
ایئر انڈیا نے پھوکیت-دہلی پروازمعاملے میں چیف پائلٹ کو برطرف کیا
Awaz E Bihar••23 ویوز•3 منٹ پڑھیں
ٹاٹا گروپ کی فضائی خدمات فراہم کرنے والی کمپنی ایئر انڈیا نے گزشتہ 4، اگست کو پھوکیت-دہلی پرواز حادثے کے سلسلے میں چیف پائلٹ کو برطرف کر دیا ہے۔
پرواز نمبر اے آئی 2379 نے پھوکیت سے دہلی آتے ہوئے ہوا میں اچانک 300 فٹ غوطہ لگایا تھا۔ اس حادثہ میں 24 افراد زخمی ہو گئے تھے۔ دہلی میں لینڈنگ کے بعد منشیات کے لیے کی گئی ابتدائی جانچ میں چیف پائلٹ کی رپورٹ مثبت پائی گئی تھی۔ ایئر کرافٹ ایکسیڈنٹ انویسٹی گیشن بیورو (اے اے آئی بی) کی جمعہ کی صبح جاری کردہ ابتدائی رپورٹ کے مطابق، خون کے نمونوں کی لیبارٹری جانچ میں بھی چیف پائلٹ کی رپورٹ مثبت پائی گئی ہے۔
ایئر انڈیا نے معاملے میں فوری کارروائی کرتے ہوئے پائلٹ کو برطرف کر دیا ہے۔ ایئر لائن نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا، "حفاظت ایئر انڈیا کی سب سے بڑی ترجیح ہے۔ پھوکیت-دہلی پرواز کے چیف پائلٹ کی منشیات کی جانچ مثبت پائی گئی ہے۔ حفاظت، فٹنس اور ریگولیٹری اہلیت کے معاملے میں ایئر انڈیا کی زیرو ٹالرنس پالیسی کے تحت پائلٹ کو فوری اثر سے برطرف کر دیا گیا ہے۔"اس سے پہلے، ابتدائی رپورٹ آنے کے بعد پہلے ردعمل میں ایئر انڈیا نے کہا تھا کہ وہ تحقیقات میں پورا تعاون کر رہی ہے اور اس نے رضاکارانہ طور پر تمام پائلٹوں کی جانچ شروع کر دی ہے تاکہ حفاظت کے ساتھ کوئی سمجھوتہ نہ ہو۔
اے اے آئی بی کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ چیف پائلٹ کی ابتدائی جانچ اور خون کے نمونے کی لیبارٹری میں جانچ میں اس بات کی تصدیق ہوئی ہے کہ اس نے منشیات کا استعمال کیا تھا۔ بیورو نے ڈائریکٹوریٹ جنرل آف سول ایوی ایشن (ڈی جی سی اے) کو ہدایت دی ہے کہ وہ مستقبل میں ایسے واقعات کو روکنے کے لیے ضروری اقدامات کرے۔رپورٹ میں یہ بھی پایا گیا کہ اس دن پہلے طیارے میں گرین ہائیڈرولک سسٹم ناکام ہوا تھا۔ اس کے بعد بلیو ہائیڈرولک سسٹم اور یلو ہائیڈرولک سسٹم بھی ناکام ہو گیا تھا۔ تینوں ہائیڈرولک سسٹم کی ناکامی کے بعد طیارے کا آٹو پائلٹ خود بخود بند ہو گیا۔ اس کے بعد کو-پائلٹ نے طیارے کو کنٹرول کرنے کی کوشش کی لیکن تبھی چیف پائلٹ نے درمیان میں کنٹرول اپنے ہاتھ میں لے لیا۔اس دوران طیارہ پہلے 372 فٹ اوپر گیا اور پھر 292 فٹ نیچے آیا۔اے اے آئی بی نے طیارے کی جانچ میں پایا کہ کیبن کے اندر کافی نقصان ہوا ہے۔ کئی سیٹوں کے ہینڈ ریسٹ، اوپر سامان رکھنے والے کیبن، ٹوائلٹ کیبن اور اوپر کی سیلنگ کو نقصان پہنچا تھا۔طیارے میں تین شیر خوار بچوں سمیت 137 مسافر اور عملے کے آٹھ اراکین تھے۔ طیارے کے دہلی ہوائی اڈے پر اترنے کے بعد مسافروں کو طبی امداد فراہم کی گئی تھی۔ زخمی 24 افراد میں سے 20 کو ابتدائی طبی امداد کے بعد ہسپتال سے چھٹی دے دی گئی تھی جبکہ چار افراد کو شدید چوٹیں آنے کے باعث زیادہ وقت تک ہسپتال میں رکھا گیا تھا۔
