جمعرات، 1 اکتوبر، 2026
اردوहिन्दीEnglish
آواز ای بہار
آواز ای بہار
ہومای پیپرویڈیوزقومیسیاستکھیلتعلیمبہارقومیسیاستکھیلصحتتعلیممضامینعالمی خبریں
اہمقومیسیاستکھیلتعلیمبہارقومیسیاستکھیلصحتتعلیممضامینعالمی خبریں

آواز ای بہار

بہار کی آواز — اردو، ہندی اور انگریزی میں تازہ ترین خبریں

زمرے

  • مقامی
  • قومی
  • سیاست
  • کاروبار
  • ٹیکنالوجی
  • کھیل
  • صحت
  • تعلیم

فوری لنکس

  • ہوم
  • ای پیپر
  • ویڈیوز
  • دن کی تصویر
  • ہمارے بارے میں
  • رابطہ کریں
  • پرائیویسی پالیسی
  • شرائط و ضوابط

نیوز روم

  • ادارتی پالیسی
  • تصحیح و شکایات
  • اشتہارات
  • نیوز روم رابطہ

زبانیں

  • اردو (Urdu)
  • हिन्दी (Hindi)
  • English

ہمیں فالو کریں

Email: awazebihar@gmail.com

Phone: +91-9473486854

© 2026 Awaz E Bihar Publications. جملہ حقوق محفوظ ہیں

Designed and Developed byZeloiteZeloite
بابری مسجد جو دہشت گردوں کی نذر چڑھ گئی
  1. ہوم
  2. مضامین
مضامین

