جمعرات، 1 اکتوبر، 2026
اردوहिन्दीEnglish
آواز ای بہار
آواز ای بہار
ہومای پیپرویڈیوزقومیسیاستکھیلتعلیمبہارقومیسیاستکھیلصحتتعلیممضامینعالمی خبریں
اہمقومیسیاستکھیلتعلیمبہارقومیسیاستکھیلصحتتعلیممضامینعالمی خبریں

آواز ای بہار

بہار کی آواز — اردو، ہندی اور انگریزی میں تازہ ترین خبریں

زمرے

  • مقامی
  • قومی
  • سیاست
  • کاروبار
  • ٹیکنالوجی
  • کھیل
  • صحت
  • تعلیم

فوری لنکس

  • ہوم
  • ای پیپر
  • ویڈیوز
  • دن کی تصویر
  • ہمارے بارے میں
  • رابطہ کریں
  • پرائیویسی پالیسی
  • شرائط و ضوابط

نیوز روم

  • ادارتی پالیسی
  • تصحیح و شکایات
  • اشتہارات
  • نیوز روم رابطہ

زبانیں

  • اردو (Urdu)
  • हिन्दी (Hindi)
  • English

ہمیں فالو کریں

Email: awazebihar@gmail.com

Phone: +91-9473486854

© 2026 Awaz E Bihar Publications. جملہ حقوق محفوظ ہیں

Designed and Developed byZeloiteZeloite
کیا بنگال کے مسلمان سیاسی بھول کرنے جا رہے ہیں؟
  1. ہوم
  2. مضامین
مضامین

