امریکہ، ڈنمارک اور گرین لینڈ کے درمیان مستقل سکیورٹی معاہدہ، گرین لینڈ میں امریکی فوجی موجودگی بڑھے گی
Awaz E Bihar••12 ویوز•4 منٹ پڑھیں
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکہ نے ڈنمارک اور گرین لینڈ کے ساتھ ایک معاہدہ کیا ہے، جس کے تحت حکمت عملی کے لحاظ سے اہم آرکٹک خطے میں امریکہ کو’’مستقل سکیورٹی کنٹرول‘‘حاصل ہوگا، وہاں اس کی فوجی موجودگی میں اضافہ کیا جائے گا اور غیر نیٹو ممالک کو گرین لینڈ میں فوجی اڈہ قائم کرنے یا فوجی تعینات کرنے سے روکا جائے گا۔مسٹر ٹرمپ نے جمعہ کو معاہدے کا اعلان کرتے ہوئے اسے ’’انفینٹ لائف‘‘ انتظام قرار دیا اور کہا کہ اس سے گرین لینڈ کے حوالے سے امریکہ کے دیرینہ قومی سلامتی کے خدشات دور ہوں گے۔ مسٹر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر لکھا،’’امریکہ نے ڈنمارک اور گرین لینڈ کے ساتھ ایک معاہدہ کیا ہے، جو گرین لینڈ میں سکیورٹی اور دیگر تمام ضروریات کے حوالے سے امریکہ کو مستقل کنٹرول دیتا ہے اور ہماری تمام اہم امریکی تشویشوں کا مکمل حل کرتا ہے۔ اس پر امریکہ کو کوئی خرچ نہیں آئے گا۔‘‘ انہوں نے کہا کہ معاہدے کے تحت امریکہ کے حریف ممالک کو بھی واشنگٹن کی منظوری کے بغیر گرین لینڈ میں فوجی اڈہ قائم کرنے، فوجی موجودگی برقرار رکھنے یا حساس سرمایہ کاری کرنے سے روکا جائے گا۔ مسٹر ٹرمپ نے کہااب سے کوئی بھی امریکی حریف گرین لینڈ میں کبھی اڈہ قائم نہیں کر سکتا، فوجی موجودگی نہیں رکھ سکتا یا ہماری واضح تحریری منظوری کے بغیر حساس سرمایہ کاری نہیں کر سکتا۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ فوری طور پر گرین لینڈ میں اپنی فوجی موجودگی بڑھانے کی سمت میں کام شروع کرے گا اور نیم خودمختار ڈنمارک کے علاقے کے عوام کے ساتھ مل کر وہاں ترقیاتی اور تعمیراتی کام کرے گا۔ مسٹر ٹرمپ نے کہا’’ہم ڈنمارک اور گرین لینڈ کے شاندار عوام کے ساتھ اس بڑے اور انتہائی تزویراتی خطے کے حوالے سے شاندار مستقبل کی جانب کام کرنے کے منتظر ہیں۔ انہوں نے کہاہم اس کی مکمل حفاظت کریں گے۔ ڈنمارک کے وزیر اعظم کے دفتر کے مطابق امریکہ، ڈنمارک اور گرین لینڈ کی حکومتیں آئندہ ہفتے نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے دوران آرکٹک اور شمالی بحر اوقیانوس میں سکیورٹی مضبوط کرنے سے متعلق معاہدے پر باضابطہ طور پر دستخط کر سکتی ہیں۔ معاہدے کے نافذ ہونے سے قبل متعلقہ پارلیمانی کارروائیاں مکمل کرنا ہوں گی۔ معاہدے کا مکمل متن ابھی جاری نہیں کیا گیا ہے۔ ڈنمارک کی وزیر اعظم میٹے فریڈرکسن نے معاہدے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ اس سے آرکٹک اور شمالی بحر اوقیانوس میں سکیورٹی مضبوط ہوگی، جبکہ ڈنمارک کی خودمختاری اور گرین لینڈ کے حق خود ارادیت کو برقرار رکھا جائے گا۔ محترمہ فریڈرکسن نے کہا، مجھے خوشی ہے کہ ہم گرین لینڈ، مملکت ڈنمارک اور امریکہ کے لیے ایک اہم معاہدہ کرنے جا رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ معاہدے سے خطے میں مشترکہ سکیورٹی مضبوط ہوگی اور یہنیٹو اور یورپ کے لیے بھی اچھا ہوگا۔انہوں نے خاص طور پر کہا کہ معاہدہ مملکت ڈنمارک کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت اور گرین لینڈ کے عوام کی حق خود ارادیت کو تسلیم کرتا ہے۔ گرین لینڈ کے وزیر اعظم جینس فریڈرک نیلسن نے بھی مجوزہ معاہدے کا خیرمقدم کیا۔ انہوں نے کہا، یہ حوصلہ افزا ہے کہ ہم ایسا معاہدہ کرنے جا رہے ہیں، جو گرین لینڈ، مملکت ڈنمارک، امریکہ اور مغربی اتحاد کی سکیورٹی کو یقینی اور مضبوط کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ معاہدہ ’’گرین لینڈ کے مفادات اور بین الاقوامی تعاون میں ہماری جگہ‘‘ کو تسلیم کرتا ہے اور’’ہم سب کے مفاد میں ہے۔ معاہدے کے تحت امریکہ کو گرین لینڈ میں مستقل رسائی، فوجی اڈے قائم کرنے اور فضائی حدود کے استعمال کے حقوق حاصل ہوں گے، جبکہ غیر نیٹو ممالک کو جزیرے پر فوجی موجودگی قائم کرنے سے روکا جائے گا۔معاہدے کے تحت کوئی بھی غیر نیٹو ملک گرین لینڈ میں فوجی اڈہ قائم نہیں کر سکے گا اور نہ ہی وہاں فوجی موجودگی رکھ سکے گا۔ امریکی حکام کے مطابق معاہدہ اس بات کو بھی یقینی بنائے گا کہ گرین لینڈ شمالی امریکہ کے تزویراتی دفاعی خطے کا حصہ بنا رہے۔ مسٹر ٹرمپ نے معاہدے کو گرین لینڈ کی سکیورٹی پر امریکہ کو ’’مستقل کنٹرول‘‘ دینے والا قرار دیا ہے، تاہم مجوزہ معاہدے کے تحت خطے کی خودمختاری امریکہ کو منتقل نہیں ہوگی۔ ڈنمارک اور گرین لینڈ نے واضح کیا ہے کہ معاہدہ مملکت ڈنمارک کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت اور گرین لینڈ کے عوام کے حق خود ارادیت کو تسلیم کرتا ہے۔