بنگلورو-ممبئی وندے بھارت سلیپر سروس جلد شروع ہوگی: اشونی ویشنو
Awaz E Bihar••0 ویوز•4 منٹ پڑھیں
ریلوے وزیر اشونی ویشنو نے کہا ہے کہ بنگلورو اور ممبئی کے درمیان وندے بھارت سلیپر سروس جلد شروع کی جائے گی۔ انہوں نے اتوار کو ورچوئل طریقے سے بنگلورو اور ممبئی کے درمیان چلنے والی ایکسپریس ٹرین کو ہری جھنڈی دکھا کر روانہ کیا۔ اشونی ویشنو نے ٹرین نمبر 16553/54 سر موکش گنڈم وشویشوریا ٹرمینل (ایس ایم وی ٹی) بنگلورو - لوک مانیہ تلک ٹرمینس ایکسپریس کو روانہ کرنے کے بعد کہا کہ یہ کرناٹک اور مہاراشٹر کے درمیان ریلوے رابطے کو مضبوط بنانے کی سمت میں ایک بڑا قدم ہے۔ انہوں نے کہا کہ جنوبی اور شمالی کرناٹک کی طویل عرصے سے زیر التوا مانگیں اب پوری کی جا رہی ہیں، اور اسی سلسلے میں بنگلورو اور ممبئی کے درمیان وندے بھارت سلیپر سروس جلد شروع کی جائے گی۔ انہوں نے بنیادی ڈھانچے کی ترقی پر زور دیتے ہوئے کہا کہ حالیہ برسوں میں ریلوے کے بجٹ میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، جس کے باعث پورے کرناٹک میں منصوبوں کو تیزی سے مکمل کیا جا رہا ہے۔ امرت بھارت اسٹیشن یوجنا کے تحت ریاست کے 61 اسٹیشنوں کی 2,160 کروڑ روپے کی لاگت سے ازسرِ نو تعمیر کی جا رہی ہے، جن میں سے نو اسٹیشن مکمل ہو چکے ہیں۔ بنگلورو کینٹونمنٹ اسٹیشن کی 485 کروڑ روپے جبکہ یشونت پور ریلوے اسٹیشن کی 367 کروڑ روپے کی لاگت سے تعمیرِ نو کی جا رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ 2014 سے اب تک کرناٹک میں تقریباً 1,750 کلومیٹر نئی ریلوے لائنیں بچھائی گئی ہیں۔ اس کے علاوہ حسن-منگلورو سیکشن میں بجلی کاری کا مشکل کام مکمل ہو چکا ہے اور اس وقت اس کا تجرباتی مرحلہ جاری ہے۔ ریلوے وزیر نے بنگلورو مضافاتی ریلوے منصوبے کے بارے میں کہا کہ چاروں کوریڈورز پر تیزی سے کام ہو رہا ہے۔ بایاپن ہلی-چکابناوارا اور ہیلالگے-راجنکنٹے کوریڈور کے لیے زمین کے حصول کا کام مکمل ہو چکا ہے اور اسٹیشنوں پر تعمیراتی کام جاری ہے۔ کے ایس آر بنگلورو-دیونہلی روٹ کو ریاستی حکومت اور ریلوے نے مشترکہ طور پر منظوری دے دی ہے اور اس کا جیو ٹیکنیکل سروے مکمل ہو چکا ہے۔ کینگیری-وائٹ فیلڈ روٹ کو حال ہی میں منظوری ملی ہے اور جلد اس کا سروے شروع ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ یہ مضافاتی ریلوے نیٹ ورک ہوائی اڈے، الیکٹرانک سٹی، مراٹھاہلی اور ہیبل جیسے اہم مراکز کو آپس میں جوڑے گا۔ اشونی ویشنو نے بتایا کہ اس وقت کرناٹک میں وندے بھارت کی 12 جوڑی ٹرینیں چل رہی ہیں۔ بنگلورو-منگلورو روٹ پر تجرباتی کام جاری ہے، جس سے جلد ہی ماڈگاؤں تک ساحلی رابطہ مزید بہتر ہوگا۔ انہوں نے مزید کہا کہ بنگلورو کو حیدرآباد اور چنئی سے جوڑنے والے بلٹ ٹرین کوریڈور کو بھی منظوری دی جا چکی ہے۔ ممبئی، بنگلورو اور دیگر بڑے شہروں کو جوڑنے والے اس نیٹ ورک کے مستقبل میں 7,000 کلومیٹر تک پھیلنے کی توقع ہے۔ اس موقع پر ریلوے کے وزیر مملکت وی سومنا نے اشونی ویشنو کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ اس سے مصروف ترین روٹس میں سے ایک پر مسافروں کو بڑا فائدہ ہوگا اور کرناٹک کی ترقی کو مزید فروغ ملے گا۔ انہوں نے بتایا کہ کرناٹک میں اس وقت وندے بھارت کی 12 جوڑی ٹرینیں چل رہی ہیں، جو 14 اضلاع کو جوڑتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تھانی سندرا میں 270 کروڑ روپے کی لاگت سے وندے بھارت سلیپر مرمت ڈپو قائم کیا جائے گا، جبکہ ایس ایم وی ٹی بنگلورو میں 52.73 کروڑ روپے کی لاگت سے چیئر کار مرمت مرکز بنایا جائے گا۔ ریلوے صلاحیت بڑھانے کے لیے بایاپن ہلی-ہوسور (1,116 کروڑ روپے)، بیٹاہلسورو-راجنکنٹے (248 کروڑ روپے) اور بنگلورو کے اطراف چار ریلوے لائنوں کے منصوبے (1,347 کروڑ روپے) پر کام جاری ہے۔ وی سومنا نے بتایا کہ یشونت پور، کے ایس آر بنگلورو، لوٹے گوللاہلی، بایاپن ہلی، پینوکونڈا، میسورو اور جولارپیٹائی جیسے اہم حصوں میں مجموعی طور پر 6,396 کروڑ روپے کی لاگت سے خودکار سگنلنگ کا کام ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کرناٹک کو ریلوے بجٹ میں ریکارڈ 7,748 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔ ریاست میں 2014 سے اب تک تقریباً 3,840 کلومیٹر ریلوے لائنیں تعمیر اور 3,742 کلومیٹر بجلی کاری کی جا چکی ہے، جس سے ریاست سو فیصد بجلی کاری کے قریب پہنچ گئی ہے۔ اس موقع پر پی سی موہن، لہر سنگھ سیرویا اور تیجسوی سوریا بھی ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے پروگرام میں شریک ہوئے۔