کیا بنگال کے مسلمان سیاسی بھول کرنے جا رہے ہیں؟

Awaz E Bihar•13 دسمبر، 2025 کو 01:38 PM•0 ویوز•8 منٹ پڑھیں

ریاض فردوسی۔
9968012976
بہار کے اسمبلی انتخابات میں سیمانچل میں اویسی صاحب کی پارٹی کی شاندار جیت کے بعد مرشد آباد کے ہمایوں کبیر بھی اویسی صاحب کے نقش قدم پر چل پڑے ہیں۔وہ مذہبی مسائل کو اٹھا کر تمام مسلم ووٹ اپنے حق میں حاصل کرنا چاہتا ہے۔چنانچہ اس نے مذہبی کارڈ کھیلا اور اعلان کیا کہ وہ مرشد آباد میں بابری مسجد بنائیں گے۔وہ اچھی طرح جانتے تھے کہ ان‌ کے اس کارروائی کے لیے انہیں ترنمول پارٹی سے معطل کر دیا جائے گا اور انہیں ترنمول پارٹی سے معطل کر بھی دیا گیا۔وہ اسی کا انتظار کر رہا تھا۔اس کے بعد انہوں نے ایک نئی سیاسی جماعت بنانے کا اعلان کیا۔وہ مرشد آباد کے تمام مسلم باشندوں کو متحرک کرنے کی کوشش کریں گے اور انہیں مذہبی مسائل پر اپنے حق میں انہیں ووٹ دینے کے لیے راضی کریں گے تاکہ اویسی کی طرح وہ مسلم کمیونٹی کے لیڈر بن سکیں اور چند اسمبلی سیٹیں جیت سکیں۔ہمایون کبیر نے مرشدآباد میں جو بابری مسجد بنانے کا فیصلہ کیا وہ فیصلہ درست نہیں ہے۔وہ اگر مرشد آباد میں کسی نئی مسجد کا تعمیر کرنا چاہتے ہیں تو وہ کریں یہ اچھی بات ہے،یہ نیکی کا کام ہے لیکن اس مسجد کا نام بابری مسجد رکھنے کی کیا ضرورت ہے؟
مسجد کی سنگ بنیاد رکھنے کی تاریخ اس نے 6 دسمبر رکھا اور مسجد کا نام بابری مسجد رکھا۔جب سپریم کورٹ نے ایودھیا کے اندر ایک مناسب جگہ پر بابری مسجد کی تعمیر کے لیے اتر پردیش سنی سنٹرل وقف بورڈ کو 5 ایکڑ زمین دیا تو ہم نے وہاں مسجد کی تعمیر کے لیے سپریم کورٹ کے اس فیصلہ کو قبول نہیں کیا تو اب مرشدآبادکے مسلمان بابری مسجد کی تعمیر کے لیے وہاں کیسے تیار ہو گیے؟
ہمایوں کبیر کا یہ فیصلہ دو اور دو چار کے طرح واضح ہے کہ یہ اس نے اپنے سیاسی فائدہ کے لیے کیا۔بابری مسجد کے نام سے جو مسجد تھی وہ ایودھیا میں تھی اور وہ ‌ مسجد شہید کر دی گئی۔اس نام سے مرشد آباد میں جو مسجد بنے گی وہ بابری مسجد کا متبادل نہیں ہو سکتی ہے۔بابری مسجد اسی وقت بابری مسجد تھی جب تک وہ ایودھیا میں قائم تھی۔کسی تاریخی مسجد یا تاریخی عمارت کی حیثیت تاریخی اس وقت تک رہتی ہے جب تک وہ تاریخی عمارت یا مسجد اس تاریخی مقام پر قائم ہو جہاں وہ پہلے قائم تھی،لیکن جب اس تاریخی عمارت یا تاریخی مسجد کو اس کے اصل مقام سے ہٹا کر کسی دوسرے مقام پر قائم کرتے ہیں تو اس کی تاریخی حیثیت ختم ہو جاتی ہے۔دلی کے لال قلعہ کی حیثیت تاریخی اس وقت تک قائم ہے جب تک وہ لال قلعہ دلی میں واقع ہے۔آگرہ کا تاج محل کی حیثیت تاریخی اس وقت تک ہے جب تک تاج محل آگرہ میں قائم ہے۔اس لیے مرشد آباد میں بابری مسجد کے نام سے مسجد تعمیر کرنے سے وہ مسجد بابری مسجد کبھی نہیں کہلائے گی اور نہ ہی اسکی کویی تاریخی حیثیت حاصل ہوگی۔
