جمعرات، 1 اکتوبر، 2026
اردوहिन्दीEnglish
آواز ای بہار
آواز ای بہار
ہومای پیپرویڈیوزقومیسیاستکھیلتعلیمبہارقومیسیاستکھیلصحتتعلیممضامینعالمی خبریں
اہمقومیسیاستکھیلتعلیمبہارقومیسیاستکھیلصحتتعلیممضامینعالمی خبریں

آواز ای بہار

بہار کی آواز — اردو، ہندی اور انگریزی میں تازہ ترین خبریں

زمرے

  • مقامی
  • قومی
  • سیاست
  • کاروبار
  • ٹیکنالوجی
  • کھیل
  • صحت
  • تعلیم

فوری لنکس

  • ہوم
  • ای پیپر
  • ویڈیوز
  • دن کی تصویر
  • ہمارے بارے میں
  • رابطہ کریں
  • پرائیویسی پالیسی
  • شرائط و ضوابط

نیوز روم

  • ادارتی پالیسی
  • تصحیح و شکایات
  • اشتہارات
  • نیوز روم رابطہ

زبانیں

  • اردو (Urdu)
  • हिन्दी (Hindi)
  • English

ہمیں فالو کریں

Email: awazebihar@gmail.com

Phone: +91-9473486854

© 2026 Awaz E Bihar Publications. جملہ حقوق محفوظ ہیں

Designed and Developed byZeloiteZeloite
دہلی فسادات: انکت شرما قتل معاملہ میں 6 مسلم نوجوان باعزت بری
  1. ہوم
  2. قومی
قومی

دہلی فسادات: انکت شرما قتل معاملہ میں 6 مسلم نوجوان باعزت بری

Awaz E Bihar•14 جولائی، 2026 کو 07:35 PM•14 ویوز•3 منٹ پڑھیں

نئی دہلی: شمال مشرقی دہلی میں فروری 2020 کے فرقہ وارانہ فسادات کے دوران انٹیلی جنس بیورو کے اہلکار انکت شرما کے قتل سے متعلق اہم مقدمے میں کڑکڑڈوما عدالت نے چھ سال سے زائد عرصے تک جاری رہنے والی قانونی کارروائی کے بعد اپنا فیصلہ سناتے ہوئے چھ مسلم نوجوانوں کو تمام الزامات سے باعزت بری کر دیا ہے، جبکہ مقدمے میں پانچ دیگر ملزموں کو قصوروار قرار دیا گیا ہے۔ عدالت کے فیصلے کے بعد بری ہونے والے نوجوانوں کے اہل خانہ میں خوشی کی لہر دوڑ گئی اور انہوں نے قانونی معاونت فراہم کرنے پر جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا محمود اسعد مدنی کا شکریہ ادا کیا۔
عدالتی فیصلے کے مطابق فیروز، سمیر، حسین عرف ملا جی عرف سلمان، گلفام، شعیب عالم عرف بابی اور منتظم عرف موسیٰ کو تمام الزامات سے باعزت بری کر دیا گیا۔ مقدمے میں مجموعی طور پر گیارہ افراد کو ملزم بنایا گیا تھا۔ جمعیۃ علماء ہند کی جانب سے ایڈووکیٹ عبدالغفار نے چار ملزموں کی قانونی پیروی کی، جن میں فیروز اور سمیر بھی شامل تھے، جو اب عدالت سے بری قرار دیے گئے ہیں۔
ایڈووکیٹ عبدالغفار نے بتایا کہ عدالت نے چھ افراد کو الزامات سے بری کیا ہے، جبکہ باقی ملزموں کو اعلیٰ عدالت سے رجوع کرنے اور اپنی بے گناہی ثابت کرنے کا قانونی حق حاصل ہے۔ انہوں نے کہا کہ طویل عدالتی کارروائی کے دوران دفاعی ٹیم نے قانونی اور دستاویزی شواہد کی بنیاد پر مقدمے کی پیروی کی، جس کے نتیجے میں کئی ملزموں کو انصاف حاصل ہوا۔
واضح رہے کہ 24 فروری 2020 کو شمال مشرقی دہلی میں بڑے پیمانے پر فرقہ وارانہ تشدد بھڑک اٹھا تھا۔ 25 فروری کو انٹیلی جنس بیورو کے 26 سالہ اہلکار انکت شرما لاپتہ ہو گئے تھے، جبکہ اگلے روز ان کی لاش کھجوری خاص کے ایک نالے سے برآمد ہوئی تھی۔ پوسٹ مارٹم رپورٹ میں ان کے جسم پر متعدد زخموں کی نشاندہی کی گئی تھی۔ ان کے والد کی شکایت کی بنیاد پر سابق میونسپل کونسلر طاہر حسین کو مقدمے کا کلیدی ملزم نامزد کیا گیا تھا اور پولس نے مزید دس افراد کے خلاف بھی مقدمہ درج کیا تھا۔
جمعیۃ علماء ہند کے مطابق ایسے حساس مقدمات میں جہاں اصل مجرموں کو قانون کے مطابق سزا ملنا ضروری ہے، وہیں بے قصور افراد کو انصاف کی فراہمی اور مؤثر قانونی دفاع بھی آئینی اور قانونی تقاضا ہے۔ اسی مقصد کے تحت تنظیم گزشتہ کئی برسوں سے دہلی فسادات سے متعلق متعدد مقدمات میں قانونی معاونت فراہم کر رہی ہے۔جمعیۃ علماء ہند نے کہا ہے کہ دہلی فسادات سے متعلق دو سو سے زائد زیر سماعت مقدمات میں تنظیم قانونی پیروی کر رہی ہے، جبکہ اس کی قانونی جدوجہد کے نتیجے میں اب تک سو سے زائد افراد مختلف مقدمات میں باعزت بری ہو چکے ہیں۔ تنظیم کے مطابق متاثرہ خاندانوں کی بازآبادکاری اور بحالی کے لیے بھی مسلسل خدمات انجام دی جا رہی ہیں۔ بری ہونے والے نوجوانوں کے اہل خانہ نے اس موقع پر مولانا محمود اسعد مدنی کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ مشکل وقت میں انہیں قانونی اور اخلاقی تعاون فراہم کیا گیا، جس پر وہ بے حد ممنون ہیں۔

