قبائلی برادریوں کی جبری تبدیلی کو روکنے کے لیے سخت قانون بنانے کا مطالبہ
Awaz E Bihar••4 ویوز•5 منٹ پڑھیں
راجیہ سبھا میں جمعہ کے روز مطالبہ کیا گیا کہ قبائلی برادریوں کے جبر اور ترغیب کے ذریعے مذہب کی تبدیلی کو روکنے کے لیے سخت قانون بنایا جائے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے سمیر سنگھ سولنکی نے وقفہ سوالات کے دوران یہ مسئلہ اٹھاتے ہوئے کہا کہ ملک کے مختلف حصوں میں قبائلی برادریوں کو زبردستی مذہب تبدیل کرایا جا رہا ہے جس کے لیے انہیں مختلف قسم کی لالچ اور ترغیب دی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان لوگوں کو نوکری یا دیگر لالچ دے کر زبردستی ان کا مذہب تبدیل کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس کو روکنے کے لیے آئین میں ترمیم کی ضرورت ہے اور سخت قانون بنایا جانا چاہئے۔ بی جے پی کے رکن نے کہا کہ جبری تبدیلی مذہب کو روک کر قبائلی ثقافت اور روایات کی بھی حفاظت کی جا سکتی ہے۔ انہوں نے سپریم کورٹ کے حالیہ فیصلے کا بھی حوالہ دیا جس میں کہا گیا تھا کہ مذہب تبدیل کرنے والا شخص ریزرویشن کے فوائد کا اہل نہیں ہوگا۔ راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی) کے سنجے یادو نے گزشتہ سال پہلگام کے دہشت گردانہ حملے کے دوران سری نگر سے مختلف مقامات کے لیے پروازوں کے کرایوں میں زبردست اضافہ کا مسئلہ اٹھایا۔ انہوں نے کہا کہ جب بھی ملک کو کسی آفت یا بحران کا سامنا ہوتا ہے تو ایئر لائن کمپنیاں ہوائی مسافروں کی بے بسی کا فائدہ اٹھاتی ہیں اور ان سے حد سے زیادہ کرایہ وصول کرتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پہلگام کے دہشت گردانہ حملے کے بعد سری نگر سے ہوائی سفر کا کرایہ جو کہ 6,000 سے 8,000 روپے کے درمیان تھا، اسے 60,000 سے 80,000 روپے تک بڑھا دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ ایسے وقت میں حکومت پر لازم ہوتا ہے کہ وہ بحران کے وقت لوگوں کی خدمت کرے، لیکن یہاں اس کے برعکس ہو رہا ہے: آفت کے وقت سودے کیے جاتے ہیں۔ ترنمول کانگریس کے ڈیرک اوبرائن نے نوجوانوں اور بچوں میں موبائل فون کے بڑھتے ہوئے استعمال اور اسکرین ٹائم پر پابندی لگانے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں بچے روزانہ اوسطاً آٹھ گھنٹے اپنے فون کا استعمال کرتے ہوئے گزارتے ہیں جس سے ان کی صحت پر برا اثر پڑتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ موبائل فون کا زیادہ استعمال بچوں کو مناسب نیند سے محروم اور انہیں چڑچڑا بنا دیتا ہے۔ ایک تحقیق کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہر سال ہزاروں بچے اس کی وجہ سے خودکشی کر لیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں بچوں میں موبائل فون کا استعمال کم کرنے کی عادت ڈالنے کے لیے ضروری اقدامات کرنے چاہئیں۔ انہوں نے کہا کہ اس مسئلے سے نمٹنے کے واسطے لائحہ عمل مرتب کرنے کے لیے حکومتی سطح پر جامع بحث ہونی چاہیے۔ انہوں نے بتایا کہ 68 ممالک نے اسکولوں میں موبائل فون پر پابندی عائد کر رکھی ہے۔ بیجو جنتا دل کے سبھاشیش کھنٹیا نے اڈیشہ کے پوری میں اشوکا ہوٹل کی خستہ حالی کا مسئلہ اٹھایا اور اس کی سابقہ شان کو بحال کرنے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ اس سے ریاست میں سیاحت کی صلاحیت بھی متاثر ہوئی ہے۔ بی جے پی کے لکشمی کانت واجپائی نے کہا کہ اتر پردیش میں ریرا قانون مکمل طور پر ناکام ثابت ہو رہا ہے اور لوگوں کو راحت پہنچانے میں ناکام ہے۔ انہوں نے کہا کہ بلڈرز جان بوجھ کر خود کو دیوالیہ قرار دیتے ہیں اور قانون کی کمزوری کا فائدہ اٹھا کر فرار ہو جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عام لوگ جو اپنی محنت کی کمائی ان بلڈرز کے پروجیکٹس میں لگاتے ہیں ان کو سب سے زیادہ نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔ عام آدمی پارٹی کے وکرم جیت سنگھ ساہنی نے 20 سے زیادہ ریاستوں میں غیر معیاری ادویات کی فروخت پر تشویش کا اظہار کیا اور مطالبہ کیا کہ ان ادویات پر روک لگائی جائے۔ انہوں نے کہا کہ لوگوں کی صحت پر ان ادویات کے منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ رکن پارلیمنٹ نے کہا کہ ہندوستان دنیا بھر کے تقریباً 200 ممالک کو ادویات برآمد کرتا ہے اور ان غیر معیاری ادویات کی برآمدات سے ملک کی شبیہ بھی متاثر ہوتی ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ڈرگ کنٹرول ایکٹ کو مزید مضبوط کیا جائے۔ بی جے پی کے سنجے سیٹھ نے ملک کی مسلسل بڑھتی ہوئی آبادی کی طرف ایوان بالا کی توجہ مبذول کراتے ہوئے کہا کہ آبادی کو کنٹرول کرنے کے لیے سخت قوانین کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ قانون فی خاندان بچوں کی تعداد کو دو تک محدود کرنے پر مرکوز ہونا چاہئے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس قانون پر عمل کرنے والے خاندانوں کو مختلف مراعات فراہم کی جانی چاہئیں۔ بی جے پی کے رکن نے واضح کیا کہ ہندوستان کے پاس دنیا کے رقبے کا صرف 2.4 فیصد ہے، جبکہ یہ دنیا کی 18 فیصد آبادی کا مسکن ہے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ امریکہ اور روس کے پاس اپنی آبادی سے کئی گنا زیادہ رقبے ہيں۔ انہوں نے کہا کہ اس قانون میں مذہب اور ذات پات سے قطع نظر سخت دفعات طے کی جانی چاہئے۔