جمعرات، 1 اکتوبر، 2026
اردوहिन्दीEnglish
آواز ای بہار
آواز ای بہار
ہومای پیپرویڈیوزقومیسیاستکھیلتعلیمبہارقومیسیاستکھیلصحتتعلیممضامینعالمی خبریں
اہمقومیسیاستکھیلتعلیمبہارقومیسیاستکھیلصحتتعلیممضامینعالمی خبریں

آواز ای بہار

بہار کی آواز — اردو، ہندی اور انگریزی میں تازہ ترین خبریں

زمرے

  • مقامی
  • قومی
  • سیاست
  • کاروبار
  • ٹیکنالوجی
  • کھیل
  • صحت
  • تعلیم

فوری لنکس

  • ہوم
  • ای پیپر
  • ویڈیوز
  • دن کی تصویر
  • ہمارے بارے میں
  • رابطہ کریں
  • پرائیویسی پالیسی
  • شرائط و ضوابط

نیوز روم

  • ادارتی پالیسی
  • تصحیح و شکایات
  • اشتہارات
  • نیوز روم رابطہ

زبانیں

  • اردو (Urdu)
  • हिन्दी (Hindi)
  • English

ہمیں فالو کریں

Email: awazebihar@gmail.com

Phone: +91-9473486854

© 2026 Awaz E Bihar Publications. جملہ حقوق محفوظ ہیں

Designed and Developed byZeloiteZeloite
پرچہ لیک کے خلاف سخت دفعات پر مشتمل ترمیمی بل لوک سبھا میں پیش
  1. ہوم
  2. قومی
قومی

