بی جے پی عدالتوں کے ذریعے سیاسی لڑائیاں لڑتی ہے: عمر عبد اللہ
Awaz E Bihar••3 ویوز•3 منٹ پڑھیں
جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے پیر کو بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) پر الزام لگایا ہے کہ وہ سیاسی لڑائی سیاسی طریقے سے لڑنے کے بجائے عدالتوں کے ذریعے لڑنا پسند کرتی ہے۔ مسٹر عبداللہ نے بی جے پی کی طرف سے بھیجے گئے قانونی نوٹس کا جواب دیا۔ بی جے پی نے یہ نوٹس نیشنل کانفرنس کے ایم ایل اے کو پیسے اور وزیر کے عہدے کا لالچ دے کر بی جے پی میں شامل کرنے کی کوشش کے الزام پر مسٹر عبداللہ کو بھیجا تھا۔ مسٹر عمر نے کہا کہ یہ نوٹس ان کے لیے اعزاز کی بات ہے۔ انہوں نے کہا کہ انہیں قانونی نوٹس کی صرف الیکٹرانک کاپی ملی ہے۔ انہوں نے اسے بی جے پی کی طرف سے آیا محبت نامہ (پریم پتر) بتایا۔ سرینگر میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا، "میں اسے بہت بڑا اعزاز مانتا ہوں کیونکہ جموں و کشمیر میں میں اکیلا ایسا سیاست داں ہوں جسے بی جے پی سے ایسا 'لو لیٹر' ملا ہے۔ میں اسے عزت کی بات مانتا ہوں کیونکہ ظاہر ہے کہ میں ایک ایسی سیاسی طاقت ہوں جسے وہ نظر انداز نہیں کر سکتے۔" وزیر اعلیٰ نے الزام لگایا کہ بی جے پی عوامی بحث کے ذریعے جواب دینے کے بجائے سیاسی معاملے کو قانونی تنازع میں بدلنے کی کوشش کر رہی ہے۔ مسٹر عمر نے کہا، "مجھے لگتا ہے کہ یہ بی جے پی کے لڑنے کے طریقے کو دکھاتا ہے۔ وہ سیاسی لڑائیاں لڑتے ہیں اور عدالتوں کی آڑ لیتے ہیں۔ میں بھی اسمبلی کی آڑ لے کر یہی بیان دے سکتا تھا۔ میں اسمبلی میں ایسے بیانات دے کر اس استحقاق کا فائدہ اٹھا سکتا تھا جنہیں اسمبلی کے باہر چیلنج نہیں کیا جا سکتا، لیکن میں نے ایسا نہیں کیا۔ میں نے سیاسی اسٹیج پر اپنی بات رکھی، یہ امید کرتے ہوئے کہ بی جے پی سیاسی طور پر ہی جواب دے گی۔" انہوں نے کہا کہ اس کے بجائے بی جے پی نے قانونی راستہ چنا ہے۔ انہوں نے کہا، "انہوں نے ایسا نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے ہم سے کہا ہے کہ سیاسی لڑائیاں ان کے لیے معنی نہیں رکھتیں۔ وہ عدالت میں حساب کتاب کرنا پسند کریں گے۔" مسٹر عمر نے کہا کہ نیشنل کانفرنس اب بی جے پی رہنماؤں کو قانونی نوٹس بھیجنا شروع کرے گی، کیونکہ انہوں نے پارٹی اور اس کی قیادت پر بدنام کرنے والے الزامات لگائے ہیں۔ انہوں نے کہا، "پچھلے کچھ مہینوں سے ریاست میں بی جے پی کے سینئر رہنماؤں نے نیشنل کانفرنس اور اس کی قیادت پر کئی بدنام کرنے والے الزامات لگائے ہیں۔ خاص طور پر ایک رہنما نے بار بار ہم پر بے بنیاد اور بدنام کرنے والے الزامات لگائے ہیں، اور جن کا ہم سیاسی طور پر مقابلہ کر رہے ہیں۔ اب ہم اس خاص بی جے پی رہنما اور کچھ دوسرے لوگوں کو قانونی نوٹس بھیجنے کا عمل شروع کریں گے۔ دیکھتے ہیں کہ یہ عمل کہاں تک جاتا ہے۔" اس سے پہلے بی جے پی نے وزیر اعلیٰ کو قانونی نوٹس بھیجا تھا، جس میں ان سے ان مبینہ بایا نات کو واپس لینے کا مطالبہ کیا گیا تھا جن میں پارٹی پر پیسے اور وزیر کے عہدے کا لالچ دے کر نیشنل کانفرنس کے ایم ایل اے کو توڑنے کی کوشش کرنے کا الزام لگایا گیا تھا۔ نوٹس میں سات دنوں کے اندر بلا شرط عوامی معافی کا مطالبہ کیا گیا تھا اور انتباہ دیا گیا تھا کہ اگر ایسا نہیں کیا گیا تو دیوانی اور فوجداری کارروائی کی جائے گی، جس میں 100 کروڑ روپے کا ہتکِ عزت کا مقدمہ بھی شامل ہے۔