زرعی تعلیم حاصل کرنے والے نوجوانوں کو زرعی شعبے سے جوڑنے کے لیے بہار حکومت ترجیحی بنیادوں پر کام کر رہی ہے: وجے سنہا
Awaz E Bihar••31 ویوز•2 منٹ پڑھیں
پٹنہ، 18 اگست (اے بی این) وزیر زراعت وجے کمار سنہا نے دہلی میں منعقدہ انڈین کونسل آف ایگریکلچرل ریسرچ (آئی سی اے آر) کی 97ویں سالانہ جنرل میٹنگ میں کہا کہ بہار حکومت زرعی تعلیم حاصل کرنے والے نوجوانوں کو زرعی شعبے میں کاروباری سرگرمیوں سے جوڑنے کے لیے ترجیحی بنیادوں پر کام کر رہی ہے اور اس عمل میں تیزی لانے کے لیے مرکزی حکومت کے تعاون کی ضرورت ہے۔ بہار حکومت کے محکمہ زراعت کی جانب سے جاری اطلاع کے مطابق مسٹر سنہا نے آج نئی دہلی میں منعقدہ اجلاس میں مرکزی وزیر زراعت و کسان بہبود شیوراج سنگھ چوہان اور مختلف ریاستوں کے وزرائے زراعت کے ساتھ شرکت کی۔ انہوں نے زرعی تحقیق، جدید ٹیکنالوجی، قدرتی کاشت کاری، بیجوں کی پیداوار، کسانوں کی آمدنی میں اضافہ اور زرعی شعبے میں نوجوانوں کی شمولیت سمیت بہار سے متعلق اہم امور پر اپنے خیالات پیش کیے۔ وزیر زراعت مسٹر سنہا نے اجلاس میں بہار کے زرعی حالات اور کسانوں کی ضروریات کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ ریاست کی زرعی صلاحیت کو جدید ٹیکنالوجی، سائنسی تحقیق، زرعی پیداوار کی پروسیسنگ اور زرعی برآمدات سے جوڑ کر کسانوں کے لیے روزگار اور آمدنی کے نئے مواقع پیدا کیے جا رہے ہیں۔ بہار میں کم بارش کے باوجود 93 فی صد سے زیادہ دھان کی روپائی کا کام مکمل ہوچکا ہے اور مقررہ ہدف حاصل کرنے کی سمت تیزی سے پیش رفت جاری ہے۔ مسٹر سنہا نے خاص طور پر مکھانا کی بہتر اقسام تیار کرنے، سائنسی پیداواری تکنیک، زرعی مشین کاری، ویلیو ایڈیشن اور برآمداتی صلاحیت میں اضافے کے لیے آئی سی اے آر کی سطح پر خصوصی تحقیق کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ بہار کی مخصوص زرعی پیداوار کو عالمی منڈی سے جوڑنے کے لیے تحقیقی اداروں، مرکزی اور ریاستی حکومتوں کی مشترکہ کوششیں ضروری ہیں۔ وزیر زراعت نے بہار میں سیلاب اور خشک سالی جیسی قدرتی مشکلات کو مدنظر رکھتے ہوئے موسمی حالات کے مطابق کم مدت میں تیار ہونے والی فصلوں کی اقسام تیار کرنے پر بھی خصوصی زور دیا۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے ڈیجیٹل زراعت کی تکنیکوں کو چھوٹے اور معمولی درجے کے کسانوں تک پہنچانے اور نوجوانوں و خواتین کسانوں کو جدید زرعی ٹیکنالوجی سے جوڑنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