بابری مسجد جو دہشت گردوں کی نذر چڑھ گئی

Awaz E Bihar•5 دسمبر، 2025 کو 01:29 PM•1 ویوز•6 منٹ پڑھیں

ڈاکٹر سید فرحان غنی
بابری مسجد کی بنیاد 1528 میں رکھی گئی۔ یہ مسجد مغل بادشاہ بابر کے حکم پر تعمیر ہوئی اور اس کا مقصد مسلمانوں کو عبادت کے لئے ایک جگہ فراہم کرنا تھا۔ کچھ لوگوں کا دعویٰ ہے کہ بابری مسجد کی تعمیر ایک ہندو مندر کے اوپر کی گئی تھی، جو رام چندر کی جائے پیدائش (رام جنم بھومی) پر واقع تھا، تاہم اس دعوے کا کوئی مستند تاریخی ثبوت نہیں مل سکا۔بابری مسجد کا تنازعہ اس وقت شدّت اختیار کر گیا ج 19 ویں صدی کے اواخر میں ہندو انتہا پسندوں نے یہ دعویٰ کرنا شروع کیا کہ مسجد کا مقام رام کی جائے پیدائش ہے اور اس مقام پر ایک مندر تھا جسے مغل حکمرانوں نے تباہ کردیا تھا۔ اس دعوے کے بعد مختلف گروپوں کے درمیان مذہبی اور سیاسی کشمکش بڑھتی گئی۔
1949 میں مسجد کے اندر اک تنازعہ نے جنم لیا ، جب کچھ ہندو مذہبی رہنمائوں نے دعویٰ کیا کہ وہاں رام کی مورتی موجود ہے۔اس پرمقامی انتظامیہ نے مسجد کے دروازے بند کردیے۔ 1986 میں بابری مسجد کے دروازے دوبارہ کھولے گئے اور ہندوئوں کو عبادت کی اجازت دی گئی، جس کے بعد اس تنازعے میں شدت آئی۔
6دسمبر 1992 کو ایک بڑی تعداد میں ہندو انتہا پسندوں نے ایودھیا پہنچ کر بابری مسجد کو مسمار کردیا۔ اس عمل سے ملک کو پڑے پیمانے پر احتجاج اور بدامنی کا سامنا کرنا پڑا۔ہزاروں افراد اس ہنگامے میں شریک ہوئے اور مسجد کو ملبے کا ڈھیر بنا دیا۔ اس واقع کے بعد پورے ہندوستان میں فسادات پھوٹ پڑے، جس میں سینکڑوں افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے اور ہزاروں افراد زخمی ہوئے۔بابری مسجد کا معاملہ ہندوستان کی تاریخ میں ایک سنگین اور حساس باب ہے، جو مذہبی، سماجی اور سیاسی اعتبار سے بے شمار پیچیدگیوں کا حامل ہے۔ یہ مسجد ہندوستان کی ریاست اتر پردیش کے شہر اجودھیا میں واقع تھی ۔بابری مسجد کے حوالے سے ایک طویل عرصے تک تنازعہ رہا جو بالآخر 1992 میں ہندو دہشت گردوں کی نذر چڑھ گئی۔اس طرح ہندو دہشت گردوں نے اس تاریخی مسجد کو شہید کردیا۔
بابری مسجد کے لئے قانونی جنگ لڑی گئی جو کئی دہائیوں تک جاری رہی۔ 2010 میں الہٰ آباد ہائی کورٹ نے فیصلہ سنایا کہ مسجد کی زمین کو تین حصّوں میں تقسیم کیا جائے، جس میں ایک حصّہ مسلمانوں کو، ایک حصّہ ہندوئوں کو اور ایک حصہ نرموہی آچاریہ کے حوالے کیا جائے، تاہم مسلمانوں نے اس فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل کی۔ سپریم کورٹ نے 2019 میں فیصلہ سنایا اور کہا کہ بابری مسجد کی زمین ہندوئوں کو دی جائے اور مسلمانوں کو متبادل زمین فراہم کی جائے۔سپریم کورٹ کا یہ کہنا کہ بابری مسجد کو غیر قانونی طریقے سے توڑ ا گیا اور مندرکو توڑ کر مسجد نہیں بنائی گئی تھی اس کے باوجود وہاں پر مندر تعمیر کرنے کی ہدایت دینا سمجھ سے بالا تر ہے۔
بابری مسجد کے آڑ میں ہندوقوم پرست جماعتوں خصوصاً بی جے پی اور سنگھ پریوار نے رام مندر تحریک کے ذریعے عوامی سطح پر مذہبی جذبات کو سیاسی مقاصد کے ساتھ جوڑ دیا۔ یہ تحریک پورے ہندوستان میں جلسوں، ریلیوں اور یاترائوں کے ذریعے پھیلائی گئی۔ رام رتھ یاترا کی قیادت ایل کے اڈوانی نے کی تھی، جو آج گمنامی کی زندگی گزار رہے ہیں۔ اس وقت اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ کلیان سنگھ کا کردار انتہائی اہم تھا۔ کلیان سنگھ نے سپریم کورٹ کو تحریری یقین دہانی کرائی تھی کہ بابری مسجد کو نقصان نہیں پہنچنے دیا جائے گا۔ کارسیوکوں کو حد سے بڑھنے نہیں دیا جائے گا۔ ریاست میں امن و امان برقرار رہے گا ۔ لیکن ایسا کچھ نہیں ہوا۔کلیان سنگھ نے جان بوجھ کر انتظامیہ کو اپنی ذمہ داری سے روکا۔ چنانچہ مظاہرین کو روکنے کے لئے مناسب اقدامات نہیں کئے گئے۔تقریباً ڈیڑھ لاکھ کارسیوکوں کے ذریعہ حفاظتی حصار کو توڑتے ہوئے بابری مسجد کو منہدم کردیا گا۔ آزادی کے بعد پہلے دہشت گردانہ حملے میں گاندھی جی کا قتل ہوا اور دوسرے دہشت گردانہ حملے میں بابری مسجد شہید کی گئی ۔ لاکھوں کارسیوک ایودھیا میں جمع ہوئے، انتظامیہ بے بس رہی اور چند گھنٹوں میںمسجد شہید کردی گئی۔ اس طرح ہم کہہ سکتے ہیں کہ یہ واقعہ صرف مذہبی نہیں بلکہ انتہائی منظم سیاسی مؤمنٹ کا نتیجہ تھا۔ جس کی وجہ سے فرقہ وارانہ سیاست مضبوط ہوئی۔ نفرتوں میں اضافہ ہوا۔ ووٹ بینک کی بنیادوں میں تبدیلی آئی۔ مذہب اور سیاست کا ملاپ زیادہ گہرا ہو گیا۔ اس منظم سیاسی مؤمنٹ نے لاکھوں لوگوں کو ایک جذباتی مذہبی مہم کے ذریعے متحرک کیا۔ اس واقعات نے دونوں برادریوں یں عدم اعتماد بڑھایا اور مشترکہ سماجی ہم آہنگی متاثر ہوئی۔ اقلیتوں کے عدم تحفظ کے احساس میں اضافہ ہوا۔ جب سے بی جے پی کی سرکار آئی ہے تب سے مسلمانوں پر ظلم بڑھے ہیں۔ حکومت کا مقصد بھی یہی ہے کہ ہندو مسلمان سے نفرت کریں اکثریتی طبقوں کے دماغ میں مسلمانوں کے خلاف زہر گھولا جارہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہندو معاشرے میں شدت پسندی کے عناصر اقلیتوں کے خلاف نفرت انگیزی کو ہوا دیتے ہیں جس سے ان کی سلامتی اور آزادی متاثر ہوتی ہے۔ اب تو سیاسی سطح پر بھی اقلیتوں کی نمائندگی کم ہوتی جا رہی ہے، جو انتہائی خطرناک ہے۔ اگرچہ آئین اور قوانین مذہبی آزاد ی کی ضمانت دیتے ہیں لیکن عملی زندگی میں ایسا کچھ ہوتا ہوا نظر نہیں آرہا ہے۔ فرقہ پرست قوتیں اتنی مضبوط ہوگئی ہیں کہ وہ ملک کے سیکولرزم کا گلا گھونٹ رہی ہیں۔ اب تو مسلمان یہ سوچنے پر مجبور ہورہے ہیں کہ انہیں دوئم درجے کا شہری بنایا جارہا ہے۔کیونکہ انہیں ترقی کے یکساں مواقع سے بھی محروم کیا جارہا ہے۔
بابری مسجد کا تنازعہ نہ صرف مذہبی اور ثقافتی سطح پر ایک اہم مسئلہ تھا بلکہ یہ ہندوستان کے سماجی تانے بانے پر بھی گہرے اثرات مرتب کرتا تھا۔ اس تنازعے نے ہندوستان میں فرقہ واریت کو بڑھا وادیا اور قوم کو کئی دہائیوں تک تقسیم کیا۔ ان فسادات کے نتیجے میں معاشرتی ہم آہنگی کو شدید نقصان پہنچا اور ملک میں بے شمار جانیں ضائع ہوئیں۔ بابری مسجد کا تنازعہ ایک سنگین مثال ہے کہ کس طرح مذہبی عقائد اور سیاست کے امتزاج سے سماجی تنائو پیدا ہو سکتا ہے۔ اس سے ہمیں یہ سیکھنے کو ملتا ہے کہ ملک کے اندر مذہبی برداشت اور ہم آہنگی کو فروغ دینا کتنا ضروری ہے۔ اس واقعہ نے یہ بھی واضح کیا کہ تاریخ کے تنازعات کا حل صرف عدالتوں اور قانون کے ذریعے نہیں کیا جا سکتا بلکہ عوامی سطح پر ہم آہنگی اور سمجھوتے کی ضرورت ہوتی ہے۔


شیئر کریں:

More from مضامین

عبد الجلیل مستان
مضامین

عبد الجلیل مستان

28 ستمبر، 2026
آٹھ سال کے بعد اردو ڈائرکٹریٹ، پٹنہ کا بے مثال جشن اردو
مضامین

آٹھ سال کے بعد اردو ڈائرکٹریٹ، پٹنہ کا بے مثال جشن اردو

28 اگست، 2026
آزادی کے بعد آزادی کی تلاش،خواب ابھی باقی ہے
مضامین

آزادی کے بعد آزادی کی تلاش،خواب ابھی باقی ہے

21 اگست، 2026
سپریم کورٹ کا حکم، انتظامی ضوابط اور جدید معاشی تحفظ کا پیغام
مضامین

سپریم کورٹ کا حکم، انتظامی ضوابط اور جدید معاشی تحفظ کا پیغام

21 اگست، 2026
شوبھندو حکومت کے 100 دن
مضامین

شوبھندو حکومت کے 100 دن

20 اگست، 2026
​پولیس تشدد کے خلاف اہم فیصلہ
مضامین

​پولیس تشدد کے خلاف اہم فیصلہ

13 جولائی، 2026