امریکی بحری بیڑے پلک جھپکتے میں سمندر برد کیے جا سکتے ہیں: خامنہ ای
Awaz E Bihar••0 ویوز•4 منٹ پڑھیں
ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے کہا ہے کہ امریکی بحری بیڑے پلک جھپکتے میں سمندر برد کیے جا سکتے ہیں۔ منگل کو تہران میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ایران کے سپریم لیڈر علی خامنہ ای نے واشنگٹن کو سخت انتباہ جاری کرتے ہوئے کہا کہ خلیجِ عرب میں تعینات امریکی جنگی بحری جہازوں کو سمندر کی تہہ میں ڈبویا جا سکتا ہے۔یہ بیان ایک ایسے وقت سامنے آیا ہے جب عمانی ثالثی میں جنیوا میں ایران اور امریکہ کے درمیان بالواسطہ جوہری مذاکرات کا نیا دور شروع ہو گیا ہے اور جس میں خاصی پیش رفت دکھائی دی۔ خامنہ ای نے براہِ راست امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اُن بیانات کا جواب دیا جن میں وہ بارہا امریکہ کو دنیا کی 'سب سے طاقتور فوج کا حامل قرار دے چکے ہیں۔ ایرانی رہنما نے کہا کہ صدر ٹرمپ اپنی فوج کو دنیا کی طاقتور ترین فوج قرار دیتے ہیں لیکن یاد رہے طاقت ور ترین فوج کو بھی ایسی کاری ضرب لگائی جا سکتی ہے کہ دوبارہ پیروں پر کھڑی نہ ہو سکے۔ خامنہ ای نے کہا 'دنیا کی سب سے طاقتور فوج کو بھی ایسا تھپڑ پڑ سکتا ہے جس سے وہ سنبھل نہ سکے۔ وہ بار بار کہتے ہیں کہ ہم نے ایران کی طرف ایک جنگی جہاز بھیجا ہے۔ بہت اچھا، جنگی جہاز واقعی ایک خطرناک مشین ہے، لیکن جنگی جہاز سے بھی زیادہ خطرناک وہ ہتھیار ہے جو اسے سمندر کی تہہ میں ڈبو سکتا ہے۔ خامنہ ای نے اس خیال کو مسترد کیا کہ امریکا اسلامی جمہوریہ کا تختہ الٹ سکتا ہے۔ ٹرمپ کے حالیہ بیانات کا حوالہ دیتے ہوئے انھوں نے کہا 'امریکی صدر نے اپنے حالیہ بیانات میں سے ایک میں کہا کہ 47 برس سے امریکا اسلامی جمہوریہ کو ختم کرنے میں ناکام رہا ہے، انھوں نے اس پر اپنے ہی عوام سے شکایت کی۔ 47 برس سے امریکا اسلامی جمہوریہ کو ختم نہیں کر سکا۔ یہ ایک اچھا اعتراف ہے۔ میں کہتا ہوں آپ بھی یہ نہیں کر سکیں گے۔سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای نے کہا ہے کہ ائیر کرافٹ کیریئر سے زیادہ خطرناک وہ ہتھیار ہے جو اسے سمندر میں غرق کرسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکی صدراسلامی جمہوریہ ایران کو نہیں گرا سکیں گے، امریکی صدر اپنی فوج کو دنیا کی مضبوط ترین فوج قراردیتے ہیں لیکن دنیا کی سب سےمضبوط فوج کو بھی ایسا تھپڑپڑسکتا ہےکہ وہ اٹھ نہ سکے۔ایرانی سپریم لیڈر کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے خلاف ممکنہ فوجی کارروائی کے اشارہ دیتے ہوئے متعدد مرتبہ ایران کی جانب بحری بیڑہ بھیجنے کا ذکر کرچکے ہیں۔ دوسری جانب آج ایرانی پاسداران انقلاب نیوی کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ پاسداران انقلاب حکم ملتے ہی آبنائے ہرمز کو بند کرنے کے لیے تیار ہیں۔ ایرانی خبررساں ایجنسی کے مطابق منگل کے روز 'اسمارٹ کنٹرول آف دی اسٹریٹ آف ہرمز' مشق کے دوران چند گھنٹوں کے لیے آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت معطل رہی۔ بحری مشق کے دوسرے مرحلے میں پاسدارانِ انقلاب نیوی کے جنگی اور فوری ردعمل دینے والے یونٹس نے حصہ لیا جس کا مقصد محفوظ بحری آمد و رفت کو یقینی بنانا تھا۔ مشق کے دوران مختلف ہتھیاروں کا استعمال کیا گیا اور فوجی ماہرین کے مطابق مشق میں مقررہ اہداف کو انتہائی درستگی کے ساتھ نشانہ بنایا گیا۔ پاسدارانِ انقلاب کی تیز رفتار میزائل بردار کشتیوں نے بھی میزائل فائر کر کے عملی کارروائی کا مظاہرہ کیا جبکہ خلیج کے ساحلی علاقوں اور جزائر سے داغے گئے میزائلوں نے بھی آبنائے ہرمز میں اپنے اہداف کو کامیابی سے نشانہ بنایا۔ بالواسطہ بات چیت کے اختتام پر ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئےکہا کہ امریکہ کے ساتھ بنیادی اصولوں سے متعلق مفاہمت پر پہنچ گئے ہیں۔ انہوں نے کہا جلد کسی معاہدے پر پہنچنے کا امکان نہیں لیکن عملی شروعات ہوگئی ہیں، دونوں فریقین ممکنہ معاہدے کی دستاویزات پر کام کریں گے اور ان کا تبادلہ کریں گے۔ ایرانی وزیرخارجہ نے بتایا کہ اب بھی ایسے موضوعات ہیں جن پر کام ہونا ہے، طاقت کے استعمال کی امریکی دھمکیوں کا اب فوری خاتمہ ہوجانا چاہیے۔ مذاکرات میں امریکی وفد کی نمائندگی اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر نے کی۔