پرچہ لیک کے خلاف سخت دفعات پر مشتمل ترمیمی بل لوک سبھا میں پیش

Awaz E Bihar•27 جولائی، 2026 کو 05:30 PM•21 ویوز•5 منٹ پڑھیں

حکومت نے امتحانات میں پرچہ لیک اور منظم امتحانی دھاندلی پر سخت گرفت کے مقصد سے پیر کے روز لوک سبھا میں "لوک پریکشا (غیر قانونی ذرائع کی روک تھام) ترمیمی بل، 2026" پیش کیا۔سائنس و ٹیکنالوجی اور عملہ کے مرکزی وزیر مملکت (آزادانہ چارج) ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے اپوزیشن کے ہنگامے کے درمیان یہ بل ایوان میں پیش کیا۔ بل میں قصورواروں کے لیے 10 سال تک قید، 10 کروڑ روپے تک جرمانہ، جائیداد کی ضبطی، خصوصی فاسٹ ٹریک عدالتوں، مقررہ مدت میں تفتیش اور سماعت سمیت کئی سخت نئی دفعات شامل کی گئی ہیں۔
حکومت کا کہنا ہے کہ حالیہ برسوں میں مختلف امتحانات میں پرچہ لیک اور دیگر بے ضابطگیوں نے امتحانی نظام کی شفافیت، غیر جانبداری اور ساکھ کو شدید متاثر کیا ہے۔ ان واقعات کی روک تھام اور قصورواروں کے خلاف فوری اور مؤثر کارروائی کو یقینی بنانے کے لیے قانون کو مزید مضبوط بنایا جا رہا ہے۔ یہ بل "لوک پریکشا (غیر قانونی ذرائع کی روک تھام) ایکٹ، 2024" میں ترمیم کی تجویز پیش کرتا ہے۔
ترمیمی بل کے تحت تمام ریاستی حکومتوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو اس قانون کے تحت جرائم کی سماعت کے لیے خصوصی فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے اور انہیں نوٹیفائی کرنے کا اختیار دیا جائے گا۔ ان عدالتوں میں مقدمات کی روزانہ کی بنیاد پر سماعت ہوگی اور چارج شیٹ داخل ہونے کے بعد تین ماہ کے اندر مقدمات کا فیصلہ کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ اسی طرح ہائی کورٹ میں دائر اپیلوں کا بھی تین ماہ کے اندر فیصلہ کرنے کی تجویز رکھی گئی ہے۔
بل کے مطابق مرکزی حکومت کو ضرورت پڑنے پر کسی بھی معاملے کی تحقیقات کے لیے خصوصی ٹاسک فورس (اسپیشل ٹاسک فورس) تشکیل دینے کا اختیار بھی حاصل ہوگا۔ اس کے علاوہ قانون کے تحت درج مقدمات کی تفتیش دو ماہ کے اندر مکمل کرنا لازمی ہوگا۔ ریاستی حکومتوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو ان مقدمات کی مؤثر پیروی کے لیے ایک یا ایک سے زائد خصوصی سرکاری وکلاء (اسپیشل پبلک پراسیکیوٹرز) مقرر کرنے کا اختیار بھی دیا جائے گا۔
بل میں منظم طریقے سے پرچہ لیک کرنے، امتحانات میں غیر قانونی ذرائع استعمال کرانے یا ایسے جرائم میں ملوث افراد کے لیے سزا میں اضافہ کرتے ہوئے دو سال سے 10 سال تک قید اور ایک کروڑ روپے سے 10 کروڑ روپے تک جرمانے کی تجویز دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ عدالت کو بھارتیہ نیائے سنہتہ کی متعلقہ دفعات کے تحت اضافی سزا سنانے کا اختیار بھی حاصل ہوگا۔
بل کی دفعات کے مطابق اگر کوئی سروس فراہم کرنے والا ادارہ، ایجنسی یا کمپنی اس نوعیت کے جرم میں ملوث پائی جاتی ہے تو اس پر ایک کروڑ روپے تک کا جرمانہ عائد کیا جائے گا۔ اس کے ساتھ امتحان کے انعقاد پر آنے والی اصل لاگت بھی متعلقہ ادارے سے وصول کی جائے گی اور اسے چار سال تک کسی بھی امتحانی عمل سے متعلق کام انجام دینے سے محروم رکھا جا سکے گا۔
اگر کسی سروس فراہم کرنے والے ادارے کے ڈائریکٹر، اعلیٰ انتظامیہ، افسران، ملازمین یا دیگر ذمہ دار افراد جرم میں ملوث پائے جاتے ہیں تو انہیں بھی دو سے 10 سال تک قید اور ایک کروڑ روپے تک جرمانے کا سامنا کرنا ہوگا۔بل میں یہ بھی تجویز کیا گیا ہے کہ اگر کوئی امتحانی اتھارٹی، اس سے وابستہ ادارہ یا کوئی منظم گروہ اس جرم میں ملوث پایا جاتا ہے تو متعلقہ افراد کے خلاف پانچ سے 10 سال تک قید اور کم از کم ایک کروڑ روپے جرمانے جیسی سخت کارروائی کی جا سکے گی۔
ترمیمی بل کے تحت جرم سے حاصل کی گئی جائیداد ضبط کرنے کی بھی تجویز رکھی گئی ہے تاکہ غیر قانونی سرگرمیوں سے حاصل ہونے والے مالی فائدے کو مکمل طور پر ختم کیا جا سکے۔
حکومت کا کہنا ہے کہ ان ترامیم کا مقصد عوامی امتحانی نظام میں شفافیت، غیر جانبداری اور اعتماد کو مزید مضبوط بنانا، نوجوانوں کا امتحانی نظام پر بھروسہ بڑھانا اور پرچہ لیک و منظم امتحانی مافیا کے خلاف مؤثر اور مقررہ مدت میں کارروائی کو یقینی بنانا ہے۔ مرکزی کابینہ کی منظوری کے بعد یہ ترمیمی بل پارلیمنٹ میں پیش کیا گیا ہے۔
تین مرتبہ ملتوی ہونے کے بعد جب شام پانچ بجے ایوان کی کارروائی دوبارہ شروع ہوئی تو اپوزیشن ارکان نے نعرے بازی شروع کر دی اور پلے کارڈ اٹھا کر ایوان کے وسط میں آ گئے۔قائم مقام اسپیکر کرشنا پرساد تینّیٹی نے ہنگامہ کرنے والے ارکان سے اپنی نشستوں پر واپس جانے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ یہ نہایت اہم بل ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس کی نقل پہلے ہی تمام ارکان کو فراہم کی جا چکی ہے، اس لیے انہیں اس پر بحث میں حصہ لینا چاہیے۔
پارلیمانی امور کے وزیر کرن رجیجو نے کہا، "کئی ارکان اس بل پر بحث کے لیے مکمل تیاری کے ساتھ آئے ہیں۔ اپوزیشن کے متعدد ارکان نے اس میں ترامیم بھی پیش کی ہیں۔
یہ بچوں اور طلبہ کے مستقبل سے متعلق انتہائی اہم بل ہے۔ مقررین بھی بحث کے لیے تیار ہیں، لیکن کانگریس اور دیگر اپوزیشن جماعتیں جان بوجھ کر اس پر بحث نہیں ہونے دے رہی ہیں۔ مجھے انتہائی افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ اجلاس کے پہلے دن یہی جماعتیں پرچہ لیک کے معاملے پر بحث کا مطالبہ کر رہی تھیں۔"
انہوں نے کہا کہ حکومت اب اس معاملے پر بل لے آئی ہے اور اسے ایوان میں بحث کے لیے پیش بھی کر دیا گیا ہے، لیکن اپوزیشن اس اہم قانون سازی پر گفتگو نہیں ہونے دے رہی۔ انہوں نے کانگریس کے ارکان سے اپیل کرتے ہوئے کہا، "براہِ کرم ایسا نہ کریں۔ آپ کی شبیہ پہلے ہی کافی متاثر ہو چکی ہے۔ ایسے اقدامات سے گریز کریں جن سے آپ کی جماعت کی مزید بدنامی ہو۔ پوری پارٹی کو متحد ہو کر اس اہم بل پر بحث میں حصہ لینا چاہیے، کیونکہ اس کا مقصد ہمارے نوجوانوں اور طلبہ کے مستقبل کو محفوظ اور بہتر بنانا ہے۔"
شیئر کریں:

