ایپروپریشن بل پر بحث: اپوزیشن نے بجٹ کے اعداد و شمار کی ساکھ پر اٹھائے سوال
Awaz E Bihar••3 ویوز•4 منٹ پڑھیں
راجیہ سبھا میں اپوزیشن نے وزیر خزانہ نرملا سیتا رمن کے پیش کردہ بجٹ کے اعداد و شمار کی ساکھ پر سوال اٹھاتے ہوئے پیر کو حکومت پر روپے کی شرح تبادلہ میں گراوٹ اور قیمتوں میں اضافے کو روکنے میں ناکام ہونے کا الزام لگایا۔ بجٹ 2026-27 کے بجٹ سے متعلق گرانٹس کے مطالبات سے متعلق ایپروپریشن بل (نمبر 2) 2026 پر ایوان میں بحث کے دوران اپوزیشن نے کہا کہ بجٹ میں روزگار بڑھانے کا کوئی واضح منصوبہ نظر نہیں آتا اور حکومت ایندھن اور کھاد جیسی ضروری اشیاء کی فراہمی کے لیے ٹھوس انتظامات کرنے میں ناکام رہی ہے۔وزیر مملکت برائے خزانہ پنکج چودھری نے کھانے کے وقفے کے بعد ایپروپریشن بل (نمبر 2) 2026 کو اسی شکل میں منظور کرکے لوک سبھا کواسی شکل میں واپس کرنے کی تجویز پیش کی۔ فنذڈ سے متعلق بل ہونے کی وجہ سے راجیہ سبھا میں اس پر بحث محض رسمی ہے۔ تجویز پر بحث کا آغاز کرتے ہوئے، کانگریس پارٹی کے نیرج ڈانگی نے سال 2026-27 کا بجٹ رکھ جانے کے بعد 2025-26 کے لیے 2.81 لاکھ کروڑ روپے کے ضمنی گرانٹ کے مطالبات کی دوسری قسط پیش کرنے کا مسئلہ اٹھایا اور کہا کہ وزیر خزانہ، بجٹ پیش کرتے ہوئے، اہم مدوں کے اخراجات کی تجویز کم رکھتی ہیں تاکہ مالیاتی صورتحال کا ضسارہ کم دکھا کر حالات کو مضبوط دکھایا جاسکے۔ انہوں نے کہا کہ روپیہ مسلسل گر رہا ہے جس کی وجہ سے اشیائے ضروریہ کی درآمد کی قیمت بڑھنے سے مہنگائی کا خطرہ اور بیرون ملک تعلیم کے لیے گئے طلباء کے اخراجات بڑھ رہے ہیں۔ تعمیرات کے لیے درآمدی وسائل بھی مہنگے ہو گئے ہیں۔ اس کا مکمل اثر عام لوگوں پر پڑرہا ہے اور حکومت کی میکرو اکنامک مینجمنٹ کمزور دکھائی دیتی ہے۔ مسٹر ڈانگی نے سونے کی قیمتوں میں مسلسل اضافے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ہندستان کے لوگوں کی ثقافت سے وابستہ یہ دھات عام لوگوں کی خریداری کی حیثیت سے باہر چلی گئی ہے۔ کنٹرول سے باہر ہوتی جاہے ان حالات سے نمٹنے کے لیے حکومت اور آربی آئی سے مداخلت کرنے اور درآمدی محصولات اور سامان و خدمات ٹیکس (جی ایس ٹی) کم کرنے کرنے کی تجویز دی، تاکہ عوام کو بوجھ سے بچایا جاسکے۔ کانگریس کے رکن نے کہا کہ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ نے ہندوستان کے اکاؤنٹنگ کو معیار کے لحاظ سے 'گریڈ سی میں رکھا ہے جو چین کے بعد دوسرا ہے۔ کھانا پکانے کی گیس اور پوٹاش و فاسفورس والی کھاد کی کمی کا الزام لگاتے ہوئے مسٹر ڈانگی نے کہا کہ مغربی ایشیا میں آبنائے ہرمز کے ذریعے جہازوں کی آمدورفت متاثر ہونے سے ایل این جی بھی مہنگا ہوگیا ہے جس سے کھاد کی قیمتیں بھی بڑھ گئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت ایل پی جی کی فراہمی کی کوئی کمی نہ ہونے کی بات کررہی ہے، لیکن پورا ملک گیس کی لائن میں لگا ہوا ہے۔ لوگ رسوئی کے لیے دوبارہ لکڑی کے دور میں پہنچ گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بجٹ میں روزگار کے مواقع بڑھانے کا کوئی روڈ میپ نہیں ہے، یہ عوام مخالف بجٹ ہے۔ سابق وزیر اعظم ایچ ڈی دیوے گوڑا نے کہا کہ گیس اس وقت گیس اور پیٹرولیم جیسی درآمد پر منحصر اشیاء کی فراہمی پر کوئی بحث کرنے سے پہلے خلیجی خطہ میں جنگی صورتحال کو ذہن میں رکھنا چاہیے۔ انہوں نے حزب اختلاف کو بنگلہ دیش جنگ کے وقت کی یاد دلائی جب مٹی کے تیل اور چینی کی قیمتوں میں بھی زبردست اضافہ ہوا تھا اور کرناٹک اسمبلی میں انہوں نے اس پر بحث میں حصہ لیا تھا۔ کرناٹک میں کانگریس حکومت کے اکم کاج پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے مسٹر دیوے گوڑا نے مرکزی حکومت سے کرناٹک کی مدد کرنے، وہاں سات صنعتی کمپلیکس کی ترقی کے کام کو آگے بڑھانے اور بھدراوتی اسٹیل پلانٹ کو بحال کرنے کی پرزور اپیل کی۔ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے مدن راٹھور نے اپوزیشن پر گیس کی قلت کے بارے میں بے بنیاد خوف پھیلانے کا الزام لگایا۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن ہندوستانی معیشت کی پچھلے دس سال کی تیز پیش رفت پر آنکھیں بند کر کے بات کرتی ہے۔ اپوزیشن کو بے بنیاد باتیں کرکے ایوان کے وقت کا غلط استعمال نہیں کرنا چاہیے۔