قاضی عبد الودود کے بعد تحقیق کی شمع گل ہو گئی ہے:پروفیسرسیدشاہ حسین احمد
Awaz E Bihar••131 ویوز•7 منٹ پڑھیں
پٹنہ (پریس ریلیز) قاضی عبد الودود اردو ادب کے اُن ممتاز محققین میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے اپنی غیر معمولی علمی بصیرت اور تحقیقی دیانت سے اردو ادب کو ایک نئی فکری سمت عطا کی۔ وہ صرف ایک ادیب یا محقق نہیں تھے بلکہ اردو تحقیق کے جدید اصولوں کے بانیوں میں بھی ان کا نام لیا جاتا ہے۔ وہ مطالعے کے شیدائی، وسیع النظر اور حقیقت پسند انسان تھے۔ ان کی گفتگو اور تحریر دونوں میں شائستگی، دلیل اور فکری گہرائی نمایاں تھی۔ انہوں نے تعصب اور تقلید کے بجائے آزادانہ فکر کو فروغ دیا۔ انہوں نے اردو ادب کو عقلی، سائنسی اور معروضی اندازِ فکر سے روشناس کرایا۔ ان کی خدمات اردو ادب کی تاریخ میں ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔ ان خیالات کا اظہار محکمہ کابینہ سکریٹریٹ ،اردو ڈائرکٹوریٹ کے زیر اہتمام منعقد قاضی عبد الودود یاد گاری تقریب و بز م سخن پروگرام میں دانشورانِ اردو نے اپنے مقالے میں مشترکہ طورپر کیا۔ تقریب کا آغاز شمع افروزی کے ذریعہ ہوا۔ شمع افروزی سے قبل قومی گیت اور قومی ترانہ پیش کیا گیا۔تقریب کی صدارت پروفیسر سید شاہ حسین احمد ،سابق صدر شعبہ اردو ،ویر کنور سنگھ یونیورسٹی،آرہ نے کی۔ استقبالیہ و تعارفی کلمات اردو ڈائرکٹوریٹ کے فعال ڈائرکٹر ایس ایم پرویز عالم نے پیش کئے۔استقبالیہ خطبہ پیش کرتے ہوئے ڈائرکٹر موصوف نے تقریب میں تشریف لائے تمام مہمانان، دانشورانِ اردو ،مُحِبّانِ اردو زبان و ادب اور شائقین شعر و سخن ، پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کے نمائندگان اور ہال میں موجود خواتین و حضرات کا تہہ دل سے استقبال کیا۔ابتدائی کلمات پیش کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حکومت بہار ، محکمہ کابینہ سکریٹریٹ، اردو ڈائرکٹوریٹ ریاستِ بہار کی ثانوی سرکاری زبان اردو کی نشر و اشاعت اور اس کے فروغ و بقاءکے لئے مسلسل کوشش کر رہی ہے۔ یہاں کے اردو داں عوام کو یہ قانونی حق حاصل ہے کہ وہ اردو میں اپنی درخواستیں ریاست کے کسی بھی دفتر میں دے سکیں ۔ حسب ضرورت ان کے جوابات اردو میں حاصل کرسکیں۔میںاردو آبادی سے گزارش کرنا چاہوں گا کہ وہ اردو میں درخواست دینا اپنی عادت میں شامل کریں اور ہر سطح پر اردو میں درخواست دینے کا ماحول بنائیں اور اپنی زبان کی ترقی کے لئے بیدار رہیں۔اپنی سطح سے عملی اقدام کریں اور اردو کو اپنے گھروں میں زندہ رکھیں۔ اپنے بچوں کو اردو کی تعلیم دیں اور روز مرّہ کی بول چال میں اردو الفاظ کا استعمال کریں۔ اس سے اردو کی ماحول سازی بھی ہوگی اور اردو کی ترقی و ترویج میں مدد بھی ملے گی۔ انہوں نے آج کی تقریب کی مناسبت سے قاضی عبدالودود کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ قاضی عبدالودود بینَ الاقوامی سطح پر بڑے مُحقِّق تسلیم کئے جاتے ہیں۔اہلِ بہار کو یہ افتخار و سربلندی حاصل ہے کہ قاضی عبدالودود جیسے بلند پایہ محقق بہار میں پیدا ہوئے اور انہوں نے تحقیق کا ایسا معیار اور اصول طے کیا کہ عالمی سطح پر اپنی صلاحیت کا لوہا منوا لیا۔ اردو تحقیق میں قاضی عبدالودود ایک معتبر نام ہے جنہوں نے ادبی تحقیق کی روایت کو نہ صرف استحکام بخشا بلکہ اس روایت کی توسیع بھی کی ۔ قاضی صاحب اردو ہی نہیں، فارسی کے بھی عظیم محقق تھے ۔ قاضی صاحب نے اپنی تحقیق میں غیر جذباتی اور مُدلَّل طرز اختیار کیا جو تحقیق کی دنیا میں مفقود تھا اسی لئے انہیں مثالی محقق اور بت شکن محقق جیسے القاب سے یاد کیا جاتا ہے۔ مرزا اسد اللہ خان غالب کے تعلق سے ان کی تحقیق اور نگارشات بے حد مُعتَبَر ہیں ۔ اس عظیم محقق کی تقریباً ایک درجن اعلیٰ معیاری کتابیں ہیں جو دنیائے تحقیق میں اپنا ثانی نہیں رکھتی ہیں۔ صدارتی خطبہ پیش کرتے ہوئے پروفیسر شاہ حسین احمد، سابق صدر شعبہ اردو ویر کنور سنگھ یونیورسٹی، آرہ نے کہاکہ قاضی صاحب کا مطالعہ بہت وسیع تھاوہ بے باک اور حق گو تھے۔ وہ مصلحت پسند نہ تھے۔ قاضی صاحب اردو ہی نہیں، فارسی کے بھی عظیم محقق تھے ۔ ان کے بعد تحقیق کی شمع گل ہو گئی ہے۔ اردو تحقیق میں قاضی عبدالودود ایک معتبر نام ہے جنہوں نے ادبی تحقیق کی روایت کو نہ صرف استحکام بخشا بلکہ اس روایت کی توسیع بھی کی ۔ انہوں نے کہا کہ بہار کے دو تنبیہ الغافلین تھے۔ ایک تو تنقید کے شعبے میں ڈاکٹر کلیم الدین احمد کی ہے۔دوسرے تنبیہ الغافلین تحقیق کے شعبے میں قاضی عبد الودود تھے۔انہوں نے کہا کہ ضرورت اس بات کی ہے کہ قاضی شناسی پر کام کیا جائے۔اس سے قبل پروفیسر آفتاب احمد آفاقی،صدر شعبہ اردو،بنارس ہندو یونیورسٹی، وارانسی نے اپنا مقالہ پیش کرتے ہوئے کہا کہقاضی عبد الودود ارد و تحقیق کا سب سےبڑا نام ہے۔ پوری ادبی دنیا میں وہ ایک حوالے ، راہرو، اور قائد کے طور پر تسلیم کئے جاتے ہیں۔قاضی عبد الودود تحقیق کے شعبے میں معلم ثانی کہے جاتے ہیں۔قاضی صاحب بنیاد ی طورپر روایت شکن اور بت شکن رہے۔ قاضی صاحب نے اردو متون کی درستگی تدوین متن کے لئے جو اصول مرتب کئے وہ پہلی بار مرتب ہوئے۔قاضی صاحب نے تحقیق کے آداب اور اصول سکھائے اور بتایاکہ تحقیق ایک بے حد ذمہ دارانہ عمل ہے۔تحقیق ایک بے حد مشکل عمل ہے اس لئے ہر شخص محقق نہیں ہو سکتا ہے۔ تحقیق حق گوئی اور حق کی تلاش کا عمل ہےاورکسی امرکواس کی اصل شکل میں دیکھنے کی کوشش کا عمل ہے۔ ڈاکٹر محسن رضا رضوی،صدر شعبہ اردو،اورینٹل کالج،پٹنہ سیٹی،پٹنہ نےقاضی عبد الودود اور غالبیات کے موضوع پر اپنا مقالہ پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ قاضی عبدالودود نے بتایا کہ غالب کے یہاں بلند خیالی اور ناز ک خیالی اپنی بلندی پر ہے۔ غالب کی شاعری تہذیبی غزل کی بھر پور نمائندہ ہیں۔ غالب کے یہاں ایک طرف عشقیہ شاعر ی ہے تو دوسری طرف صوفیانہ کلام بھی پیش کئے ہیں۔قاضی عبدالودود نے کہا کہ غالب کا کوئی حصہ نہیں جسے ہم نے نہیں پڑھا ہے۔ڈاکٹر مسرور صغریٰ رضوی،اسسٹنٹ پروفیسر،ڈی بی کالج، جے نگر،مدھوبنی نے اپنے مقالہ کا عنوان فضائے تحقیق کاطائرقاضی عبد الودود کےحوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ قاضی عبد الودود راست گو اور ممتاز محقق تھے۔ میدان تحقیق میں ان کا پرچم ہمیشہ بلند رہا ہے۔ وہ انگریزی، اردو، فارسی، عربی زبان کے ماہر تھے۔انہوں نے وسیع مطالعے سےاپنے تعلیمی استعداد کو بڑھایا۔قاضی عبد الودود کی کتابیںفصاحت و بلاغت کا مرقع ہیں۔ قاضی عبد الودود کی شخصیت جہان ِ اردو کے لئے دُرِّ مرجان کی حیثیت رکھتا ہے۔ان کی شخصیت بے مثال او رپُر وقار تھی۔طلبہ و طالبات کی پیش کش کے تحت سعدیہ وسیم،ایم ے(اردو)،پٹنہ یونیورسٹی،پٹنہ اورعمرہ فاطمہ،ایم اے(اردو)، پٹنہ یونیورسٹی، پٹنہ نے اپنی کاوشیں پیش کیں۔دوسرے اجلاس میں بزم سخن کے تحت مشہور و معروف شاعراسد رضوی کی صدارت اور چونچ گیاوی کی نظامت میں مشاعرہ کا انعقاد ہوا، جس میں ڈاکٹر رونق شہری ، تعظیم احمد گوہر، تنویر اختر، محمد قسیم احمد عرف چونچ گیاوی ،صابر سہرساوی ، اشفاق عادل ، طاہر الدین طاہر، اویناش امن ، دلشاد نظمی،اور شویتا غزل نے اپنے کلام سے سامعین کو خوب محظوظ کیا۔ تقریب کی نظامت محمد ہاشم ،اردو ڈائرکٹوریٹ، پٹنہ نے بحسن و خوبی انجام دئے۔اس موقع پر ڈائرکٹر ایس ایم پرویز عالم نےایک خوبصورت غزل دلکش انداز اورمسحور کن ترنم میں پیش کرکے خوب دادِ تحسین وصول کئے۔تقریب میں بڑی تعداد میں محبان و قدر دان ِاردو شریک ہوئے۔خاص طور سے پروفیسر عبد الصمد،پروفیسر اعجاز علی ارشد،پروفیسر شہاب ظفر اعظمی، انوار الحسن وسطوی، عطا عابدی،شاہد اختر،شمیم قاسمی، منیر سیفی ،اشفاق عادل، شرف الہدیٰ،ڈاکٹر اشرف النبی قیصر،ڈاکٹر نصر نستوی،عرفان بیلہاروی،اسرار عالم سیفی،سلطان آزاد، انوار اللہ، ضیاء الحسن،محمد شاہنواز، فیاض احمد،اصغر حسین کامل، محمد عظیم انصاری، جمال کاکوی،ڈاکٹر شمع ناسمین نازاں،شمیم شعلہ، منور دانا پوری،اعجاز رسول،پٹنہ ضلع میں مامور اردو عملے سمیت سینکڑوں افراد تقریب میں موجود تھے۔تقریب کا اختتام افریدہ حبیب، اردو ڈائرکٹوریٹ ،پٹنہ کے تشکراتی کلام پر ہوا۔