تحریکِ آزادی صرف میدانِ جنگ کی داستان نہیں، قلم کاروں نے بھی آزادی کی بنیاد مضبوط کی: پروفیسر ترون کمار
Awaz E Bihar••22 ویوز•4 منٹ پڑھیں
پٹنہ، 17 اگست: خدا بخش اورینٹل پبلک لائبریری میں یومِ آزادی کے موقع پر منعقدہ خصوصی پروگرام میں سابق پرنسپل پٹنہ کالج پروفیسر ترون کمار نے تحریکِ آزادی میں ہندوستانی ادب کے کردار کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ آزادی کی جدوجہد صرف میدانِ جنگ تک محدود نہیں تھی، بلکہ ادیبوں اور شاعروں نے بھی اپنے قلم کو ایک مؤثر ہتھیار کے طور پر استعمال کیا۔ انہوں نے کہا کہ 1757، 1857 اور 1947 ہندوستان کی تاریخ کے وہ تین اہم پڑاؤ ہیں جنہوں نے آزادی کی جدوجہد کو نئی سمت دی، جبکہ ہندوستانی ادیبوں اور شاعروں نے اپنے ادب کے ذریعے لوگوں کے دلوں کے تار جوڑنے، قومی اتحاد پیدا کرنے اور حب الوطنی کا جذبہ بیدار کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ پروفیسر ترون کمار نے کہا کہ ہندوستان کی مختلف زبانوں کے ادیبوں کی زبان الگ ہو سکتی ہے، لیکن ان کی فکر اور مقصد ایک تھا۔ ہندوستانی شاعری میں آزادی، قومی یکجہتی اور خودداری کا جذبہ گہرائی تک موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ نرالا کا گیت آزادی کے جذبے کا ایک طرح سے منشور بن گیا، جسے آج بھی چھٹھ کے موقع پر گایا جاتا ہے۔ اسی طرح بہادر شاہ ظفر نے وطن سے اپنی محبت کو شاعری میں اس شدت سے پیش کیا کہ وہ ہندوستانی حب الوطنی کی علامت بن گئے۔ انہوں نے کہا کہ بہادر شاہ ظفر اور گنیش شنکر ودیارتھی کی قربانیوں کو فراموش نہیں کیا جاسکتا۔ انگریزوں نے ہندو مسلم اتحاد کو توڑنے اور معاشرے میں تفریق پیدا کرنے کی کوشش کی، لیکن ہندوستانی ادیبوں اور شاعروں نے اپنی تحریروں کے ذریعے اس سازش کا مقابلہ کیا۔ حالی نے قومی اتحاد کا پیغام دیا، اکبر الہ آبادی نے قوم کو بیدار کرنے کا فریضہ انجام دیا اور ایشیائی اتحاد کی حمایت کی۔ علامہ اقبال نے ’’سارے جہاں سے اچھا ہندوستاں ہمارا‘‘ لکھ کر وطن سے محبت کے جذبے کو نئی آواز دی، جبکہ بنسی دھر شکّل نے ’’خونی پرچہ‘‘ جیسے گیت کے ذریعے قومی جذبات کو مہمیز کیا۔انہوں نے کہا کہ آزادی صرف ایک تاریخی واقعہ نہیں بلکہ ایک مسلسل ذمہ داری ہے۔ دیش بھکتی، قومی اتحاد، بھائی چارہ اور وطن سے محبت کا جذبہ آخری لمحے تک ہمارے اندر زندہ رہنا چاہیے۔ خطاب کرتےپروفیسر زاہد الحق نے کہا کہ 15 اگست محض ایک تاریخ نہیں، بلکہ وہ عظیم امانت ہے جو ہمارے اسلاف نے لاکھوں جانوں کی قربانی دے کر ہمیں سونپی ہے۔ یہ دن ہمارے قومی تشخص، آزادی کی جدوجہد اور ان بے شمار قربانیوں کی یاد دلاتا ہے جن کے نتیجے میں ہندوستان نے غلامی کی زنجیریں توڑیں۔انہوں نے کہا کہ جس آزادی کے حصول کے لیے بے شمار لوگوں نے اپنی جانیں قربان کیں، اس کا تقاضا ہے کہ ہم ملک کی ترقی، امن و سکون اور قومی یکجہتی کے لیے ایسا ماحول پیدا کریں جہاں کسی بھی قسم کے بھید بھاؤ کی گنجائش نہ ہو۔ ہمیں ایسے کام کرنے چاہئیں جن سے تحریکِ آزادی کے مجاہدین کی روح کو اطمینان حاصل ہو۔پروفیسر زاہد الحق نے کہا کہ خدا بخش لائبریری نے ابتدا ہی سے آزادی کے پیغام، قومی یکجہتی اور علمی بیداری کو عام کرنے میں نمایاں کردار ادا کیا ہے۔ لائبریری کی طباعت و اشاعت، علمی و ادبی پروگراموں، لیکچروں اور سیمیناروں کے ذریعے عوام کو ہندوستان کی تاریخ، تہذیب اور تحریکِ آزادی کے مختلف پہلوؤں سے روشناس کرایا جاتا رہا ہے۔ یومِ آزادی کی مناسبت سے 14 اگست کو تحریکِ آزادی سے متعلق کتابوں کی خصوصی نمائش کا بھی اہتمام کیا گیا۔ اس موقع پر پروفیسر زاہد الحق نے کہا کہ تحریکِ آزادی کے عہد کو سمجھنے کے لیے اس دور سے متعلق کتابوں کا مطالعہ ضروری ہے۔ اگر اپنے علم کو پختہ اور شعور کو وسیع کرنا ہے تو کتاب پڑھنے کی عادت کو فروغ دینا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ یہ کتابیں عام قارئین کے ساتھ ساتھ مقابلہ جاتی امتحانات کی تیاری کرنے والے طلبہ کے لیے بھی انتہائی مفید ثابت ہوتی ہیں۔انہوں نے اپنے استقبالیہ کلمات میں کہا کہ تحریکِ آزادی کے تین اہم پڑاؤ 1757، 1857 اور 1947 ہیں، جنہوں نے ہندوستان کی تاریخ کا رخ بدل دیا۔ آزادی کی جدوجہد میں معاشرے کے ہر طبقے نے اپنا کردار ادا کیا، جبکہ شعرا اور ادبا نے اپنے قلم کو ایک طاقتور ہتھیار کے طور پر استعمال کیا۔ انہوں نے اپنی تخلیقات کے ذریعے عوام میں حب الوطنی، اتحاد، خودداری اور آزادی کا جذبہ پیدا کیا، جس نے برطانوی اقتدار کی بنیادوں کو ہلا دیا۔پروگرام کے اختتام پر شکریے کی رسم ادا کی گئی اور مقررین و شرکاء کا شکریہ ادا کرنے کے بعد جلسہ اختتام پذیر ہوا۔