احسن امام احسن اردو ادب کے واحد ادیب ہیں جنہوں نے اردو کے ادباء و شعراء پر کثرت سے مضامین تحریر کیے۔ آپ کی کتابیں مثلاً ’’جھارکھنڈ کے قلم کار‘‘ ،’’بہار، بنگال اور اڑیسہ کے قلم کار ‘‘ اور’’اترپردیش کے قلم کار‘‘ مذکورہ تحریر کا جیتا جاگتا ثبوت ہیں۔ آپ نے اس کام میں نفع اور نقصان کی پرواہ نہیں کی۔احسن امام احسن کی دیگر کتابوں کے عنوانات اس طرح ہیں ’’سمندر شناس‘‘ اور’’خواب کا سمندر‘‘۔ آپ کی ذات کو یہ شرف حاصل ہے کہ نظم و نثر دونوں اصناف میں یکساں قدرت رکھتے ہیں۔ احسن امام احسن کی پہلی غزل ماہنامہ گلابی کرن دہلی کا شمارہ مارچ ۱۹۸۸ء میں شائع ہوئی۔ک آپ کا پہلا مضمون بعنوان ’’اردو کا مسئلہ ایک لمحہ فکریہ‘‘ روزنامہ قومی تنظیم پٹنہ، مورخہ ۲۷؍مارچ ۱۹۹۴ء کو شائع ہوا۔ کتاب ’’تنقید وتبصرے‘‘ کے مطالعہ سے یہ علم ہوتا ہے کہ احسن امام احسن کو دنیا تین جہتوں سے یاد کرے گی۔ پہلا بحیثیت انسان ، دوسرا بحیثیت شاعر اور تیسرا بحیثیت نثرنگار۔ بحیثیت انسان احسن امام احسن ایک اعلیٰ اقدار کے مالک ہیں۔ انسان اپنے مسائل خود حل کرتا ہے مگر احسن امام احسن دوسروں کے مسائل بھی حل کرتے ہیں۔ یہی وہ مقام ہے جہاں انسان کا درجہ ولی تک جا پہنچتا ہے۔ ملاحظہ ہو: ’’احسن امام احسن کی فطرت میں غریب غربا کی مدد کرنا حاجت مندوں کی حاجت روائی کرنا وغیرہ جیسی خوبیاں بھی بدرجہ احسن ملتی ہیں۔ طالب علم کو تعلیم کی حصولیابی میں اگر پیسے کی عدم فراہمی یا رکاوٹ ہے تو احسن امام احسن اس کی مدد کرنا اپنااخلاق فریضہ سمجھتے ہیں۔ الغرض ان کی شخصیت سماج و معاشرہ میں درخشندہ و تابندہ ہی نہیں بلکہ ان کا طرزعمل بھی قابل تعریف ہے۔‘‘ ص:۳۷ شاعری کرنا بچوں کا کھیل نہیں، اچھا شاعر وہی کہلائے گا جس کے کلام کو سن کر لوگ یہ محسوس کریں کہ یہ ان کے دل کی بات ہے۔ احسن امام احسن کی شاعری لب و رخسار کی نہیں ہوتی بلکہ سماج میں پھیلی ناانصافیوں، مظالم، فسادات اور گھروں کے جھگڑوں کا احاطہ کرتی ہے۔ ضیاء الحق قادری رقمطراز ہیں: ’’احسن ایک حساس شاعر ہیں۔ وہ اپنے دور میں رونما ہونے والی ہر تبدیلی سے باخبر رہتے ہیں۔ موجودہ دور میں پھیلی بدعنوانیوں، خرابیوں، بے اعتدالیوں نیز قومی فسادات آپ کے احساس پر چوٹ کرتے ہیں۔ روزبروز ہونے والے قتل و غارت اور خون خرابے آپ کے دل کی دنیا میں زلزلہ پیدا کرتے ہیں اور آپ کی روح کو مجروح کرتے ہیں۔ جب آپ کے دل کی دنیا چیخ و پکار کرتی ہے تو آپ کی روح تڑپ اٹھتی ہے اور آنکھیں اشکبار ہوجاتی ہیں تو یہی چیخ و پکار، یہی تڑپ و بے قراری اور یہی اشکباری اشعار کی صورت میں صفحہ قرطاس میں ابھر کر ہمارے سامنے آکھڑے ہوتے ہیں اور زندگی کی صداقتوں کو بیان کرنے لگتے ہیں۔