اویسی صاحب کی پارٹی کی کامیابی کے بعد مسلم لیڈروں میں ایک نئی سیاسی سوچ نے جنم لیا اور وہ یہ ہے کہ گنجان مسلم آبادی والے علاقوں میں مسلمانوں کو ایک مسلم لیڈر کو اور مسلم پارٹی کو ووٹ کرنا چاہیے اور وہ کسی غیر مسلم لیڈر اور غیر مسلم سیاسی پارٹی کو ووٹ نہیں کرنا چاہیے چاہے وہ سیکولر ہو یا غیر سیکولر۔اس کی ایک تازہ مثال مرشد آباد میں دیکھنے کو مل رہی ہے جہاں ہمایوں کبیر نے اعلان کیا ہے کہ وہ ایک نئی سیاسی پارٹی شروع کریں گے اور آنے والے اسمبلی انتخابات میں ٹی ایم سی کے خلاف لڑیں گے۔ہمایوں کبیر نے خود اعلان کیا کہ وہ آسانی سے دو اسمبلی سیٹیں جیت سکتے ہیں ایک مرشد آباد کے ریجی نگر سے اور دوسرا مرشد آباد کے بیلڈانگا سے۔
ریجی نگر سے پیلڈانگا تک تیس کیلومیٹر کے دایرہ میں ہمایوں کبیر کا زبردست اثر اور رسوخ ہے۔حال ہی میں بابری مسجد کے سنگ بنیاد کی تقریب میں لاکھوں بنگالی مسلمانوں کو مسجد کی تعمیراتی کام میں تعاون کرتے ہوئے دیکھا گیا اور ایسا لگتا ہے کہ وہ بنگالی مسلمان ووٹروں کو ٹی ایم سی سے دور کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے،لیکن اگر ہمایوں کبیر اپنے سیاسی منصوبے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو اس سے بی جے پی پارٹی کے اقتدار میں آنے کی راہ ہموار ہو سکتی ہے اور یہ بنگال کے مسلمانوں کے لیے ایک مہلک قدم ہوگا۔مرشد آباد کے بنگالی مسلمان ان بہار کے عوام کے جیسی غلطی کرنے جا رہے ہیں جنہوں نے دس ہزار روپے لے کر بی جے پی کو ووٹ دیا اور بعد میں پارٹی کے وزیر داخلہ نے ان کے گھر گرانے کا حکم دیا اور اب وہ رو رہے ہیں اور پچھتا رہے ہیں لیکن ایک کہاوت ہے کہ اب پچھتائے سے کیا فائدہ جب چڑیا چگ گیی کھیت۔آج کے سیاسی مسلم رہنما ہماری قوم کو اسی راستے پر لے جا رہے ہیں جس راستے پر آزادی سے پہلے کے مسلمان محمد علی جناح کی راہ پر چلے تھے جس کا خمیازہ ہندوستان کا مسلمان آج تک بھگت رہا ہے۔
جناح نے برٹش راج سے مسلمانوں کے لیے Separate Electorate کی مانگ کی تھی جس کے مطابق مسلمان صرف مسلمان امیدوار کو ووٹ کریں گے۔آج کے مسلم سیاسی رہنما تقریباً ایسا ہی کام کر رہے ہیں۔ایسی ہی غلطی دوبارہ ہم کرنے جا رہے ہیں۔‌
ہم ہندوستان میں مسلمانوں کی ایک الگ سیاسی پارٹی بنا کر اور الیکشن میں ووٹ دےکر کبھی کامیاب نہیں ہو سکتے۔ہمیں قومی سلسلہ کے ساتھ چلنا ہی ہوگا۔
مرشد آباد میں اگر نئی مسجد تعمیر ہو جاتی ہے اور 2026ء میں ممتا کی حکومت برقرار رہتی ہے تو انشاءاللہ ممتا کی حکومت اس مسجد میں نمازیوں کو نماز پڑھنے سے نہیں روکے گی کیونکہ وہ سیکولر مزاج کی ہے اور مسلم دوست وزیر اعلی ہے لیکن اگر بی جے پی کی حکومت آتی ہے تواس مسجد کی حفاظت کی ذمہ داری مرشدآباد کے مسلمانوں پر ہوگی۔
آیندہ بنگال کے اسمبلی انتخابات میں اگر ترنمول چلی گئی اور بی جے پی آ گئی تو ہمارا گھر،مسجد،مدرسہ سلامت نہیں رہے گا۔جو دوسری ریاستوں میں مسلمانوں کے ساتھ ہو رہا ہے،اندیشہ ہے یہاں بھی مسلمانوں کے ساتھ ویسا ہی ہوگا۔لوگ آنکھیں کھول کر دیکھ لیں،
اتر پردیش،آسام اور مہاراشٹر میں کیا ہوا اور اب بہار میں کیا ہو رہا ہے۔اویسی صاحب حیدرآباد سے بیٹھ کر مرشدآباد میں ہو رہے ہیں،اس سیاسی تماشہ کو دیکھ رہےہوںگے اور سوچتے ہوں گے یہ کیا ہو رہا ہے۔ائندہ سال بنگال کے اسمبلی انتخابات میں مرشدآباد کے بعض مسلمانوں کا ووٹ دو حصوں میں تقسیم ہو جائے گا بعض مسلمان اویسی کو ووٹ کریں گے اور بعض مسلمان ہمایوں کبیر کو ووٹ کریں گے۔ہمایوں کبیر نے تو اویسی کے ساتھ سیاسی اتحاد کرنے کی بات کہی ہے اب یہ دیکھنا ہے کہ اویسی صاحب اس سیاسی اتحاد کے لیے راضی ہوتے ہیں یا نہیں؟
