دنیا کا کوئی فرد تنہا زندگی گزارنے کا متحمل نہیں ہوسکتا سوائے ان لوگوں کے جو تارک الدنیا ہوکر جنگلوں یا بیابانوں میں پوری زندگی گزار دیتے ہیں جس کا اسلام میں قطعی اجازت نہیں ہے ۔ اللّٰہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ۔ یہ دنیا آخرت کی کھیتی ہے۔ لہذا دنیا میں رہتے ہوئے اپنے خاندان اور سماج کے ساتھ زندگی گزارنی ہے ۔ ہر سماج کسی نہ کسی مذہب سے وابستہ ہے اس کی اپنی تہذیب ہے اپنی علاقائی ثقافت ہے جس کا تعلق لباس رسم و رواج ، قبائلی اقدار اور دیرینہ روایات سے ہے ۔ اللّٰہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں عربوں کا پورا معاشرو با لخصوص اور پوری دنیا با لعموم ، شرک اور جاہلانہ رسم و رواج اور حرام و حلال سے ماوراء، حیا شرم عاری اور معاشرتی بگاڑ میں مبتلا تھا ۔ خانہ کعبہ کا طواف بھی مرد و عورت برہنہ ہوکر کرتے تھے ، اور حرم کعبہ 360 بتوں سے مزین تھا ، عریانی اور حیا شوزی عام تھیں ۔ جاہلانہ رسم و رواج کو باپ دادا کی وراثت سمجھا جاتا تھا ۔ بازار عکاظ میں لوگ اپنی برائیوں کے چرچے شعر و شاعری کی زبان میں بے شرمی کے ساتھ سناتے اور جو جتنی مہارت کے ساتھ یہ کام کرتا وہ ممتاز اور قابلِ تعریف تھا ۔ بات بات پر لڑائیاں شروع ہو جاتیں اور برسوں تک قتل و غارتگری کا سلسلہ چلتا رہتا ۔ دور جاہلیت کی تین مشہور لڑائیاں تاریخ کا حصہ ہیں جو قبائل کے درمیان 40 سالوں تک چلی ہیں ۔ داہش و غبرا کی لڑائی جو گھوڑے دوڑانے سے شروع ہوئی ۔ دوسری بسوس کی لڑائی جو بسوس نام کی بوڑھی عورت کے اونٹنی کو زخمی کرنے سے شروع ہوئی ، فجار یعنی محترم مہینوں میں شروع ہونے والی لڑائی یہ تینوں لڑائیاں برسوں چلیں جس میں متحارب قبائل کے ہزاروں لوگ مارے گئے اور اک دوسرے کو غلام بنایا ۔ لوگوں کا مال و متاع طاقت سے ہڑپ کر لینا عام بات تھی ۔ سود کا کاروبار تجارت کے طور پر رائج تھا ۔ راہ چلتے بول و براز کرنا بھی برا نہیں سمجھا جاتا تھا ۔ مردار جانور کھانا ، اس خون پینا بھی حرام نہیں تھا ۔ قیصر و کسریٰ ، چین و ہندوستان کی طرح عرب دنیا میں باضابطہ کسی کی حکومت نہیں تھی لہذا مختلف قبائل کے سردار ہی اپنے اپنے قبیلے کے حکمراں تھے ۔ کوئی حکومتی قانون یا ضابطہ نہیں تھا بس سرداروں کے فیصلے ہی اول و آخر ہوتے تھے ۔ جہاں باضابطہ حکومتیں تھیں وہاں خاندانی بادشاہت ظلم و جبر کی علامت اور ملک کے تمام وسائل کے مالک ہوتے تھے ۔ رعایا آزاد ہونے کے باوجود بھی عملاً بادشاہوں کی غلام تھی ۔ اس طرح کی دنیا تھی جب اللّٰہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت ہوئی ۔ اور آپ نے سماج کو بدلنے کا آغاز توحید و رسالت ، فکر آخرت ، اعلیٰ اخلاق ، عبادات سے لے کر تمام تہذیبی اور ثقافتی اقدار کو بدلنے سے لے کر ، ظلم و جبر کے خاتمے سے کیا ۔ پوری دنیا کے انسانوں کو اس جانب بلایا اور اک ایسی اجتماعیت قائم کی جس اجتماعیت سے جڑے اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ نے اپنی نصرت و تائید سے نوازا اور دنیا و آخرت کی کامیابی سے سرفراز کیا ۔ آپ دعائے خلیل و نوید مسیحا بن کر آئے ۔ اللّٰہ تعالیٰ نے آپ کو ہر زمانے کے لئے رحمت اللعالمین بنا کر بھیجا ہے ۔ اور آپ کی بعثت کا مقصد یہ بتایا کہ ۔ جیسا کہ ہم نے تمہارے درمیان تمہیں میں سے ایک رسول بھیجا جو ہماری آیتوں کی تلاوت کرتے ہیں ۔ تمہارا تزکیہ کرتے ہیں اور حکمت کی باتیں بتاتے ہیں جس کا تمہیں علم نہیں تھا ۔ البقرہ 151. اسی طرح کی آیتیں دیگر سورتوں میں ہے جس سے یہ بات واضح ہے کہ بعثت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا مقصد تطہیر افکار و نظریات اور تعمیر سیرت وکردار کردار تھا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں معلم اخلاق بنا کر بھیجا گیا ہو ۔ اہل مکہ چالیس سال تک اس بات کو جانتے تھے کہ آپ صادق و امین ہیں ۔ آپ حیا و شرم کے اعلیٰ درجے پر فائز ہیں ۔ آپ نے کبھی بتوں کی پرستش نہیں کی وہ یہ بھی جانتے تھے کہ آپ اک خداوند واحد کی پرستش کے لئے غار حرا میں جاتے تھے ۔ اہل مکہ اس بات کے معترف تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا دور دور تک لہو لعب سے کبھی واسطہ نہیں رہا یہ وہ سیرت وکردار تھا جس سے آپ مکے کے سب سے محترم ہستی تھے ۔ اب انبیاء کی دعوت کو ٹھکرانی اقوام کا انجام اور موجودہ دنیا کے حالات کا تفصیل سے جائزہ لیتے ہیں اور اپنی ذمہ داریوں کا تعین اور جد وجہد کا جائزہ لیتے ہیں ۔ یہ بھی دیکھنا ہے کہ اپنی ذمہ داریوں سے غفلت اور انحراف کا انجام کیا ہوتا رہا ہے اور کیا ہو رہا ہے ۔ اور بعثت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے مشن کے علاوہ کس سمت میں کوششیں کر رہے ہیں موجودہ سماج چودہ سالہ سماج سے کتنا مختلف ہے ۔ قوم لوط شرک ، بدکاری کی انتہا اور اخلاقی پستی کی وجہ سے عذاب الٰہی کا شکار ہوئی ۔ قوم عاد و ثمود شرک و ظلم کی وجہ تمام تر کامیابیوں کے باوجود نشان عبرت بنیں ۔ قوم سبط اللّٰہ کو دھوکا دینے کی وجہ سے سور اور بندر بنائی گئی ۔ قوم شعیب کم تولنے کی وجہ سے باغ ارم سے محروم کر دی گئی ۔ فرعون و نمرود خدائی دعوے کی وجہ سے، شداد و قارون سب بے خدا ہونے کی وجہ سے نشان حسرت و یاس بن گئے ۔ بڑی بڑی سلطنتیں ظلم و جبر کی وجہ سے زوال سے دو چار ہو گئیں قوم لوط کی برائی آج تمام مغربی اقوام اور نام نہاد ترقی یافتہ ممالک میں ریاستی قوانین کے تحفظ کے ساتھ جاری ہے اور اس کو انسانی حقوق کہا جاتا ہے حد تو یہ ہے کہ عیسائی مذہب کے پیشوا ، سیاسی رہنما اور سماج کے دیگر نامور شخصیات بھی دھڑلے سے اس گناہ کبیرہ میں مبتلا ہیں ، شرک ، ظلم ، عام ہے ۔ دنیا کی آبادی 8 کروڑ سے تجاوز کر چکی ہے ۔ 2020 کے گلوبل سروے کے مطابق اک ارب لوگ جس میں اعلیٰ تعلیم یافتہ افراد شامل ہیں خدا کے وجود کے منکر ہیں ۔ سوا ارب ہندو ہزاروں دیوی دیوتاؤں حتیٰ کے سانپوں اور بندروں کے ساتھ ساتھ چاند سورج کی پرستش کرتے ہیں ۔ ہر دوسرا آدمی عیسائی ہے مگر مذہب ان کے لئے اجتماعی عقیدے کا نام نہیں بلکہ یہ ذاتی معاملہ ہے عملاً تثلیث کے عقیدے نے کیتھولک عیسائیوں کو شرک میں مبتلا کر دیا ہے ۔ چین کی ڈیڑھ ارب کی آبادی لا مذہب ملک ہے ۔ اک ارب ستر کروڑ مسلمانوں کی حالت یہ ہے کہ اسی 2020 کے سروے میں مسلمانوں کی 12 فیصد آبادی مذہب کو ثانوی قرار دیتی ہے لہذا دینی اقدار اور تہذیب و اخلاق کی پیروی چہ معنی دارد ۔ ہم اگر صرف بر صغیر ہند و پاک اور بنگلہ دیش میں مسلمانوں کی آبادی دیکھیں تو تقریبآ 75 تا 80 کروڑ ہے ۔ پورا پاکستان شدید ترین مسلکی ، فرقہ ورانہ ، علاقائی اور لسانی فساد کے نرغے میں ہے۔ معاملات اور اخلاق اتنے خراب ہیں کہ دنیا کے ملکوں میں پاکستانی پاسپورٹ کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔ کرپشن ، بد عنوانی اخلاقی زوال کا ایک سیلاب ایوانِ اقتدار سے شروع ہو کر ہر خاص و عام کو اپنے لپیٹ میں لے چکا ہے ۔ اب تو کسی کو کسی پر اعتبار نہیں رہا ۔ ہر جگہ آدمی عدم تحفظ کا شکار ہے ۔ فحاشی عریانی اور جرائم ریاستی اداروں کی سرپرستی میں انجام دیا جا رہا ہے ۔ عدلیہ ، پولیس ، انتظامیہ سب کرپشن کے شکار ہیں ۔ پوری دنیا کا مالیاتی نظام سود پر قائم ہے ۔ پاکستان کی اعلٰی عدلیہ کے فیصلوں کے باوجود سود کا خاتمہ نہیں کیا جا رہا ہے ۔ مذہب کے نام پر شرک کا ارتکاب ہو رہا ہے ۔ بتوں کی جگہ مزاروں کی پرستش ہو رہی ۔ سیاسی اور مذہبی شخصیات کی عقیدت اتنی زیادہ بڑھ چکی ہے کہ انہیں دیوتا تسلیم کیا جا رہا ہے ۔ انگریزوں کی غلامی سے لے کر بھارت کی آزادی کے بعد ہندوستان میں رہنے والے کروڑوں مسلمان اپنی مذہبی ، تہذیبی ، ثقافتی شناخت کھوتے جا رہے ہیں ۔ مسلمانان ہند عملاً ہندوانہ تہذیب و ثقافت کے اثرات قبول کرتے جارہے ہیں ۔ اس موقع پر جواہر لال نہرو کی اک تقریر یاد آ رہی ہے انہوں نے کہا تھا کہ اسلام جہاں جہاں گیا وہاں کی تہذیب و ثقافت کو اسلامی رنگ میں رنگ دیا مگر جب یہ ہندوستان فاتحین اور دیگر مبلغین کے ذریعے پہنچا تو ہندوستان کی تہذیب و ثقافت کے رنگ میں رنگ گیا ہزار سال تک مسلمان حکمرانوں کی حکومت رہی مگر اسلام کی حقیقی دعوت کا کام نہیں ہوا ۔ یہی وجہ ہے کہ انگریز آئے تو انگریزوں اپنی تہذیب اور ثقافت کو مسلط کیے اور آزادی کے بعد آج تک درست طریقہ سے جس ذمہ داری کو ادا کرنا تھا وہ ممبر و محراب اور علماء دین کے تھے مگر مسلکی اور فرقہ ورانہ اختلافات نے مسلمانوں کو مسلمان نہیں بلکہ مسلکی شناخت دیدی ہے ۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے ۔ اس شخص سے بہتر بات کس کی ہوگی جس نے لوگوں کو اللّٰہ کی جانب بلایا اور نیک عمل کیا اور کہا کہ میں مسلمان ہوں ۔ سورہ ح م سجدہ ۔ اللّٰہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے سماج کے شرکیہ عقیدے ، اخلاقی رذائل ، معاشرتی رسم و رواج ، باہمی دشمنی اور نفرت ، ہر طرح کے تعصبات ، چوری چکاری ، برے عادات سب کو اللّٰہ کی ہدایت اور اپنی سیرت سے بدلہ تو وقت کے ظالم مظلوموں کے محافظ ، اخلاق سے عاری مثالی شرافت کے نمونے بن گئے ۔ دوسروں کا مال ہڑپ کرنے والے ایثار و قربانی کے چلتے پھرتے نمونے بن گئے ۔ بتوں کے پجاری توحید کے علم بردار اور مبلغ بن گئے ۔ گویا آپ نے سمندر کنارے پڑے سنگریزوں کو تراش کر ہیرے کی چمک عطا کر دی ۔ چرواہوں کے سر پر قیصر و کسریٰ کے تاج سج گئے ۔ آج بھی سماج کو بدلیں گے تو نظام زندگی اور حکومت بھی بدل جائے گی ۔ اللّٰہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی نہری نظام نہیں قائم کیا بس دلوں میں جنت کی تڑپ کی لو جگا دی پانی بیچنے والے مفت میں پانی تقسیم کرنے والے بن گئے ۔ کوئی زرعی انقلاب برپا نہیں ہوا مگر کوئی بھوکا سونے والا نہیں رہا ۔ آو بدلیں سماج کو ۔ لوگوں کے دل ودماغ کو ۔ جنت کی چاہت پیدا کریں ۔ دکھائیں جہنم کے عذاب کو ۔