہم کی جا رہی ہیں۔ حاملہ خواتین میں ضرورت کے مطابق ایف سی ایم (فیرک کاربوکسی مالٹوز) تھراپی کی سہولت بھی فراہم کی جا رہی ہے۔ مہم کے دوران درمیانی اور شدید درجے کے انیمیا میں مبتلا پائے جانے والے افراد کے لیے مناسب علاج، ضرورت کے مطابق اعلیٰ طبی مراکز کو ریفرل، مسلسل مشاورت اور فالو اَپ کا انتظام کیا جا رہا ہے۔ ایسے مستحق افراد کو ضرورت کے مطابق آئی وی سُکروز اور ایف سی ایم انجیکشن بھی فراہم کیے جا رہے ہیں۔جانچ کے بعد مستحق افراد کی معلومات ’’انیمیا سے پاک بھارت مہم ایپلی کیشن‘‘ پر ڈیجیٹل طور پر درج کی جا رہی ہیں، جس سے متاثرہ افراد کی شناخت، علاج اور فالو اَپ کی نگرانی کو مزید مؤثر بنانے میں مدد مل رہی ہے۔
غذائی مشاورت بھی مہم کا اہم حصہ
انیمیا کی روک تھام اور قابو پانے کے لیے صرف ادویات ہی نہیں بلکہ غذائی بیداری پر بھی خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔ جانچ کرانے والے افراد کو مقامی طور پر دستیاب آئرن سے بھرپور غذاؤں، متوازن خوراک، مناسب غذائی عادات، موٹاپے پر قابو پانے اور صحت سے متعلق دیگر امور پر مشورے دی جا رہے ہیں۔
اس کام میں کمیونٹی ہیلتھ افسران، اے این ایم، آر ایم این سی ایچ اے مشیران اور دیگر طبی اہلکار اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔
بانکا، سیتامڑھی اور مغربی چمپارن سمیت کئی اضلاع میں پیش رفت
28 ستمبر 2026 تک کی کارکردگی کے مطابق بانکا، سیتامڑھی، مغربی چمپارن، سارن اور مدھے پورہ ان اضلاع میں شامل ہیں جہاں مہم کے تحت نمایاں پیش رفت درج کی گئی ہے۔ محکمۂ صحت کے مطابق دیگر کئی اضلاع میں بھی مقررہ ہدف کے مقابلے میں اطمینان بخش پیش رفت ہوئی ہے۔
محکمۂ صحت کی جانب سے تمام اضلاع میں مہم کی مسلسل نگرانی اور جائزہ لیا جا رہا ہے۔ جانچ، علاج اور فالو اَپ کی رفتار کو مزید بہتر بنانے کے لیے ضلعی سطح کے افسران کو وقتاً فوقتاً ضروری ہدایات بھی جاری کی جا رہی ہیں، تاکہ مہم کے مقررہ ہدف کو حاصل کرتے ہوئے زیادہ سے زیادہ افراد کو خون کی کمی کی بروقت تشخیص اور مناسب علاج کی سہولت فراہم کی جا سکے۔