جمعرات، 1 اکتوبر، 2026
اردوहिन्दीEnglish
آواز ای بہار
آواز ای بہار
ہومای پیپرویڈیوزقومیسیاستکھیلتعلیمبہارقومیسیاستکھیلصحتتعلیممضامینعالمی خبریں
اہمقومیسیاستکھیلتعلیمبہارقومیسیاستکھیلصحتتعلیممضامینعالمی خبریں

آواز ای بہار

بہار کی آواز — اردو، ہندی اور انگریزی میں تازہ ترین خبریں

زمرے

  • مقامی
  • قومی
  • سیاست
  • کاروبار
  • ٹیکنالوجی
  • کھیل
  • صحت
  • تعلیم

فوری لنکس

  • ہوم
  • ای پیپر
  • ویڈیوز
  • دن کی تصویر
  • ہمارے بارے میں
  • رابطہ کریں
  • پرائیویسی پالیسی
  • شرائط و ضوابط

نیوز روم

  • ادارتی پالیسی
  • تصحیح و شکایات
  • اشتہارات
  • نیوز روم رابطہ

زبانیں

  • اردو (Urdu)
  • हिन्दी (Hindi)
  • English

ہمیں فالو کریں

Email: awazebihar@gmail.com

Phone: +91-9473486854

© 2026 Awaz E Bihar Publications. جملہ حقوق محفوظ ہیں

Designed and Developed byZeloiteZeloite
انورؔ جلالپوری: نثر و نظم کا گنگا جمنی کارواں
  1. ہوم
  2. مضامین
مضامین

