تبدیلیاں پارٹی میں ایک مرتبہ پھر بغاوت کو جنم دے سکتی ہیں
Awaz E Bihar••18 ویوز•4 منٹ پڑھیں
کرناٹک کے وزیر اعلیٰ ڈی کے شیوکمار کا اتوار کو نئی دہلی کا دورہ حالیہ کابینہ میں توسیع کے بعد کانگریس میں جاری ناراضگی کے درمیان اہمیت اختیار کر گیا ہے۔دہلی روانگی سے قبل شیوکمار نے کانگریس کے کئی سینئر رہنماؤں سے ملاقاتیں کیں، جن میں بی کے ہری پرساد، سینئر وزیر رام لنگا ریڈی، ایم ایل سی سلیم احمد اور شیولنگا گوڑا شامل ہیں۔ یہ ملاقاتیں کے پی سی سی دفتر میں ہوئیں اور اطلاعات کے مطابق ان میں وزراء کے محکموں میں تبدیلی، خواتین کے کوٹے کے تحت خالی وزارتی عہدہ پُر کرنے اور کابینہ میں حالیہ توسیع سے محروم رہ جانے والے سینئر ارکان اسمبلی کے مطالبات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ شیوکمار پارٹی کے اندر ناراضگی کو کم کرنے کی کوشش کے طور پر ناراض سینئر رہنماؤں سے بھی مسلسل ملاقاتیں کر رہے ہیں۔ دہلی روانہ ہونے سے قبل انہوں نے سابق وزراء دنیش گنڈو راؤ اور دیگر سینئر رہنماؤں کی رہائش گاہوں پر بھی جاکر ملاقات کی۔قیاس آرائیاں کی جارہی ہیں کہ وزیر اعلیٰ کانگریس کی اعلیٰ قیادت کے ساتھ اس بات پر تبادلہ خیال کرسکتے ہیں کہ کابینہ میں صرف محکموں کی تبدیلی تک محدود رہا جائے یا وزراء کی کونسل میں وسیع پیمانے پر ردوبدل کیا جائے۔ تاہم، کچھ سینئر رہنماؤں نے خبردار کیا ہے کہ مزید تبدیلیاں پارٹی میں ایک مرتبہ پھر بغاوت کو جنم دے سکتی ہیں، جبکہ موجودہ ناراضگی بتدریج کم ہورہی ہے۔وزیر کے این راجنا نے کہا کہ جب بھی کابینہ میں ردوبدل ہوتا ہے تو کچھ ناراضگی پیدا ہونا ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہاکہ جب بھی کابینہ میں ردوبدل ہوتا ہے، کچھ ناراضگی ہوتی ہے۔ متعلقہ پارٹی کے رہنما اسے حل کرلیں گے۔ کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ راجنا نے کہا کہ وزارتی فہرست میں بار بار تبدیلیاں غیر معمولی ہیں، لیکن یہ ناراضگی کی واحد وجہ نہیں ہیں۔ انہوں نے کہاکہ ’’میں نے پہلے کبھی اس طرح فہرستوں میں تبدیلی ہوتے نہیں دیکھی۔ لیکن یہ واحد وجہ نہیں ہے۔ اس کے علاوہ بھی دیگر وجوہات ہیں۔ انہوں نے کہا کہ شیوکمار دہلی میں کانگریس کی اعلیٰ قیادت کے ساتھ ان معاملات پر بات چیت کریں گے اور فیصلوں کے ساتھ واپس آئیں گے۔سابق وزیر اعلیٰ سدارامیا سے متعلق ناراضگی کی اطلاعات کے بارے میں پوچھے جانے پر راجنا نے کہا کہ انہوں نے گزشتہ تین یا چار دنوں سے سدارامیا سے ملاقات نہیں کی ہے، اس لیے وہ اس پر کوئی تبصرہ نہیں کرسکتے۔ کیا وزارتی فہرست میں بار بار نظرثانی کانگریس کی اعلیٰ قیادت میں الجھن کی نشاندہی کرتی ہے، اس سوال پر راجنا نے کہاکہ ’’سبھی کہہ رہے ہیں کہ اعلیٰ قیادت میں الجھن ہے، لیکن میں ایسا نہیں کہہ رہا۔‘‘کابینہ کے بارے میں غیر یقینی صورتحال نے وزارتی عہدوں کے خواہاں سینئر ارکان اسمبلی کے درمیان ایک بار پھر لابنگ بھی تیز کردی ہے۔ کانگریس کی قیادت حالیہ توسیع میں عہدوں سے محروم رہنے والے رہنماؤں کو بھی مطمئن کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ سلیم احمد کے ساتھ ملاقات میں مبینہ طور پر قانون ساز کونسل کے چیئرمین کے عہدے کے لیے ان کی امیدواری اور آئندہ انتخابات کے طریقہ کار سے متعلق امور پر بھی بات ہوئی۔ دریں اثنا، وزیر پریانک کھرگے نے سابق وزیر بی ناگیندر کا دفاع کرتے ہوئے ان کے خلاف جاری قانونی کارروائی سے متعلق سوالات کا جواب دیا۔ کھرگے نے کہاکہ ’’اگر عدالت نوٹس جاری کرتی ہے تو ناگیندر اس کا سامنا کریں گے۔ اس معاملے پر میڈیا میں بحث کرنے کا کوئی فائدہ نہیں۔ وہ عدالت میں جواب دیں گے۔‘‘ کھرگے نے کانگریس کی اعلیٰ قیادت کو مبینہ طور پر پیش کی گئی ایک بے دستخط دستاویز کو بھی مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اس پر نہ کوئی نام ہے اور نہ دستخط، اس لیے اسے سرکاری خط و کتابت نہیں سمجھا جاسکتا۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں ہوئی ہے جب کرناٹک کانگریس وزارتی عہدوں کی خواہشات کو پورا کرنے اور پارٹی کے اندر مزید اختلافات کو روکنے کے درمیان توازن قائم کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ شیوکمار کی دہلی میں ہونے والی ملاقاتوں سے اس بارے میں زیادہ وضاحت متوقع ہے کہ کانگریس کی اعلیٰ قیادت صرف محکموں میں محدود ردوبدل کا فیصلہ کرتی ہے یا کابینہ میں وسیع پیمانے پر تبدیلیاں کی جاتی ہیں۔