‘‘ص۱۵۲ عمران عظیم احسن امام احسن کی شاعری کے متعلق یوں رقمطراز ہیں: ’’احسن امام احسن معدودے چند ان شاعروں میں سے ایک ہیں جن کی اپنی مخصوص ڈکشن کی وجہ سے شناخت قائم ہوئی۔ احسن امام احسن کے اس ڈکشن کی حصولیابی میں وسیع دائرے کے ساتھ ساتھ انفرادی مزاج نے بھی ایک اہم رول ادا کیا ہے۔ دوسرے لفظوں میں معانیاتی نظام کی تشکیل جدید میں لفظیات کا بامعنی استعمال احسن امام احسن کو فکروفن کی اس منزل پر کھڑاکرتا ہے جہاں افہام و تفہیم کا مسئلہ باقی نہیں رہتا۔‘‘ص:۹۸ احسن امام احسن کی نظم نگاری کے متعلق ڈاکٹر محمد دانش غنی رقمطرازہیں: ’’ان کا سب سے بڑا امتیاز ان کے شعری رویے کی سادگی ہے اور یہ سادگی ان کی نظموں میں بھی ہے… لیکن یہ سادگی اپنے باطن میں بڑی تہہ داری رکھتی ہے۔ مشکل سے مشکل خیال اور پیچیدہ سے پیچیدہ تجربات و احساسات سب ان کے شعری رویے کے سامنے پانی پانی ہوجاتی ہیں۔ لفظوںکی سادہ بیانی تصور کو آسان بنا دیتی ہے۔ ظاہرہے یہ فن شاعر کو بڑی ریاضت، محنت اور لگن کے بعد نصیب ہوتا ہے۔احسن امام احسن کی نظموں کا مطالعہ قاری کو یہ بتا دیتا ہے کہ انہیں نظم کو پیش کرنے کاسلیقہ آتا ہے۔‘‘ص:۱۶۶ بحیثیت نثرنگار احسن امام احسن کا مقام اعلیٰ و ارفع ہے۔ آپ کی نثر رواں دواں ہوتی ہے۔ آپ ادق الفاظ کے استعمال سے گریز کرتے ہیں۔ لہٰذا قاری کو معنی فہمی میں دقت نہیں ہوتی۔ آپ کی نثر کی تعریف اردو کے مشاہیر نے بھی کی ہے۔ ملاحظہ ہو۔ ایم نصراللہ نصر رقمطراز ہیںـ: ’’ان کی نثرنگاری میں بھی کئی خوبیاں موجود ہیں۔ اسلوب میں بھی رنگ آمیزی نظرآتی ہے اور زبان و بیان میں بھی دلکشی ملتی ہے۔‘‘ص:۲۵۰ پروفیسر مقبول احمد مقبول لکھتے ہیں: ’’احسن امام احسن کے مضامین کی خصوصیت یہ ہوتی ہے کہ وہ تنقید و تجزیے کی بھاری بھرکم اصطلاحات سے پاک ہوتے ہیں۔ احسن امام احسن دقیق اور مشکل الفاظ سے دامن بچاتے ہوئے عام فہم اور سادہ زبان میں اپنے خیالات کو زیب قرطاس کرتے ہیں۔‘‘ص۲۶۵ امام الدین امام مبارک باد کے مستحق ہیں کہ انہوں نے اردو کے لیجنڈ ادیب احسن امام احسن کی شخصیت اور ان کے فن کی متعلق لکھے گئے مضامین کو یکجا کرکے کتابی شکل میں شائع کردیا۔ ان کی اس کاوش سے جہاں اردو ادب کا عام قاری اپنی معلومات میں اضافہ کرتا ہے وہیں تحقیق کرنے والے طلبہ و طالبات بھی مستفیض ہوں گے۔ تنقید و تبصرہ کی طباعت و کاغذ عمدہ، سرورق دیدہ زیب، صفحات ۳۷۶، قیمت:۳۰۰ روپے، سال اشاعت ۲۰۲۵ء۔ اس کتاب کو ایجوکیشنل پبلشنگ ہائوس نئی دہلی نے شائع کیا جسے اس کے مختلف برانچوں سے حاصل کیاجاسکتا ہے۔ ٭٭٭