بھاگلپور میں شیاماپرساد مکھرجی کے نام پر بنےگی یونیورسٹی
Awaz E Bihar••60 ویوز•7 منٹ پڑھیں
پٹنہ(اے بی این)وزیر اعلیٰ سمراٹ چودھری نے آج گیان بھون پٹنہ میں سنت شرومنی گرو روی داس جی کے 650 ویں یوم پیدائش کے موقع پر شمع روشن کرکے ہم آہنگی عزم مہم کا آغاز کیا۔ پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ سنت شرومنی گرو رویداس مہاراج کے افکار اور ہم آہنگی، خدمت اور انسانیت کے راستے کو بہار کے ہر گاؤں تک پہنچایا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ سنت رویداس کے خیالات سماج کو متحد کر رہے ہیں اور بہار حکومت ان کے پیغام کو سماج کے آخری فرد تک پہنچانے کے لیے کام کرے گی۔ سنت روی داس کی جائے پیدائش کی مٹی کو ضلع، بلاک اور پنچایت کی سطح پر پہنچایا جائے گا۔ اگر کوئی مٹھ، مندر، مذہبی مقام،ٹولا، یا خاندان سنت روی داس جی کے گاؤںکی مٹی چاہتا ہے، تو اسے وہاں بھی یہ مٹی پہنچانے کا انتظام کیا جائے گا۔وزیر اعلیٰ نے کہا کہ سنت روی داس ہم آہنگی، انسانیت اور خدمت کی علامت ہیں۔تقریبا 650سال قبل انہوں نے جس سماجی ہم آہنگی کا پیغام دیا وہ آج بھی متعلقہ ہے۔ سنت رویداس کے خیالات کو سماج کے مختلف طبقات نے قبول کیا، اور ان کے خیالات کو گرو نانک کے گرنتھوں میں بھی شامل کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ سماج کی تعمیر کسی ایک طبقے کی کوششوں سے نہیںہوئی ہے ۔ گرو رامانند جیسے سنتوں کی خدمات کو بھی یاد رکھنا ہو گا۔ اعلیٰ-پسماند، دلت یا دیگر طبقات کے درمیان تفریق پیدا کرنے کے بجائے سب کو ساتھ لے کر چلنا سنتوں کی روایت رہی ہے۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ مشکلات کے باوجود سنت روی داس کی زندگی سماج کو متحد کرنے اور انسانیت کاپیغام دینے والی رہی ہے۔ سنتوں کی روایت سناتن سماج کا ایک اہم ورثہ ہے۔ سنت رویداس جی نے سماجی امتیاز کے خلاف ہم آہنگی، خدمت اور انسانیت کا راستہ دکھایا۔ انہوں نے کہا کہ بہار حکومت تعلیم، سماجی انصاف اور ترقی کے شعبوں میں انتھک کام کرتی رہے گی، ساتھ ہی ساتھ سنت رویداس جی کی تعلیمات کو عوام تک پہنچاتی رہے گی۔ حکومت کا مقصد سماج کے ہر فرد کی ترقی اور تعلیم تک رسائی کو یقینی بنانا ہے اور بہار کو علم، ٹیکنالوجی اور سماجی ہم آہنگی کے میدان میں ملک کی سرکردہ ریاستوں میں شامل کرنا ہے۔ وزیر اعلیٰ نے تعلیم کے شعبہ میں حکومت کے منصوبوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ بہار میں غریب بچوں کو معیاری تعلیم فراہم کرنے کے لیے بڑی تبدیلیاں کی جا رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دلت برادری کی بیٹیوں کو تعلیم کے لیے اپنے گاؤں چھوڑنے میں دشواری کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس کو ذہن میں رکھتے ہوئے بہار کے تمام اضلاع میں ماتا ساوتری بائی پھولے کے نام پر رہائشی ہاسٹل والے اسکول کھولے جا رہے ہیں۔ بہار میں تعلیم کے میدان میں انقلابی تبدیلیاں لانے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ وزیر اعظم جناب نریندر مودی کی بھی واضح طورپر ہدایت ہے کہ تعلیم کے مرکز کی شکل میں بہار کو آگے بڑھایا جائے ۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ حکومت تمام زبانوں اور تعلیمی نظام کو آبادی کے مطابق فروغ دے گی۔ انہوں نے واضح کیا مدرسوں پر جتنی توجہ دی جاتی ہے ، اس سے کم توجہ کسی بھی قیمت پر سنسکرت کی تعلیم پر نہیں دی جائے گی ۔ کشن گنج کی بڑی آبادی کو دیکھتے ہوئے وہاں اردو اسکول کھولنے کی ضرورت ہے، اور حکومت اس کے لیے کام کرے گی۔ راشٹر اور راشٹر واد کے تئیں مکمل عقیدت رکھنے والا ہر فرد اس ملک کی ترقی کے سفر کا حصہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگلے ایک یا دو سالوں میں ایک ایسا نظام بنانے کا ہدف ہے جس سے وزراء، ایم ایل اے اور ضلعی افسران کے بچے بھی سرکاری اسکولوں میں پڑھ سکیں۔ جب امیر گھرانوں کے بچے سرکاری اسکولوں میں پڑھنا شروع کریں گے تب ہی یہ سمجھا جائے گا کہ سرکاری تعلیمی نظام میں حقیقی تبدیلی آئی ہے۔نیٹ اورجے ای ای کی تیاری کے ساتھ ساتھ سرکاری اسکولوں میں لائیو کلاسیں بھی فراہم کی جائیں گی۔ انہوں نے کہا کہ بہار کے سرکاری اسکولوں میں پڑھنے والے بچوں کو رات گیارہ بجے تک آن لائن ٹیوٹر فراہم کرنے کا انتظام کیا جائے گا۔ اس نظام کو 15 اگست تک نافذ کرنے کا ہدف ہے۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ غریب گھرانوں کا بچہ بھی کانونٹ یا بورڈنگ اسکول میں پڑھنے والے بچوں کی طرح ہر وقت ٹیچر کی مدد حاصل کر سکے ۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ بہار کے طلبہ کو اعلیٰ تعلیم کے لیے دوسری ریاستوں میں نہیں جانا پڑے،اس کے لیے حکومت نے 211 ڈگری کالج کھولے ہیں۔ ہر کالج میں اساتذہ کی کمی کو دور کیا جائے گا۔ اس کا مقصد 10 تاریخ تک ڈگری کالجوں میں اساتذہ کی دستیابی کو یقینی بنانا ہے۔ اسسٹنٹ پروفیسروں کی بحالی کا عمل مکمل کیا جا رہا ہے، اور تقریباً 9000 اضافی آسامیاں بنانے پر بھی کام جاری ہے۔ ٹی آر ای 4 کے تحت تقریبا 32 ہزار اساتذہ کی بحالی کی جارہی ہے ۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ادب کے میدان میں قومی شاعر رام دھاری سنگھ دنکر جیسا کوئی دوسرا نام نہیں ہے، اس لیے بیگو سرائے میں ان کے نام پر ایک یونیورسٹی قائم کی جائے گی۔ ملک کی یکجہتی اور سالمیت میں ڈاکٹر شیاما پرساد مکھرجی کی خدمات کے اعتراف میں بھاگلپور میں ان کے نام پر اے آئی اور کمپیوٹر سائنس یونیورسٹی قائم کرنے کی قرارداد پیش کی گئی ہے۔ بھاگلپور میں قائم ہونے والی یہ یونیورسٹی ٹیکنالوجی کے میدان میں کام کرے گی۔ یہ یونیورسٹی بہار کو دنیا میں تیزی سے بڑھتے ہوئے تکنیکی انقلاب سے جوڑے گی۔ انہوں نے اس تجویز کی حمایت کرنے کے لیے تمام اراکین اسمبلی کا شکریہ ادا کیا۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ مظفر پور میں آرکیٹیکچر اور سول انجینئرنگ کے شعبوں میں ایک یونیورسٹی کے قیام کا کام بھی شروع ہو گیا ہے جس کا نام مجاہد آزادی شہید جباسہنی کے نام پر رکھا گیا ہے۔ وزیر اعلیٰ نے منڈل کمیشن کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ منڈل کمیشن کی رپورٹ 1979 میں آئی، لیکن طویل عرصے تک اس پر عمل نہیں کیا گیا۔ بعد میں آنجہانی وزیر اعظم وشوناتھ پرتاپ سنگھ کی حکومت نے اسے نافذ کیا۔ اس کی حمایت سابق وزیر اعظم اٹل بہاری واجپائی سمیت اتحادی جماعتوں کے ارکان پارلیمنٹ نے کی۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت والی حکومت نے معاشی طور پر کمزور طبقات کے لیے 10 فیصد ریزرویشن بھی فراہم کیا ہے۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ سماج کو کو کسی ایک طبقے تک محدود نہیں رکھا جا سکتا۔ ہندوؤں، مسلم، سکھ ، عیسیائی اور دیگر تمام طبقوں کو ساتھ لے کر آگے بڑھنا ہو گا۔ مسلم سماج کے لوگوں کو بھی اقتصادی طور پر کمزور طبقات کے ریزر ویشن کا فائدہ ملتا ہے ۔ انہائی پسماندہ برادریوں میں بھی بڑی تعداد میں لوگ مختلف طبقوں سے آتے ہیں، اس لیے تمام طبقات کو ساتھ لے کر ترقیاتی پالیسی آگے بڑھانی ہو گی۔ وزیر اعظم نریندر مودی کے "سب کا ساتھ، سب کا وکاس" کے عہد کو نافذ کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سنتوں نے سماجی اتحاد اور انسانیت کا راستہ دکھایا ہے۔ حکومت اس سمت میں کام کر رہی ہے۔ پروگرام کے دوران سنت شرومنی گرو رویداس جی پر مبنی ایک مختصر فلم بھی دکھائی گئی جس میں ان کے افکار کی اہمیت کو اجاگر کیا گیا۔ اس موقع پر عوامی نمائندوں نے وزیر اعلیٰ کو شال اور گلدستے پیش کر کے ان کا استقبال کیا۔ پروگرام میں معدنیات اور ارضیات کے وزیر ڈاکٹر پرمود کمار، درج فہرست ذات اور درج فہرست قبائل بہبود کے وزیر جناب لکھیندر کمار روشن، ڈیری، ماہی پروری اورمویشی وسائل کے وزیر جناب نندکیشور رام،کو آپریٹو کے وزیر جناب رام کرپال یادو،ریوینو اوراصلاح اراضی کے وزیر ڈاکٹر دلیپ کمار جیسوال،لیبر وسائل کے وزیر شنکر سنگھ، وزیر تعلیم جناب متھلیش تیواری، وزیر سیاحت جناب کیدار پرساد گپتا، اعلیٰ تعلیم کے وزیر جناب سنجے ٹائیگر، بی جے پی تنظیم کے جنرل سکریٹری جناب بھیکھو بھائی دلسانیا، رکن اسمبلی جناب سنجیو چورسیا، رکن اسمبلی جناب رتنیش کمار، قانون ساز کونسل کے رکن جناب جنک رام ، دھارمک نیاس پریشد کے چیئر مین جناب رنویر نندن سمیت دیگر عوامی نمائندے ، کارکنان ، سادھو سنت اور بڑی تعداد میں عام لوگ موجودتھے۔