زبانیں اچانک وجود میں نہیں آتیں، بلکہ معاشرتی ضرورتوں کے زیرِ اثر جنم لیتی ہیں اور آہستہ آہستہ ارتقاء کے مختلف مراحل طے کرتی ہیں۔ اسی لیے کسی بھی زبان کی ابتدا کا قطعی تعین ماہرینِ لسانیات کے لیے نہایت دشوار کام ہوتا ہے۔ اگر عربی زبان کی بات کی جائے تو بعض مذہبی ماخذ اگرچہ اس نتیجے تک پہنچاتے ہیں کہ ابتدائے آفرینش ہی سے عربی زبان کا وجود رہا ہے، تاہم کسی بھی ماہرِ لسانیات کے لیے اسے مسلمہ حقیقت کے طور پر قبول کرنا آسان نہیں۔ اسی لیے محققین نے عربی زبان کی ابتدا پر خاصی بحث و گفتگو کی ہے، لیکن اب تک ان کی جانب سے اس سلسلے میں کوئی ایسا ٹھوس اور ناقابلِ تردید ثبوت پیش نہیں کیا جا سکا ہے جو عربی زبان کی ابتدا کو یقینی طور پر متعین کر دے۔ غالباً اس کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ عربی زبان کا باقاعدہ تعارف ہی دنیا کو ایسے وقت میں حاصل ہوا جب وہ اپنے عروج، فصاحت اور ادبی شباب کے مرحلے میں داخل ہو چکی تھی۔ محققین علماء کے نزدیک عربی زبان اُن سامی زبانوں میں سے ایک ہے جو فی الواقع ایک ہی خطہ زمین کی پیداوار رہی ہیں۔ تاہم آبادی کے پھیلاؤ اور وسائل کی قلت کے نتیجے میں جب سامی اقوام مختلف علاقوں کی طرف منتقل ہوئیں تو دوسری اقوام سے میل جول نے ان کی زبان کو متاثر کیا، جس کے نتیجے میں مختلف لہجے وجود میں آئے اور رفتہ رفتہ ہر لہجہ ایک مستقل زبان کی صورت اختیار کرتا گیا۔استاذ احمد حسن زیات کے مطابق ''قرونِ وسطیٰ میں سامی اقوام کی زبانوں کے باہمی تعلق کو سب سے پہلے بعض یہودی علما نے محسوس کیا، لیکن بعد ازاں یورپ کے مستشرقین نے مضبوط دلائل کے ذریعے سامی زبانوں کے اس لسانی رشتے کو ثابت کیا، جس کے بعد یہ ایک مسلمہ حقیقت بن گئی ہے''۔ اس میں کوئی شبہ نہیں ہے کہ مورخین نے سامی اقوام کی بعض دوسری زبانوں کو عربی زبان سے زیادہ قدیم قرار دینے کی بھی کوشش کی ہے، تاہم وہ اس حقیقت کو تسلیم کرتے ہیں کہ عربی زبان ان چند زبانوں میں شامل ہے جو نہایت قدیم ہونے کے باوجود اپنی اصل ساخت، فکری بالیدگی اور لسانی وقار کے ساتھ نزولِ قرآن سے قبل بھی پوری قوت کے ساتھ زندہ رہی۔ زمانہ جاہلیت کا شعر و ادب عربی زبان کی اس فکری پختگی اور لسانی توانائی کا واضح ثبوت ہے۔ تاہم اس حقیقت سے انکار کی گنجائش بھی نہیں ہے کہ عربی زبان کی حیرت انگیز بقا، اس کے لسانی وقار کا استحکام اور اس کی عالمگیریت کا سب سے بڑا سبب قرآنِ مجید کا نزول ہی ہے۔ قرآن مجید نے عربی زبان کو وہ ابدی تحفظ عطا کیا جو دنیا کی کسی دوسری قدیم زبان کو نصیب نہیں ہوا۔ چنانچہ آج کے روایتی علماء بھی اس حقیقت سے واقف ہیں کہ اس مقدس کتاب کی آمد سے قبل عرب قبائل کی بولیوں میں علاقائی لہجوں اور الفاظ کا اختلاف نمایاں تھا، لیکن جب قرآن لہجہ قریش میں نازل ہوا تو اس نے نہ صرف اس لہجے کو عربی زبان کا معیاری اور مستند قالب بنا دیا بلکہ اپنی فصاحت، بلاغت اور اعجازِ بیان سے زبان و بیان کا وہ معیار بھی متعین کر دیا جو رہتی دنیا تک قائم رہے گا۔ نزول قرآن کے بعد عربی زبان کو ملنے والے عالمی شان کے سامنے دوسری سامی زبانیں ٹک نہیں سکیں چنانچہ وہ یا تو معدوم ہو گئیں یا وقت کے ساتھ اپنی اصل شناخت اور ساخت کھو بیٹھیں۔ دوسری طرف نزول قرآن کے بعد اہل ایمان میں پیدا ہونے والے قرآن کی حفاظت کے جذبے نے عربی زبان کی صرفی و نحوی ساخت کو بڑی تبدیلیوں سے محفوظ رکھا اور اسے لسانی ارتقاء کے اُن منفی اثرات سے بھی بچا لیا جو اکثر زبانوں کے زوال کا سبب بنتے ہیں۔ مزید برآں، قرآن کو صحیح طور پر سمجھنے کی ضرورت نے مسلمانوں کو علمِ صرف، نحو اور بلاغت جیسے منظم لسانی علوم کی تدوین پر آمادہ کیا، جن کی باقاعدہ تشکیل نے عربی زبان کو ایک مضبوط اور سائنسی علمی ڈھانچا عطا کیا۔ یہی وجہ ہے کہ نزول قرآن کے بعد عربی زبان محض ایک علاقائی زبان نہیں رہی، بلکہ ایک عالمی زبان بن گئی، جو صدیوں تک مشرق و مغرب میں علم، فلسفہ، سائنس اور تہذیب کی بھی زبان بنی رہی۔ اہل علم کے مطابق عربی زبان کا یہ زندہ سفر تاریخی طور پر پانچ نمایاں ادوار پر محیط ہے: پہلا دور، دورِ جاہلیت ہے جو پانچویں صدی عیسوی کے وسط سے شروع ہو کر ۶۲۲ ء میں آغازِ اسلام پر ختم ہوتا ہے۔ دوسرا دور، صدرِ اسلام تا عہدِ بنو اُمیہ ہے، یہ دور آغازِ اسلام سے شروع ہو کر ۱۳۲ھ مطابق ۷۵۶ ء میں عباسی حکومت کے قیام پر ختم ہوتا ہے۔ تیسرا دور، دورِ عباسی ہے جو عباسیوں کی حکومت کے قیام سے شروع ہو کر ۶۵۶ھ مطابق ۱۲۵۸ ء میں سقوط بغداد پر ختم ہوتا ہے۔ چوتھا دور، دورِ ترکی ہے جس کی ابتداء سقوط بغداد سے ہوتی ہے اور انتہا ۱۲۲۰ھ مطابق۱۸۴۴ ء کی جدید انقلابی تحریک پر ہوتی ہے۔ پانچواں دور، دورِ جدید ہے جس کا آغاز اس وقت ہوا جب محمد علی پاشا مصر پر حاکم ہوئے اور اب تک جاری ہے۔ یہ تمام ادوار اس حقیقت کی گواہی دیتے ہیں کہ عربی زبان اپنی صوتی، صرفی اور نحوی خصوصیات کی بدولت ہی اس طویل تاریخی سفر کو بغیر انقطاع کے کامیابی کے ساتھ طے کر سکی ہے اور کم از کم ساڑھے پندرہ سو برس سے گفت وشنید کی زبان بنی ہوئی ہے ۔ اگر عربی زبان کے دوسری زبانوں پر پڑنے والے اثرات کا جائزہ لیا جائے تو یہ بات بہت وثوق کے ساتھ کہی جاسکتی ہے کہ عربی زبان نے مذہبی، علمی، تجارتی اور تہذیبی روابط کے ذریعے دنیا کی متعدد زبانوں کو بے انتہا متاثر کیا ہے۔ عربی زبان نے نہ صرف اردو اور فارسی کی لغوی و فکری ساخت میں بنیادی کردار ادا کیا ہے بلکہ اسپینی اور رابطے کی اہم افریقی زبان سواحلی کی تعمیر اور توسیع میں بھی نمایاں کردار ادا کیا ہے، اہل علم جانتے ہیں کہ سواحلی میں عربی کے اثرات اس قدر گہرے ہیں کہ اس کی لغت کا ایک بڑا حصہ عربی نژاد الفاظ پر مشتمل ہے۔ عربی ادب کا سرمایہ مختلف وجوہات کی بنیاد پر بے انتہا اہمیت کا حامل ہے، نہ صرف اس لیے کہ عربی زبان نے عہد قدیم میں دنیا کی تمام ترقی پسند اقوام کے علوم و فنون کو محفوظ کرلیا تھا، بلکہ آج بھی یہ دنیا کی جدید علمی تحقیقات اور ادبی تصانیف کو اپنے اندر جذب کرلینے میں کسی قسم کی کوتاہی نہیں کر رہی ہے۔ آرٹیفیشیل انٹیلیجنس اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے میدان میں بھی عربی زبان اپنی جگہ مضبوط بنا رہی ہے جہاں ترجمہ، لسانی تجزیہ ، اور علمی ڈیٹا کی ڈیجیٹل تدوین میں اس کا استعمال بڑھتا جارہا ہے یہی وجہ ہے کہ چند اہم زبانوں میں عربی زبان کو یہ مقام حاصل ہے کہ اس میں عہد قدیم اور عہد جدید کے تمام ضروری سرمائے موجود ہیں۔ چنانچہ آج اگر کوئی شخص دنیا کی تمام زبانوں میں سے ایک زبان سیکھ کر مختلف زبانوں اور مختلف مذاہب کے علوم و فنون سے واقفیت حاصل کرنے کا آرزو مند ہو تو شاید عربی زبان کی واقفیت ہی سے اس کی یہ آرزو پوری ہو سکتی ہے اسی لیے یورپی محققین اپنی تحقیق میں عربی زبان کو غیر معمولی اہمیت دیتے ہیں۔ عربی زبان کو دیگر زبانوں پر یہ انفرادی امتیاز بھی حاصل ہے کہ اسلام کے تمام بنیادی سرمایے، یعنی قرآن مجید، حدیث، فقہ اور تفسیر کا اہم علمی ذخیرہ، اسی ایک زبان میں محفوظ ہیں۔ اس مذہبی حیثیت کی بنا پر ہی یہ دنیا کے ہر خطے کے کروڑوں مسلمانوں کے لیے ایک ناگزیر زبان ہے۔ تاہم مذہب اسلام سے خصوصی ربط کے باوجود عربی زبان کو محض ایک مذہبی زبان سمجھنا صحیح نہیں ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ شروع سے ہی ایک تہذیبی، ادبی اور علمی زبان رہی ہے جس نے ایک طرف جہاں زمانہ جاہلیت میں لازوال شاعری کے نمونے پیش کئے وہیں دوسری طرف اموی ،عباسی اور ترکی دور میں ادب کے ساتھ ساتھ طب وسائینس اور فلسفے میں بے مثال کردار کے انمٹ نقوش چھوڑے ، اور دور جدید میں بھی علم و ادب اور فکروفن کی روشنی بکھیر رہی ہے ۔ نازک الملائکۃ، احمد شوقی، اور بدر شاکر السیاب جیسے عہد جدید کے شعراء کے اشعار اور نجیب محفوظ، طہ حسین اور حسین ہیکل جیسے نثرنگاروں کی نثریں اس حقیقت کی زندہ مثالیں ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ عربی زبان آج بھی دنیا کی اہم ترین اور بااثر زبانوں میں شامل ہے۔ یہ نہ صرف ڈیڑھ ارب سے زائد مسلمانوں کی مذہبی ضرورت ہے بلکہ تقریباً 24 ممالک کی دفتری زبان ہے اور اقوام متحدہ کے چھ دفتری زبانوں میں سے ایک ہے۔اسی لیے 18 دسمبر کو اقوام متحدہ کی طرف سے عالمی یوم عربی زبان (World Arabic Language Day) منایا جاتا ہے جو اس کے عالمگیر کردار کا ثبوت ہے۔ یہ سچائی ہے کہ دوسری زبانوں کی طرح عربی زبان میں بھی بعض فطری لسانی مشکلات پائی جاتی ہیں چنانچہ اس کا پیچیدہ صرفی و نحوی نظام، اعراب پر گہرا انحصار، اور قدیم الفاظ کی کثرت، غیر عرب طلبہ کے لیے سیکھنے میں دشواری کا سبب بنتی ہے۔ تاہم یہ تمام امور عربی زبان کی کمزوری نہیں بلکہ اس کے منظم اور مستحکم لسانی ڈھانچے کا طبعی نتیجہ ہیں، جن پر محنت کے رخ کو درست کرکے بہ خوبی قابو پایا جا سکتا ہے۔ لہذاعربی زبان کی اس غیر معمولی اہمیت کا تقاضہ ہے حکومتیں عربی زبان کے فروغ میں سنجیدہ کردار ادا کریں۔ خصوصاً ہندوستان جیسے ممالک جہاں عرب ممالک سے مضبوط ثقافتی اور اقتصادی تعلقات ہیں، وہاں عربی زبان کی ترویج نہایت اہم ہے۔ اس زبان کے ذریعے اربوں کی تعداد میں موجود عربی بولنے والے ا فرادتک ہندوستان کی صحیح تصویر، اس کی ثقافت، اور اس کے جمہوری اقدار کو بہتر طریقے سے پہنچایا جا سکتا ہے، جس سے باہمی خیر سگالی اور عالمی تعلقات مزید مضبوط ہوں گے ۔ساتھ ہی مسلمانوں کی خاص طور پر یہ ذمہ داری ہے کہ وہ عربی زبان کی افادیت کو سمجھیں اور اس زبان کو علم و فضل کے بند دروازے کھولنے کی کنجی سمجھتے ہوئے سیکھیں، اس سے ان کے لئے نہ صرف روزگار کے مواقع فراہم ہونگے بلکہ انہیں اپنے علمی اور دینی ورثے سے براہِ راست استفادہ کرکے ماضی سے جڑنے کا موقع بھی ملے گا یہ ایک ناقابل تردید حقیقت ہے کہ جو قومیں اپنے علمی اور ادبی ذخیرے سے محروم ہوجاتی ہیں وہ لازمی طور پر اپنے خصائص و امتیازات سے محروم ہوکرعقلی غلامی کا شکار ہوجاتی ہیں جو سیاسی غلامی سے زیادہ خطرناک ہے!