کرناٹک میں کسانوں کی خودکشی پر بی جے پی کا ریاستی حکومت پر سخت حملہ
Awaz E Bihar••9 ویوز•3 منٹ پڑھیں
بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے نیشنل کرائم ریکارڈس بیورو (این سی آر بی) کی تازہ رپورٹ میں کرناٹک میں کسانوں کی خودکشی کے واقعات میں نمایاں اضافہ سامنے آنے کے بعد کانگریس حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ اسمبلی میں قائدِ حزبِ اختلاف آر اشوک نے وزیر اعلیٰ سدارمیا پر الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ وہ کسانوں کی لاشوں پر گارنٹی سیاست کر رہے ہیں۔آر اشوک نے جمعرات کو جاری این سی آر بی کی رپورٹ ’’بھارت میں حادثاتی اموات اور خودکشیاں 2024 کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ کرناٹک میں کسانوں اور زرعی مزدوروں کی خودکشی کے معاملات میں 22.61 فیصد اضافہ درج کیا گیا ہے۔ ان کے مطابق یہ تعداد 2023 میں 2,423 تھی، جو 2024 میں بڑھ کر 2,971 ہو گئی۔ انہوں نے اس اضافے پر ریاستی حکومت سے سوال کرتے ہوئے کہا کہ جب ملک کی کئی دیگر ریاستوں میں کسانوں کی خودکشی کے واقعات میں کمی آئی ہے، تو کرناٹک میں اس قدر اضافہ آخر کس بات کی نشاندہی کرتا ہے۔ بی جے پی رہنما نے دعویٰ کیا کہ کانگریس حکومت کی کسان مخالف پالیسیوں کی حقیقت این سی آر بی کے تازہ اعداد و شمار نے بے نقاب کر دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کسان خودکشی کے معاملے میں کرناٹک کا ملک میں دوسرے نمبر پر پہنچ جانا حکومت کے دعوؤں اور اس کے طرزِ حکمرانی کی ناکامی کا ثبوت ہے۔ انہوں نے کہا، کرناٹک کسان خودکشی کے معاملے میں ملک میں دوسرے مقام پر پہنچ گیا ہے۔ یہی کانگریس حکومت کی اصل تصویر ہے۔آر اشوک نے الزام لگایا کہ ریاستی حکومت اپنی گارنٹی اسکیموں کی تشہیر اور اشتہارات پر کروڑوں روپے خرچ کر رہی ہے، جبکہ دوسری جانب کسان فصلوں کے نقصان، بڑھتے ہوئے قرض، بجلی کی قیمتوں میں اضافے اور پانی کی قلت جیسے مسائل سے دوچار ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ کسانوں کو اپنی فصلوں کی مناسب قیمت نہیں مل رہی اور حکومت زرعی شعبے کی بگڑتی ہوئی حالت کو مسلسل نظر انداز کر رہی ہے۔ انہوں نے سوال اٹھاتے ہوئے کہا، کسانوں کو نہ ان کی فصل کا مناسب معاوضہ مل رہا ہے اور نہ ہی ان کی زندگی کی کوئی قدر باقی رہ گئی ہے۔ کیا یہی وہ عوام دوست حکومت ہے جس کا کانگریس نے وعدہ کیا تھا؟ آر اشوک نے وزیر اعلیٰ سدارمیا کو براہِ راست نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ وہ کسانوں کے مسائل حل کرنے کے بجائے کانگریس پارٹی کے اندر جاری سیاسی سرگرمیوں اور قیادت کی تبدیلی سے متعلق قیاس آرائیوں میں زیادہ مصروف دکھائی دیتے ہیں۔