کسی بھی نئی فوجی مہم جوئی کے سنگین نتائج ہوں گے: ایران کا امریکہ کو انتباہ
Awaz E Bihar••6 ویوز•4 منٹ پڑھیں
تہران :ایران نے ہفتے کے روز امریکہ کو کسی بھی نئی فوجی ’’مہم جوئی’’ سے خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر اس کی سرزمین یا مفادات کو نشانہ بنایا گیا تو وہ ’’پوری قوت اور سختی‘‘ سے جواب دے گا۔یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے ،جب دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہو رہا ہے اور امریکہ و اسرائیل کی جانب سے نئی فوجی کارروائیوں کی اطلاعات گردش کر رہی ہیں۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ٹیلی گرام پر جاری ایک بیان میں کہا کہ انہوں نے یہ پیغام ترکی کے وزیر خارجہ ہاکان فیدان اور پاکستان کے آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر سے الگ الگ ٹیلیفونک رابطوں کے دوران پہنچایا۔عراقچی نے زور دے کر کہا کہ ایران "کسی بھی جارحیت کا فیصلہ کن جواب دینے کے لیے مکمل طور پر تیار ہےاور امریکہ کو کسی بھی غیر ذمہ دارانہ فوجی اقدام سے باز رہنے کی وارننگ دی۔ یہ بات خبر رساں ادارے رائٹرز نے نقل کی ہے۔ ایک علیحدہ بیان میں ایرانی وزارت خارجہ نے امریکہ پر 18 جون کو دستخط ہونے والی جنگ کے خاتمے کی یادداشت (مذکرۂ مفاہمت) کی شقوں پر عمل نہ کرنے کا الزام عائد کیا۔ وزارت کا کہنا تھا کہ واشنگٹن اب بھی ایران پر بحری محاصرہ برقرار رکھے ہوئے ہے، جبکہ حملوں اور اقتصادی دباؤ کا سلسلہ بھی جاری ہے۔وزارت خارجہ نے کہا کہ بحری محاصرہ، دھمکیاں اور شہری بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے والے حملے اس کے نزدیک جارحیت اور اقوام متحدہ کے منشور کی خلاف ورزی ہیں۔بیان میں زور دیا گیا کہ تہران اپنے حقوق، مفادات اور قومی سلامتی کے دفاع کے لیے، امریکہ اور اسرائیل کی مبینہ جارحانہ کارروائیوں کے مقابلے میںتمام جائز ذرائع استعمال کرے گا۔ ایرانی وزارت خارجہ نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل اور اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کی حالیہ پیش رفت پر خاموشی کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ یہ رویہ ان دونوں بین الاقوامی اداروں کی قانونی ذمہ داریوں سے مطابقت نہیں رکھتا۔ ایرانی وزارت خارجہ نے وضاحت کی کہ عراقچی کے ترک اور پاکستانی حکام کے ساتھ رابطوں میں خطے میں بڑھتی ہوئی فوجی کشیدگی کے خطرات اور تنازع کو مزید پھیلنے سے روکنے کے طریقوں پر بات چیت ہوئی۔یہ رابطے ایسے وقت میں کیے جا رہے ہیں ،جب تہران جاری کشیدگی کے دوران علاقائی حمایت حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔یہ بیانات امریکی میڈیا کی ان رپورٹس کے چند گھنٹے بعد سامنے آئے ہیں ،جن میں کہا گیا تھا کہ امریکہ اور اسرائیل ایران کے توانائی کے شعبے سے متعلق تنصیبات کو نشانہ بنانے کے لیے ایک فوجی مہم پر غور کر رہے ہیں، جبکہ حتمی فیصلہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی منظوری کا منتظر ہے۔یہ صورتحال ایسے وقت میں بھی سامنے آئی ہے، جب خطے میں امریکی فوجی کارروائیاں جاری ہیں اور ایران پر بحری دباؤ مزید سخت کیا جا رہا ہے۔واشنگٹن کا کہنا ہے کہ اس کے اقدامات کا مقصد تہران پر دباؤ بڑھانا ہے، جبکہ ایران اسے بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی اور اپنی قومی سلامتی کے لیے براہ راست خطرہ قرار دیتا ہے۔ ایران کے قائم مقام وزیر دفاع مجید ابن الرضا نے کہا ہے کہ ایران اپنے مخالف ممالک کی جانب سے دی جانے والی ہر دھمکی کو حقیقی اور قابلِ اعتبار سمجھتا ہے، خواہ وہ نفسیاتی دباؤ یا جنگی پروپیگنڈے کا حصہ ہی کیوں نہ ہو۔ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق مجید ابن الرضا نے اپنے بیان میں کہا کہ ایران کسی بھی ممکنہ خطرے کو معمولی نہیں سمجھتا اور ہر قسم کی دھمکی کو پوری سنجیدگی سے لیتا ہے۔انہوں نے کہا کہ ایران نہ تو کسی خطرے سے غافل ہوگا اور نہ ہی خاموش تماشائی بن کر بیٹھے گا، جبکہ ملک کی مسلح افواج ہر ممکن صورتحال سے نمٹنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔قائم مقام وزیر دفاع نے کہا کہ ایران ہر دھمکی کو اپنی دفاعی صلاحیتوں کو مزید مضبوط بنانے، فوجی تیاریوں میں اضافہ کرنے، دفاعی حکمت عملی کو بہتر بنانے اور دشمن کے خلاف مؤثر بازدار قوت برقرار رکھنے کے موقع کے طور پر استعمال کرے گا۔