17 برسوں سے خدمات انجام دے رہے تعلیم سیوک سڑک پر، گردنی باغ میں سات روزہ دھرنا
Awaz E Bihar••3 ویوز•3 منٹ پڑھیں
پٹنہ، 28 ستمبر: بہار پردیش تعلیم سیوک/تعلیم سیوک (تعلیمی مرکز) سنگھ کی جانب سے اپنے مختلف مطالبات کے حق میں پٹنہ کے گردنی باغ میں سات روزہ پُرامن دھرنا شروع کیا گیا ہے۔ دھرنے کی صدارت سنگھ کے ریاستی صدر ونود رجک کر رہے ہیں۔ ریاست کے مختلف اضلاع سے بڑی تعداد میں تعلیم سیوک اور تعلیم سیوک (تعلیمی مرکز) گردنی باغ پہنچے اور اپنے مطالبات کے حق میں آواز بلند کی۔
سنگھ کے ریاستی سکریٹری سنیل کمار راؤ نے کہا کہ تعلیم سیوک گزشتہ 17 برسوں سے حکومت کی ہدایات کے مطابق اپنی ذمہ داریاں پوری ایمانداری اور لگن کے ساتھ انجام دے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سرو شکشا ابھیان سے لے کر محکمۂ عوامی تعلیم تک خدمات انجام دینے کے باوجود گزشتہ پانچ برسوں سے حکومت کی جانب سے صرف یقین دہانیاں ملتی رہی ہیں۔ مطالبات پر عملی کارروائی نہ ہونے کے باعث آخرکار تعلیم سیوکوں کو سڑک پر اتر کر احتجاج کرنے پر مجبور ہونا پڑا۔
انہوں نے کہا کہ تعلیم سیوک (تعلیمی مرکز) بھی ایک استاد کی طرح صبح 9 بجے سے شام 4 بجے تک اپنی خدمات انجام دیتے ہیں، لیکن گزشتہ چار ماہ سے اعزازیہ کی ادائیگی نہیں ہوئی ہے۔ بقایا اعزازیہ نہ ملنے کے باعث تعلیم سیوکوں کو شدید مالی مشکلات کا سامنا ہے۔ سنگھ کا کہنا ہے کہ مسلسل مالی پریشانی کے سبب کئی کارکن ذہنی اور جسمانی مشکلات سے بھی دوچار ہیں۔ سنیل کمار راؤ نے دعویٰ کیا کہ رواں سال 30 سے زائد تعلیم سیوک (تعلیمی مرکز) انتقال کر چکے ہیں اور ان کے اہل خانہ کو شدید مالی مشکلات کا سامنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو تعلیم سیوکوں کی طویل خدمات اور ان کے حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے ان کے مطالبات پر فوری فیصلہ کرنا چاہیے۔سنگھ کے عہدیداروں نے کہا کہ گردنی باغ میں شروع کیا گیا پُرامن دھرنا مسلسل سات دن تک جاری رہے گا۔ اگر اس مدت کے دوران حکومت کی جانب سے مطالبات تسلیم نہیں کیے گئے تو احتجاج کو مزید آگے بڑھانے کا فیصلہ کیا جا سکتا ہے۔ اہم مطالبات تعلیم سیوکوں کا مطالبہ ہے کہ ریاست میں گزشتہ 17 برسوں سے مسلسل خدمات انجام دے رہے تمام تعلیم سیوکوں اور تعلیم سیوک (تعلیمی مرکز) کو تنخواہی اسکیل کا فائدہ دیا جائے اور قواعد میں ترمیم کرکے اناکمپہ تقرری کا فائدہ فراہم کیا جائے۔
دیگر مطالبات میں تعلیم سیوکوں کو استاد کا درجہ دینا، گزشتہ چار ماہ سے زیرِ التوا اعزازیہ کی فوری ادائیگی، ملازمت کی مدت 60 سال سے بڑھا کر 65 سال کرنا اور ہر ماہ اعزازیہ کی ادائیگی 5 تاریخ تک یقینی بنانا شامل ہے۔
مظاہرین کا کہنا ہے کہ طویل عرصے سے خدمات انجام دینے کے باوجود انہیں ملازمت سے متعلق مناسب حقوق اور سہولیات حاصل نہیں ہیں۔ ان کا مطالبہ ہے کہ حکومت ان کے 17 سالہ تجربے اور خدمات کو مدنظر رکھتے ہوئے ان کے مستقبل کو محفوظ بنانے کے لیے ٹھوس فیصلہ کرے۔
دھرنے کو کامیاب بنانے میں سنگھ کے بانی رکن راکیش روشن، ریاستی خزانچی شیو لوک رام، پرکاش داس، پنٹو کمار، راجارام مہتو، پرشورام مانجھی، اسلام انصاری، وجے ساتھی، بدری ناتھ مانجھی، پشپانجلی کماری، انوکھا دیوی، سونو کماری، شیو جی رام، اما شنکر پرساد، امر رام، برہمانند داس، رمیش پرساد، سلیم انصاری اور نورِ نظر سمیت بڑی تعداد میں تعلیم سیوک شریک ہوئے۔