پرواز نمبر اے آئی 2379 نے پھوکیت سے دہلی آتے ہوئے ہوا میں اچانک 300 فٹ غوطہ لگایا تھا۔ اس حادثہ میں 24 افراد زخمی ہو گئے تھے۔ دہلی میں لینڈنگ کے بعد منشیات کے لیے کی گئی ابتدائی جانچ میں چیف پائلٹ کی رپورٹ مثبت پائی گئی تھی۔ ایئر کرافٹ ایکسیڈنٹ انویسٹی گیشن بیورو (اے اے آئی بی) کی جمعہ کی صبح جاری کردہ ابتدائی رپورٹ کے مطابق، خون کے نمونوں کی لیبارٹری جانچ میں بھی چیف پائلٹ کی رپورٹ مثبت پائی گئی ہے۔
ایئر انڈیا نے معاملے میں فوری کارروائی کرتے ہوئے پائلٹ کو برطرف کر دیا ہے۔ ایئر لائن نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا، "حفاظت ایئر انڈیا کی سب سے بڑی ترجیح ہے۔ پھوکیت-دہلی پرواز کے چیف پائلٹ کی منشیات کی جانچ مثبت پائی گئی ہے۔ حفاظت، فٹنس اور ریگولیٹری اہلیت کے معاملے میں ایئر انڈیا کی زیرو ٹالرنس پالیسی کے تحت پائلٹ کو فوری اثر سے برطرف کر دیا گیا ہے۔"اس سے پہلے، ابتدائی رپورٹ آنے کے بعد پہلے ردعمل میں ایئر انڈیا نے کہا تھا کہ وہ تحقیقات میں پورا تعاون کر رہی ہے اور اس نے رضاکارانہ طور پر تمام پائلٹوں کی جانچ شروع کر دی ہے تاکہ حفاظت کے ساتھ کوئی سمجھوتہ نہ ہو۔
اے اے آئی بی کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ چیف پائلٹ کی ابتدائی جانچ اور خون کے نمونے کی لیبارٹری میں جانچ میں اس بات کی تصدیق ہوئی ہے کہ اس نے منشیات کا استعمال کیا تھا۔ بیورو نے ڈائریکٹوریٹ جنرل آف سول ایوی ایشن (ڈی جی سی اے) کو ہدایت دی ہے کہ وہ مستقبل میں ایسے واقعات کو روکنے کے لیے ضروری اقدامات کرے۔رپورٹ میں یہ بھی پایا گیا کہ اس دن پہلے طیارے میں گرین ہائیڈرولک سسٹم ناکام ہوا تھا۔ اس کے بعد بلیو ہائیڈرولک سسٹم اور یلو ہائیڈرولک سسٹم بھی ناکام ہو گیا تھا۔ تینوں ہائیڈرولک سسٹم کی ناکامی کے بعد طیارے کا آٹو پائلٹ خود بخود بند ہو گیا۔ اس کے بعد کو-پائلٹ نے طیارے کو کنٹرول کرنے کی کوشش کی لیکن تبھی چیف پائلٹ نے درمیان میں کنٹرول اپنے ہاتھ میں لے لیا۔اس دوران طیارہ پہلے 372 فٹ اوپر گیا اور پھر 292 فٹ نیچے آیا۔اے اے آئی بی نے طیارے کی جانچ میں پایا کہ کیبن کے اندر کافی نقصان ہوا ہے۔ کئی سیٹوں کے ہینڈ ریسٹ، اوپر سامان رکھنے والے کیبن، ٹوائلٹ کیبن اور اوپر کی سیلنگ کو نقصان پہنچا تھا۔طیارے میں تین شیر خوار بچوں سمیت 137 مسافر اور عملے کے آٹھ اراکین تھے۔ طیارے کے دہلی ہوائی اڈے پر اترنے کے بعد مسافروں کو طبی امداد فراہم کی گئی تھی۔ زخمی 24 افراد میں سے 20 کو ابتدائی طبی امداد کے بعد ہسپتال سے چھٹی دے دی گئی تھی جبکہ چار افراد کو شدید چوٹیں آنے کے باعث زیادہ وقت تک ہسپتال میں رکھا گیا تھا۔
More from قومی

قومی
مودی سرکار مساجد و عبادت گاہوں کو نشانہ بنا کر ملک کی گنگا جمنی تہذیب کو ختم کرنا چاہتی ہے

قومی
امن ہندوستان کی پالیسی، کمزوری نہیں، دہشت گردی پر ضروری قدم اٹھائیں گے: راج ناتھ

قومی
ایس آئی آر کا فیصلہ متفقہ تھا، کابینہ سکریٹری کو لکھے گئے خط کا کسی پالیسی سے تعلق نہیں: الیکشن کمیشن

قومی
گیانیش کمار کے استعفے و گرفتاری کے مطالبے حق میں کانگریس کا ملک گیر مظاہرہ

قومی
گیانیش کمار نے دو دنوں میں استعفیٰ نہیں دیا تو ملک گیر تحریک ہوگی: سی جے پی

قومی