سیاسی اتحاد ہو یا نہ ہو ہر حال میں مسلمانوں کا ووٹ سیکولر پارٹی کے خلاف پڑنے سے سیاسی فائدہ بی جے پی کو ہی ہوگا۔یہ بات مسلمانوں کو سمجھ میں نہیں آ‌رہی ہے۔بنگال میں 33 سال لیفٹ فرنٹ اور تقریباً 10 سال ٹی ایم سی کی حکومت میں ‌مسلمان امن و امان سے رہتے چلے آرہے ہیں لیکن آج کے نوجوانوں کو معلوم نہیں کیا ہو گیا ہے کہ جن سیکولر پارٹیوں کے دوران حکومت میں ہم امن و امان سے تھے آج ان ہی سیکولر پارٹیوں کے خلاف ووٹ دینے کا مزاج بنا رہے ہیں۔یہ سراسر بیوقوفی ہے،ابھی کے لیے یہ اجتماعی خودکشی ہے۔کیا ہم چند ذلیل لوگوں کی یہ بت سچ کر دکھانا چاہتے ہیں کہ جہاں بھی مسلمان امن سے رہیں گے وہاں فتنہ پھیلائیں گے؟
مسلمانوں کو سکون و اطمینان سے رہنا نہیں آتا ہے؟
مسلمانوں کا مذہب انہیں بدامنی سکھاتا ہے؟
مسلمانوں کے نبی نے معاذ اللہ انہیں کویی اچھی چیز نہیں سکھایی ہے؟
آخر میں!ہمایوں کبیر نے مرشدآباد میں بابری مسجد کی سنگ بنیاد کی بات ایک جھوٹ پر کی ہے۔ہمایوں کبیر نے اعلان کیا تھا کہ سعودی عرب سے مولانا 6 دسمبر کو بابری مسجد کی سنگ بنیاد کی تقریب میں شرکت کریں گے لیکن بعد میں پتہ چلا کہ اس دن جو مولانا صاحب وہاں موجود تھے وہ سعودی عرب کے نہیں تھے بلکہ وہ مغربی بنگال کے مشرقی مدنا پور کے رہنے والے تھے۔مولانا صاحب نے انکشاف کیا کہ ان سے مرشد آباد سے تعلق رکھنے والے ان کے ساتھی مولانا قاری سفیان صاحب نے رابطہ کیا اور انہیں مرشد آباد کے بھرت پور میں ایک مسجد کے سنگ بنیاد کی تقریب میں شرکت کی دعوت دی اور وہ وہاں قرآن کی تلاوت کرنے والے تھے۔قاری سفیان صاحب سے بھرت پور کے ایک حافظ محمد یوسف صاحب نے رابطہ کیا تھا،لیکن مولانا صاحب کو نا مسجد کا نام بتایا گیا اور نہ ہی منتظم کا نام بتایا گیااور ناہی انہوں نے تحقیق کی ضرورت محسوس کی؟
بعد میں انہیں بتایا گیا کہ وہ بابری مسجد کے سنگ بنیاد کے پروگرام میں شرکت کرنے والے ہیں جس کا اہتمام ہمایوں کبیر نے کیا تھا۔جب وہ مرشد آباد پہنچے اور اسٹیج پر چڑھے تو مولانا صاحب کو محفل سے تعارف کرایا گیا کہ وہ سعودی عرب سے آئے ہیں۔یہ بات س کر مولانا صاحب‌ ہکا بکا رہ گئے۔مولانا صاحب نے یہ تمام باتیں فیس بک پر ایک وڈیو میں جاری کرکے بتایا۔


شیئر کریں:

More from مضامین

عبد الجلیل مستان
مضامین

عبد الجلیل مستان

28 ستمبر، 2026
آٹھ سال کے بعد اردو ڈائرکٹریٹ، پٹنہ کا بے مثال جشن اردو
مضامین

آٹھ سال کے بعد اردو ڈائرکٹریٹ، پٹنہ کا بے مثال جشن اردو

28 اگست، 2026
آزادی کے بعد آزادی کی تلاش،خواب ابھی باقی ہے
مضامین

آزادی کے بعد آزادی کی تلاش،خواب ابھی باقی ہے

21 اگست، 2026
سپریم کورٹ کا حکم، انتظامی ضوابط اور جدید معاشی تحفظ کا پیغام
مضامین

سپریم کورٹ کا حکم، انتظامی ضوابط اور جدید معاشی تحفظ کا پیغام

21 اگست، 2026
شوبھندو حکومت کے 100 دن
مضامین

شوبھندو حکومت کے 100 دن

20 اگست، 2026
​پولیس تشدد کے خلاف اہم فیصلہ
مضامین

​پولیس تشدد کے خلاف اہم فیصلہ

13 جولائی، 2026