شیئر کریں:

More from قومی

 مودی سرکار مساجد و عبادت گاہوں کو نشانہ بنا کر ملک کی گنگا جمنی تہذیب کو ختم کرنا چاہتی ہے
قومی

مودی سرکار مساجد و عبادت گاہوں کو نشانہ بنا کر ملک کی گنگا جمنی تہذیب کو ختم کرنا چاہتی ہے

29 ستمبر، 2026
امن ہندوستان کی پالیسی، کمزوری نہیں، دہشت گردی پر ضروری قدم اٹھائیں گے: راج ناتھ
قومی

امن ہندوستان کی پالیسی، کمزوری نہیں، دہشت گردی پر ضروری قدم اٹھائیں گے: راج ناتھ

27 ستمبر، 2026
ایس آئی آر کا فیصلہ متفقہ تھا، کابینہ سکریٹری کو لکھے گئے خط کا کسی پالیسی سے تعلق نہیں: الیکشن کمیشن
قومی

ایس آئی آر کا فیصلہ متفقہ تھا، کابینہ سکریٹری کو لکھے گئے خط کا کسی پالیسی سے تعلق نہیں: الیکشن کمیشن

26 ستمبر، 2026
گیانیش کمار کے استعفے و گرفتاری کے مطالبے حق میں کانگریس کا ملک گیر مظاہرہ
قومی

گیانیش کمار کے استعفے و گرفتاری کے مطالبے حق میں کانگریس کا ملک گیر مظاہرہ

25 ستمبر، 2026
گیانیش کمار نے دو دنوں میں استعفیٰ نہیں دیا تو ملک گیر تحریک ہوگی: سی جے پی
قومی

گیانیش کمار نے دو دنوں میں استعفیٰ نہیں دیا تو ملک گیر تحریک ہوگی: سی جے پی

24 ستمبر، 2026
الیکشن کمیشن کی 14 اعتراضات پر وضاحت، اختلافِ رائے کو معمول قرار دیا
قومی

الیکشن کمیشن کی 14 اعتراضات پر وضاحت، اختلافِ رائے کو معمول قرار دیا

23 ستمبر، 2026