More from قومی

 مودی سرکار مساجد و عبادت گاہوں کو نشانہ بنا کر ملک کی گنگا جمنی تہذیب کو ختم کرنا چاہتی ہے
قومی

مودی سرکار مساجد و عبادت گاہوں کو نشانہ بنا کر ملک کی گنگا جمنی تہذیب کو ختم کرنا چاہتی ہے

29 ستمبر، 2026
امن ہندوستان کی پالیسی، کمزوری نہیں، دہشت گردی پر ضروری قدم اٹھائیں گے: راج ناتھ
قومی

امن ہندوستان کی پالیسی، کمزوری نہیں، دہشت گردی پر ضروری قدم اٹھائیں گے: راج ناتھ

27 ستمبر، 2026
ایس آئی آر کا فیصلہ متفقہ تھا، کابینہ سکریٹری کو لکھے گئے خط کا کسی پالیسی سے تعلق نہیں: الیکشن کمیشن
قومی

ایس آئی آر کا فیصلہ متفقہ تھا، کابینہ سکریٹری کو لکھے گئے خط کا کسی پالیسی سے تعلق نہیں: الیکشن کمیشن

26 ستمبر، 2026
گیانیش کمار کے استعفے و گرفتاری کے مطالبے حق میں کانگریس کا ملک گیر مظاہرہ
قومی

گیانیش کمار کے استعفے و گرفتاری کے مطالبے حق میں کانگریس کا ملک گیر مظاہرہ

25 ستمبر، 2026
گیانیش کمار نے دو دنوں میں استعفیٰ نہیں دیا تو ملک گیر تحریک ہوگی: سی جے پی
قومی

گیانیش کمار نے دو دنوں میں استعفیٰ نہیں دیا تو ملک گیر تحریک ہوگی: سی جے پی

24 ستمبر، 2026
الیکشن کمیشن کی 14 اعتراضات پر وضاحت، اختلافِ رائے کو معمول قرار دیا
قومی

الیکشن کمیشن کی 14 اعتراضات پر وضاحت، اختلافِ رائے کو معمول قرار دیا

23 ستمبر، 2026