چین نے ہفتہ کو صدر شی جن پنگ اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان ہونے والے سربراہ اجلاس کو تاریخی ملاقات قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ دنیا کی دو بڑی طاقتوں کے تعلقات کو نئی سمت دے سکتی ہے۔چین کے مطابق دونوں رہنماؤں نے ''اسٹریٹجک استحکام پر مبنی تعمیری چین۔امریکہ تعلقات'' قائم کرنے پر اتفاق کیا ہے۔چینی وزیر خارجہ وانگ یی نے کہا کہ دونوں رہنماؤں کے درمیان چین۔امریکہ تعلقات اور عالمی امن و ترقی سے متعلق اہم امور پر کھل کر، گہرائی اور تعمیری انداز میں طویل گفتگو ہوئی۔ وانگ یی نے کہا کہ یہ سربراہ اجلاس دوطرفہ تعلقات کے لیے نئے آغاز کی حیثیت رکھتا ہے اور اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ دونوں ممالک ایک دوسرے کے ساتھ ہم آہنگی کا درست راستہ تلاش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔یہ گزشتہ سال اکتوبر میں بوسان اجلاس کے بعد شی جن پنگ اور ٹرمپ کے درمیان پہلی براہِ راست ملاقات تھی، جبکہ گزشتہ نو برسوں میں کسی امریکی صدر کا یہ پہلا دورۂ چین بھی تھا۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک ایک دوسرے کی کامیابی میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں اور عالمی خوشحالی کو فروغ دے سکتے ہیں۔وانگ یی کے مطابق شی جن پنگ نے عالمی نظام کے مستقبل اور بڑھتی جغرافیائی سیاسی کشیدگی کے تناظر میں چین۔امریکہ تعلقات کے بنیادی سوالات کو اجلاس کا محور بنایا۔ انہوں نے کہا کہ شی جن پنگ نے سوال اٹھایا کہ آیا چین اور امریکہ تھیوسیڈائیڈز ٹریپ سے نکل کر بڑی طاقتوں کے تعلقات کا نیا ماڈل قائم کر سکتے ہیں اور کیا دونوں ممالک عالمی چیلنجز سے مل کر نمٹ سکتے ہیں۔ وانگ یی نے کہا کہ اجلاس کی سب سے اہم کامیابی آئندہ تین برس اور اس کے بعد کے لیےاسٹریٹجک استحکام پر مبنی تعمیری تعلقات کے فریم ورک پر اتفاق رہا۔ انہوں نے واضح کیا کہ نہ چین اور نہ ہی امریکہ ایک دوسرے کو الگ کر سکتے ہیں یا ایک دوسرے کے بغیر ترقی کر سکتے ہیں۔ ان کے مطابق تعاون سے دونوں کو فائدہ اور تصادم سے دونوں کو نقصان ہوگا۔ انہوں نے زور دیا کہ دونوں طاقتوں کے درمیان مسابقت کو زیرو سم گیم نہیں بننا چاہیے۔ اجلاس کے دوران سفارت کاری، فوجی رابطوں، تجارت، زراعت، صحت عامہ، سیاحت اور عوامی سطح کے تبادلوں کو وسعت دینے پر بھی اتفاق کیا گیا۔تائیوان کا مسئلہ بھی مذاکرات میں نمایاں رہا۔ وانگ یی نے کہا کہ یہ چین۔امریکہ تعلقات کا سب سے حساس معاملہ ہے۔انہوں نے خبردار کیا کہ تائیوان کی آزادی اور آبنائے تائیوان میں امن آگ اور پانی کی مانند ہیں، جو ایک ساتھ نہیں رہ سکتے۔انہوں نے امریکہ پر زور دیا کہ وہ ون چائنا اصول اور تین مشترکہ اعلامیوں پر سختی سے عمل کرے۔اجلاس میں مغربی ایشیا، ایران اور یوکرین جنگ سمیت عالمی امور پر بھی گفتگو ہوئی۔ شی جن پنگ نے کہا کہ طاقت کے استعمال سے مسائل حل نہیں ہوتے اور مذاکرات ہی واحد درست راستہ ہیں۔ چین نے امریکہ۔ایران مذاکرات جاری رکھنے اور آبنائے ہرمز کو جلد دوبارہ کھولنے کی حمایت کی۔ یوکرین تنازع پر دونوں ممالک نے جنگ ختم کرنے اور امن مذاکرات کو فروغ دینے میں تعمیری کردار ادا کرنے کے عزم کا اظہار کیا۔ اقتصادی اور تجارتی امور پر دونوں ممالک نے ''ٹریڈ بورڈ'' اور ''انویسٹمنٹ بورڈ'' قائم کرنے، زرعی مصنوعات کی مارکیٹ رسائی سے متعلق مسائل حل کرنے اور باہمی ٹیرف میں کمی کے ذریعے تجارت بڑھانے پر اتفاق کیا۔ اجلاس کے دوران امریکی ٹیکنالوجی اور مینوفیکچرنگ کمپنیوں کے اعلیٰ عہدیداروں نے بھی شرکت کی، جن سے شی جن پنگ نے ملاقات کرتے ہوئے یقین دلایا کہ چین اپنے دروازے مزید وسیع پیمانے پر کھولے گا۔ وانگ یی نے تصدیق کی کہ شی جن پنگ نے اس سال کے آخر میں امریکہ کے سرکاری دورے کے لیے ٹرمپ کی دعوت قبول کر لی ہے۔