سیمانچل میں شدید بارش اور طوفان سے ہونے والے نقصانات کا معاوضہ دیا جائے: طارق انور
Awaz E Bihar••3 ویوز•2 منٹ پڑھیں
کانگریس لیڈر طارق انور نے جمعہ کے روز لوک سبھا میں حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ بہار کے سیمانچل خطہ بالخصوص کٹیہار ضلع میں حالیہ ژالہ باری اور موسلا دھار بارش سے فصلوں کے نقصانات کی تلافی کے لیے فوری اقدامات کرے۔ وقفہ صفر کے دوران یہ مسئلہ اٹھاتے ہوئے مسٹر طارق انور نے کہا کہ سیمانچل میں شدید بارش سے فصلوں کا کافی نقصان ہوا ہے۔ گندم، مکئی، سبزیوں اور پھلوں بالخصوص آم کی فصل کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ متاثرہ کسانوں کو فوری مالی امداد دی جائے۔ اس آفت سے بے گھر ہونے والوں کی بحالی کے لیے اقدامات کیے جائیں اور مرنے والوں کے اہل خانہ کو مناسب مالی امداد فراہم کی جائے۔ انہوں نے زور دیا کہ زخمیوں کے علاج ومعالجے کے لیے مناسب انتظامات کیے جائیں۔ لوک جن شکتی پارٹی (رام ولاس) کے راجیش ورما نے حکومت کی مفت راشن اسکیم کے تحت فراہم کیے جانے والے اناج کے کم وزن کی طرف حکومت کی توجہ مبذول کراتے ہوئے کہا کہ فی شخص پانچ کلو گرام کے بجائے اہل افراد کو صرف چار یا ساڑھے چار کلو گرام ملتا ہے۔ راشن کی دکان کے مالک کم وزن دیتے ہیں اور پوری مقدار میں اناج فراہم نہیں کرتے ہیں۔ بعض اوقات، مستفیدین کو ناقص معیار کا راشن ملتا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ فوڈ کارپوریشن بوریوں کے بجائے پانچ کلو گرام کے پیکٹوں میں اناج فراہم کرے، تاکہ مستحقین کو معیاری، مکمل اناج مل سکے۔ آزاد رکن پارلیمنٹ محمد حنیفہ نے حکومت سے اسرائیل، امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ کو ختم کرنے میں فعال کردار ادا کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ ہندوستان ہمیشہ امن اور بقائے باہمی کا حامی رہا ہے۔ مشکل گھڑی میں ملک سب کا ساتھ دیتا رہا ہے۔ دنیا ہر بحران کے وقت ہندوستان کی طرف امید سے دیکھتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس جنگ سے دنیا بھر میں توانائی کا بحران پیدا ہوگیا ہے۔ ملک میں گیس کی قلت ہے، لوگ لمبی قطاروں میں کھڑے ہونے پر مجبور ہیں۔ ایسے میں ہندوستان کو جنگ کے خاتمے کے لیے فعال کردار ادا کرنا چاہیے۔