جمعرات، 1 اکتوبر، 2026
اردوहिन्दीEnglish
آواز ای بہار
آواز ای بہار
ہومای پیپرویڈیوزقومیسیاستکھیلتعلیمبہارقومیسیاستکھیلصحتتعلیممضامینعالمی خبریں
اہمقومیسیاستکھیلتعلیمبہارقومیسیاستکھیلصحتتعلیممضامینعالمی خبریں

آواز ای بہار

بہار کی آواز — اردو، ہندی اور انگریزی میں تازہ ترین خبریں

زمرے

  • مقامی
  • قومی
  • سیاست
  • کاروبار
  • ٹیکنالوجی
  • کھیل
  • صحت
  • تعلیم

فوری لنکس

  • ہوم
  • ای پیپر
  • ویڈیوز
  • دن کی تصویر
  • ہمارے بارے میں
  • رابطہ کریں
  • پرائیویسی پالیسی
  • شرائط و ضوابط

نیوز روم

  • ادارتی پالیسی
  • تصحیح و شکایات
  • اشتہارات
  • نیوز روم رابطہ

زبانیں

  • اردو (Urdu)
  • हिन्दी (Hindi)
  • English

ہمیں فالو کریں

Email: awazebihar@gmail.com

Phone: +91-9473486854

© 2026 Awaz E Bihar Publications. جملہ حقوق محفوظ ہیں

Designed and Developed byZeloiteZeloite
کرناٹک میں کسانوں کی خودکشی پر بی جے پی کا ریاستی حکومت پر سخت حملہ
  1. ہوم
  2. قومی
قومی

کرناٹک میں کسانوں کی خودکشی پر بی جے پی کا ریاستی حکومت پر سخت حملہ

Awaz E Bihar•8 مئی، 2026 کو 05:09 PM•9 ویوز•3 منٹ پڑھیں

بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے نیشنل کرائم ریکارڈس بیورو (این سی آر بی) کی تازہ رپورٹ میں کرناٹک میں کسانوں کی خودکشی کے واقعات میں نمایاں اضافہ سامنے آنے کے بعد کانگریس حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔
اسمبلی میں قائدِ حزبِ اختلاف آر اشوک نے وزیر اعلیٰ سدارمیا پر الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ وہ کسانوں کی لاشوں پر گارنٹی سیاست کر رہے ہیں۔آر اشوک نے جمعرات کو جاری این سی آر بی کی رپورٹ ’’بھارت میں حادثاتی اموات اور خودکشیاں 2024 کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ کرناٹک میں کسانوں اور زرعی مزدوروں کی خودکشی کے معاملات میں 22.61 فیصد اضافہ درج کیا گیا ہے۔ ان کے مطابق یہ تعداد 2023 میں 2,423 تھی، جو 2024 میں بڑھ کر 2,971 ہو گئی۔
انہوں نے اس اضافے پر ریاستی حکومت سے سوال کرتے ہوئے کہا کہ جب ملک کی کئی دیگر ریاستوں میں کسانوں کی خودکشی کے واقعات میں کمی آئی ہے، تو کرناٹک میں اس قدر اضافہ آخر کس بات کی نشاندہی کرتا ہے۔
بی جے پی رہنما نے دعویٰ کیا کہ کانگریس حکومت کی کسان مخالف پالیسیوں کی حقیقت این سی آر بی کے تازہ اعداد و شمار نے بے نقاب کر دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کسان خودکشی کے معاملے میں کرناٹک کا ملک میں دوسرے نمبر پر پہنچ جانا حکومت کے دعوؤں اور اس کے طرزِ حکمرانی کی ناکامی کا ثبوت ہے۔
انہوں نے کہا، کرناٹک کسان خودکشی کے معاملے میں ملک میں دوسرے مقام پر پہنچ گیا ہے۔ یہی کانگریس حکومت کی اصل تصویر ہے۔آر اشوک نے الزام لگایا کہ ریاستی حکومت اپنی گارنٹی اسکیموں کی تشہیر اور اشتہارات پر کروڑوں روپے خرچ کر رہی ہے، جبکہ دوسری جانب کسان فصلوں کے نقصان، بڑھتے ہوئے قرض، بجلی کی قیمتوں میں اضافے اور پانی کی قلت جیسے مسائل سے دوچار ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ کسانوں کو اپنی فصلوں کی مناسب قیمت نہیں مل رہی اور حکومت زرعی شعبے کی بگڑتی ہوئی حالت کو مسلسل نظر انداز کر رہی ہے۔
انہوں نے سوال اٹھاتے ہوئے کہا، کسانوں کو نہ ان کی فصل کا مناسب معاوضہ مل رہا ہے اور نہ ہی ان کی زندگی کی کوئی قدر باقی رہ گئی ہے۔ کیا یہی وہ عوام دوست حکومت ہے جس کا کانگریس نے وعدہ کیا تھا؟
آر اشوک نے وزیر اعلیٰ سدارمیا کو براہِ راست نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ وہ کسانوں کے مسائل حل کرنے کے بجائے کانگریس پارٹی کے اندر جاری سیاسی سرگرمیوں اور قیادت کی تبدیلی سے متعلق قیاس آرائیوں میں زیادہ مصروف دکھائی دیتے ہیں۔
شیئر کریں:

More from قومی

 مودی سرکار مساجد و عبادت گاہوں کو نشانہ بنا کر ملک کی گنگا جمنی تہذیب کو ختم کرنا چاہتی ہے
قومی

مودی سرکار مساجد و عبادت گاہوں کو نشانہ بنا کر ملک کی گنگا جمنی تہذیب کو ختم کرنا چاہتی ہے

29 ستمبر، 2026
امن ہندوستان کی پالیسی، کمزوری نہیں، دہشت گردی پر ضروری قدم اٹھائیں گے: راج ناتھ
قومی

امن ہندوستان کی پالیسی، کمزوری نہیں، دہشت گردی پر ضروری قدم اٹھائیں گے: راج ناتھ

27 ستمبر، 2026
ایس آئی آر کا فیصلہ متفقہ تھا، کابینہ سکریٹری کو لکھے گئے خط کا کسی پالیسی سے تعلق نہیں: الیکشن کمیشن
قومی

ایس آئی آر کا فیصلہ متفقہ تھا، کابینہ سکریٹری کو لکھے گئے خط کا کسی پالیسی سے تعلق نہیں: الیکشن کمیشن

26 ستمبر، 2026
گیانیش کمار کے استعفے و گرفتاری کے مطالبے حق میں کانگریس کا ملک گیر مظاہرہ
قومی

گیانیش کمار کے استعفے و گرفتاری کے مطالبے حق میں کانگریس کا ملک گیر مظاہرہ

25 ستمبر، 2026
گیانیش کمار نے دو دنوں میں استعفیٰ نہیں دیا تو ملک گیر تحریک ہوگی: سی جے پی
قومی

گیانیش کمار نے دو دنوں میں استعفیٰ نہیں دیا تو ملک گیر تحریک ہوگی: سی جے پی

24 ستمبر، 2026
الیکشن کمیشن کی 14 اعتراضات پر وضاحت، اختلافِ رائے کو معمول قرار دیا
قومی

الیکشن کمیشن کی 14 اعتراضات پر وضاحت، اختلافِ رائے کو معمول قرار دیا

23 ستمبر، 2026