انورؔ جلالپوری: نثر و نظم کا گنگا جمنی کارواں

Awaz E Bihar•1 جنوری، 2026 کو 12:55 PM•1 ویوز•6 منٹ پڑھیں


✍️ ابوشحمہ انصاری
سعادت گنج، بارہ بنکی

کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جن کی شخصیت محض جسمانی موجودگی تک محدود نہیں رہتی بلکہ روح اور ذہن کے کئی زاویوں پر چھا جاتی ہے۔ انورؔ جلالپوری میرے لیے بھی ایسی ہی ہستی تھے۔ کبھی روبرو ملاقات کا شرف نہ ہوا، مگر ان کے بے شمار مشاعروں کی ویڈیوز دیکھ کر محسوس ہوتا رہا کہ یہ شخص صرف شاعر یا ناظم نہیں بلکہ تہذیب، فہم و دانش، محبت اور انسانیت کا زندہ آئینہ تھا۔ ان کی نظامت میں وقار، شائستگی اور محبت کی روشنی واضح تھی، اور ان کی آواز میں وہ نرمی اور ٹھہراؤ تھا جو دل کو فوراً اپنی جانب کھینچ لیتا۔
6 جولائی 1947 کو جلالپور، ضلع امبیڈکر نگر میں پیدا ہونے والے انوار احمد نے تعلیم کے ذریعے علم کا چراغ حاصل کیا اور فہم و دانش کے ذریعے تہذیب کا ترجمان بننے کا مقام پایا۔ گورکھپور یونیورسٹی، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی اور اودھ یونیورسٹی کے علمی سفر نے انہیں محض ادبی شخصیت نہیں بلکہ فکر، تعلیم اور تہذیبی ہم آہنگی کا ممتاز نمائندہ بنا دیا۔ وہ اردو ادب، تعلیم، ترجمہ، اور تہذیب کے سنگم کے نمایاں علمبردار تھے۔
انورؔ جلالپوری کی شاعری میں محبت، انسانیت، خودداری اور فکر کا حسین امتزاج ہے۔ یہ شعر پڑھتے ہوئے محسوس ہوتا ہے کہ شاعر اپنے فن کی عظمت سے زیادہ اپنی ذمہ داری بیان کر رہا ہے،یہ شعر ایک فنکار کی اپنی عظمت اور ذمہ داری کے درمیان توازن کی نشاندہی کرتا ہے، ایک ایسے شاعر کی سوچ جو اپنے الفاظ کو سلطنت سمجھ کر چلتا ہے۔
میں ایک شاعر ہوں میرا رتبہ نہیں کسی بھی وزیر جیسا
مگر میرے فکر و فن کا پھیلاؤ تو ہے برِ صغیر جیسا
یہ صرف فخر نہیں، یہ فنکار کی سچی خود شناسی ہے۔ انہوں نے اقتدار کے دروازے نہ کھٹکھٹائے، مگر قلوب کی سلطنت ان کے قدموں میں تھی، اور یہی سب سے بڑی بادشاہی ہے۔
انورؔ جلالپوری کا سب سے شاندار ادبی کارنامہ بھگوت گیتا کا اردو میں منظوم ترجمہ ہے۔ 701 شلوکوں کو 1761 اشعار میں ڈھالنا محض زبان دانی نہیں بلکہ تہذیبوں کے سنگم کی اعلیٰ تصویر ہے۔ اسی کام کے ذریعے انہوں نے اردو ادب کے ساتھ ہندوستان کی مشترکہ تہذیب کو بھی قریب کیا۔ اسی فکر و خدمت کی بدولت انہیں یش بھارتی، افتخارِ میر، اتر پردیش گوراو، سماجی یکجہتی ایوارڈ سے نوازا گیا، اور زندگی میں پدم شری سے بھی سرفراز کیا گیا۔
مشاعروں کی دنیا میں وہ صرف ناظم نہیں بلکہ ایک ضمیر تھے۔ جب وہ اسٹیج سنبھالتے، محفلیں صرف مشاعرہ نہیں رہتیں بلکہ تہذیبی جشن میں بدل جاتی تھیں۔ ان کے الفاظ میں شائستگی، مزاج میں وقار اور لہجے میں مٹھاس ایسی تھی جو سننے والے کے دل پر دیرپا اثر چھوڑتی تھی۔
وہ نہ صرف ملک بھر میں بلکہ بیرون ملک بھی اردو ادب اور مشاعروں کے ذریعے اپنی روشنی بکھیرتے رہے۔ یورپ، خلیجی ممالک اور شمالی امریکہ میں اردو مشاعروں اور ادبی نشستوں میں ان کی شرکت نے وہاں کے اردو ادب کے شائقین کو بھی محبت، تہذیب اور ادب سے روشناس کرایا۔ ان کی نظامت میں وہ فہم، وقار اور لطافت تھی جو صرف ادب کی محفل کو نہیں بلکہ ایک تہذیبی تجربے کو بھی منتقل کرتی تھی۔ ان کا یہ انداز ملک و بیرون ملک سننے والوں کے دلوں میں دیرپا اثر چھوڑ گیا۔
جب وہ انسانیت، محبت اور مذہبی رواداری کی بات کرتے تو دلوں کے درمیان فاصلے خود بخود گھل جاتے۔ یہ شعر محبت اور تہذیبی یکجہتی کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے،یہ شعر مذہبی رواداری کے ساتھ انسانی تعلقات کے لیے ذمہ داری سکھاتا ہے۔
دوستو! عیار دنیا کی حفاظت کے لیے
