آتم نربھر بھارت پہل میں کوریائی و ہندوستانی کمپنیاں اہم کردار ادا کریں گی : راج ناتھ سنگھ
Awaz E Bihar••18 ویوز•5 منٹ پڑھیں
ہندوستان اور جنوبی کوریا نے دفاعی تعلقات کو مضبوط بنانے اور اصولوں پر مبنی ہند-بحرالکاہل خطے کے تئیں اپنے عزم کا اعادہ کیا ہے۔ دونوں ممالک نے دفاعی سائبر، تربیت اور اقوامِ متحدہ کے امن مشن کے شعبوں میں تعاون کے معاہدوں پر بھی دستخط کیے ہیں۔ جنوبی کوریا کے دو روزہ دورے پر گئے وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے بدھ کو سیول میں کوریا کے قومی وزیر دفاع آن گیو-بیک کے ساتھ جامع دوطرفہ بات چیت کی۔ دونوں وزراء نے دفاعی تعاون کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا اور صنعت، پیداوار، سمندری سکیورٹی، ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز، فوجی تبادلوں، لاجسٹکس اور علاقائی سکیورٹی جیسے شعبوں میں تعاون کو مزید بڑھانے کے طریقوں پر تبادلہ خیال کیا۔ وزارتِ دفاع نے بتایا کہ دونوں فریقوں نے ہندوستان کی 'ایکٹ ایسٹ پالیسی' اور کوریا کے علاقائی اسٹریٹجک نقطہ نظر کے درمیان بڑھتے ہوئے تال میل کو تسلیم کرتے ہوئے ایک آزاد، کھلے، جامع اور اصولوں پر مبنی ہند-بحرالکاہل خطے کے مشترکہ مقاصد کے مطابق دفاعی تعلقات کو مضبوط کرنے کے اپنے عزم کا اعادہ کیا۔ دفاعی تعاون کے اہم شعبوں میں مفاہمت ناموں پر دستخط کیے گئے، جو دوطرفہ شراکت داری کے بڑھتے ہوئے دائرے اور گہرائی کو ظاہر کرتے ہیں۔ دفاعی سائبر کے شعبے میں تعاون کو فروغ دینے، ہندوستان کے نیشنل ڈیفنس کالج اور کوریا نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی کے درمیان تربیت، اور اقوامِ متحدہ کی امن فوج کے تعاون پر معاہدوں کا تبادلہ کیا گیا، جس سے شراکت داری مضبوط اور کثیر جہتی بن گئی۔ وزیر دفاع نے کوریا کے ڈیفنس ایکوزیشن پروگرام ایڈمنسٹریشن کے وزیر لی یونگ-چول سے بھی ملاقات کی، اور دونوں رہنماؤں نے مل کر ترقی، پیداوار اور برآمدات کی راہیں ہموار کرنے کی کوششوں پر اتفاق کیا۔ دونوں ممالک کے 'انوویشن ایکو سسٹم کو ایک ساتھ لانے کے لیے ہندوستان-کوریا ڈیفنس انوویشن ایکسیلیریٹر ایکو سسٹم کی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھانے کے روڈ میپ پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ بعد میں مسٹر سنگھ نے ہندوستان-کوریا ڈیفنس انڈسٹری بزنس راؤنڈ ٹیبل کی صدارت کی، جس میں دونوں ممالک کے سینئر سرکاری حکام اور دفاعی صنعت کے اہم نمائندے ایک ساتھ آئے۔ اس بات چیت نے دفاعی مینوفیکچرنگ، مشترکہ ترقی، مشترکہ پیداوار اور سپلائی چین کی شراکت داری میں نئے مواقع تلاش کرنے کے لیے ایک اہم پلیٹ فارم فراہم کیا۔ تجارتی دنیا کی اہم شخصیات سے خطاب کرتے ہوئے وزیر دفاع نے ہندوستان کے بڑھتے ہوئے دفاعی صنعتی نظام اور حکومت کے اقدامات کے تحت دستیاب مواقع پر روشنی ڈالی، جس کا مقصد مقامی دفاعی مینوفیکچرنگ اور عالمی شراکت داری کو فروغ دینا ہے۔ انہوں نے کوریائی دفاعی کمپنیوں کو ہندوستانی صنعت کے ساتھ رابطے مضبوط کرنے اور طویل مدت تک باہمی طور پر فائدہ مند تعاون میں اپنا حصہ ڈالنے کی دعوت دی۔ انہوں نے 'آتم نربھر بھارت پہل میں مل کر اہم کردار ادا کرنے کے لیے کوریائی اور ہندوستانی کمپنیوں کے جوش و خروش کی تعریف کی۔ مسٹر سنگھ نے کہا، "کمرشل سیکٹر میں ہندوستان-کوریا صنعتی تعاون کی کامیابی دونوں ممالک کے درمیان طویل مدتی اور قابلِ اعتماد شراکت داری کی عظیم صلاحیت کو ظاہر کرتی ہے۔ اب اس کامیاب ماڈل کو ڈیفنس سیکٹر میں بھی بڑھانے کا وقت آ گیا ہے، جہاں ٹیکنالوجی، انوویشن، مینوفیکچرنگ کی صلاحیت اور اسٹریٹجک بھروسہ تیزی سے آپس میں جڑ رہے ہیں۔ کوریا کی ٹیکنالوجیکل مہارت، ہندوستان کے پیمانے، ٹیلنٹ، مینوفیکچرنگ ایکو سسٹم اور انوویشن کی صلاحیتوں کے ساتھ مل کر تعاون کے لیے ایک مضبوط بنیاد بناتی ہے۔ ساتھ مل کر، ہمارے دونوں ممالک مستقبل کے لیے ایڈوانسڈ ٹیکنالوجی اور ڈیفنس سسٹم کو مشترکہ طور پر تیار اور پروڈیوس کر سکتے ہیں۔ ٹیکنالوجیکل طور پر مضبوط ممالک کے درمیان قابلِ اعتماد شراکت داری کی بہت زیادہ اسٹریٹجک اہمیت ہے۔ ہندوستان اور جنوبی کوریا اس بدلتے ہوئے عالمی ماحول میں مل کر کام کرنے کے لیے ایک خاص پوزیشن میں ہیں۔" مسٹر سنگھ نے زور دے کر کہا کہ دفاعی مینوفیکچرنگ اب صرف روایتی پلیٹ فارمز اور آلات تک ہی محدود نہیں ہے، کیونکہ ماڈرن ڈیفنس ایکو سسٹم ایڈوانسڈ الیکٹرانکس، آرٹیفیشل انٹیلیجنس (مصنوعی ذہانت)، آٹونومس سسٹم، سائبر ٹیکنالوجی، سینسر، سیمی کنڈکٹر، کوانٹم ٹیکنالوجی، ایڈوانسڈ مٹیریل اور اسپیس بیسڈ صلاحیتوں سے چلتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ڈیفنس سیکٹر کا مستقبل تیزی سے نئے تجربات اور کئی شعبوں میں ٹیکنالوجی کو یکجا کرنے کی صلاحیت پر منحصر ہوگا۔ یہی وہ شعبہ ہے جہاں ہندوستان اور کوریا کے پاس تعاون کے بہت زیادہ امکانات ہیں۔ مسٹر سنگھ نے کہا، "ہندوستان کے پاس ایک شاندار اختراعی ماحولیاتی نظام ہے جس میں اسٹارٹ اپس، ایم ایس ایم ایز ، پرائیویٹ انڈسٹری، تعلیمی ادارے ، ریسرچ انسٹی ٹیوشنز اور پبلک سیکٹر انٹرپرائزز شامل ہیں۔ نوجوان ہندوستانی کاروباری (انٹرپرینیورز) بغیر پائلٹ کے سسٹمز، اے آئی اینیبلڈ پلیٹ فارمز، سائبر سکیورٹی، ایڈوانسڈ کمیونیکیشن اور ڈیفنس سافٹ ویئر سسٹمز سمیت ایڈوانسڈ ٹیکنالوجی ڈومین میں تیزی سے اپنا تعاون دے رہے ہیں۔ ہندوستان-کوریا دفاعی تعاون کا مستقبل انوویشن لیڈ (جدت پر مبنی) تعاون میں ہے۔" اس تقریب کے دوران، ایل اینڈ ٹی انڈیا اور ہانوا کمپنی لمیٹڈ کے درمیان دو معاہدوں پر بھی دستخط کیے گئے، جو ہندوستان-کوریا دفاعی جدت اور ٹیکنالوجی کی شراکت داری کے لیے ایک اچھے مستقبل کا اشارہ دیتے ہیں۔ ان معاہدوں سے دونوں ممالک کی دفاعی صنعتوں کے درمیان تعاون بڑھنے، ٹیکنالوجی کے اشتراک اور صلاحیت سازی کو فروغ ملنے کی امید ہے۔