آبِ زم زم ہو تو گنگا جل بھی ہونا چاہیے
یہ سوچ دلوں کو قریب لاتی ہے، انسانیت کی تربیت دیتی ہے اور مختلف مذاہب و ثقافتوں کے بیچ تعلقات کا پل بنتی ہے۔
ان کی شاعری میں زندگی کے مشاہدات، سچائیوں کی تلخی اور انسان کی کمزوریوں کا گہرا شعور بھی شامل ہے۔دنیا کی سچائی کو ایک آئینہ کی طرح دیکھنے کی دعوت ہے۔
کوئی ہارا، کوئی جیتا، خبر کس کو ہے
لوگ تو صرف تماشے کے لیے آئے تھے
دنیا ایک ہجوم ہے جو تماشا دیکھتا اور آگے بڑھ جاتا ہے۔ یہ شعر شعور دیتا ہے، تلخی نہیں، بلکہ حقیقت سے روشناس کراتا ہے۔
ان کی مذہبی وابستگی بھی اتنی ہی مضبوط تھی جتنی ان کی تہذیبی وسعت۔ "راہرو سے رہنما تک" میں خلفائے راشدین کی منظوم سیرت، "توشۂ آخرت" میں پارہ عم کا منظوم ترجمہ اور "ضربِ لا الہ" میں ان کی فکری جھلکیں یہ ثابت کرتی ہیں کہ وہ دین کو محدود نہیں بلکہ کشادگی کے طور پر سمجھتے تھے۔یہ شعر ان کی شخصیت، اخلاق اور انسانیت کی عکاسی کرتا ہے۔
میں اپنے ساتھ رکھتا ہوں سدا اخلاق کا پارس
اسی پتھر سے مٹی چھو کے میں سونا بناتا ہوں
یہ صرف شاعری نہیں بلکہ زندگی کا اصول ہے۔ یہی اخلاق انہیں دلوں کا ہیرے بناتا ہے۔
اور وہ آخری احساس، جو آج بھی دل کو چھو جاتا ہے۔ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے شاعر نرمی سے دل کو تسلی دے رہا ہو۔
میں جا رہا ہوں میرا انتظار مت کرنا
میرے لیے کبھی دل سوگوار مت کرنا
یہ باوقار جدائی ہے، رخصت نہیں، بلکہ دلوں میں محبت کی یاد ہے۔
انورؔ جلالپوری کی علمی و ادبی خدمات، مشاعروں میں ناظم کی حیثیت، بھگوت گیتا کا اردو میں منظوم ترجمہ، متعدد کتابیں جیسے "جگتی آنکھیں"، "ہرفِ ابجد"، "ادب کے احرف"، "رُاہرُو سے رہنما تک"، ملک و بیرون ملک شعری و ادبی خدمات، اور متعدد اعزازات، جیسے یش بھارتی، افتخارِ میر، اتر پردیش گوراو، سماجی یکجہتی ایوارڈ اور پدم شری، ان کی شخصیت کے گہرے اثرات اور بلند مرتبہ کا ثبوت ہیں۔ وہ نہ صرف اردو ادب کے لیے بلکہ ہندوستان کی مشترکہ تہذیب اور انسانیت کے لیے بھی ایک روشن کارواں تھے۔
2 جنوری 2018 کو ان کے انتقال کی خبر اخبارات کے ذریعہ موصول ہوئی تو ایسا لگا جیسے ایک تہذیبی چراغ بجھ گیا۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ وہ چراغ بجھے نہیں، بلکہ دلوں میں منتقل ہو گئے۔ افسوس ہے کہ جلالپور میں ان کے نام پر کوئی چوک یا ادارہ نہیں، ورنہ آنے والی نسلیں روزانہ ان کے نام کو یاد کرتیں۔ آج بھی جب ہم انہیں یاد کرتے ہیں تو دل شکر ادا کرتا ہے کہ ہماری تہذیب کو ایسا شخص ملا جس نے لفظوں کو عبادت بنایا، محبت کو مش mission اور انسانیت کو پہچان بنایا۔ وہ آنکھوں سے اوجھل ضرور ہیں، مگر دلوں میں اب بھی زندہ ہیں اور رہیں گے۔اللہ تعالیٰ ان کی روح پر رحمتیں نازل فرمائے۔
مضمون نگار: آل انڈیا مائناریٹیز فورم فار ڈیموکریسی، شعبہ نشر و اشاعت کے سیکریٹری ہیں۔
شیئر کریں:

More from مضامین

عبد الجلیل مستان
مضامین

عبد الجلیل مستان

28 ستمبر، 2026
آٹھ سال کے بعد اردو ڈائرکٹریٹ، پٹنہ کا بے مثال جشن اردو
مضامین

آٹھ سال کے بعد اردو ڈائرکٹریٹ، پٹنہ کا بے مثال جشن اردو

28 اگست، 2026
آزادی کے بعد آزادی کی تلاش،خواب ابھی باقی ہے
مضامین

آزادی کے بعد آزادی کی تلاش،خواب ابھی باقی ہے

21 اگست، 2026
سپریم کورٹ کا حکم، انتظامی ضوابط اور جدید معاشی تحفظ کا پیغام
مضامین

سپریم کورٹ کا حکم، انتظامی ضوابط اور جدید معاشی تحفظ کا پیغام

21 اگست، 2026
شوبھندو حکومت کے 100 دن
مضامین

شوبھندو حکومت کے 100 دن

20 اگست، 2026
​پولیس تشدد کے خلاف اہم فیصلہ
مضامین

​پولیس تشدد کے خلاف اہم فیصلہ

13 جولائی، 2026