سمندر سے آسمان تک ہندوستان بن رہا ہےآتم نربھر : مودی
Awaz E Bihar••14 ویوز•8 منٹ پڑھیں
وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا ہے کہ ہندوستان سمندر سے لے کر آسمان تک دفاعی شعبے میں تیزی سے زیادہ محفوظ اورآتم نربھر بن رہا ہے اور مقامی ٹیکنالوجی اور مینوفیکچرنگ کے دم پر ملک نئی کامیابیاں حاصل کر رہا ہے۔مسٹر مودی نے اتوار کو آکاش وانی سے نشر ہونے والے اپنے ماہانہ پروگرام 'من کی بات کی 135 ویں کڑی میں کہا کہ 2026 کا آدھا حصہ گزرنے کو ہے اور ان چھ مہینوں میں ملک نے سکیورٹی اور آتم نربھر کے شعبے میں کئی ایسی کامیابیاں حاصل کی ہیں، جن پر ہر ہم وطن کو فخر ہے۔ انہوں نے کہا کہ حال ہی میں کولکاتہ میں منعقدہ ایک پروگرام میں ہندوستانی بحریہ کے بیڑے میں آئی این ایس دوناگیری، آئی این ایس سنشودھک اور آئی این ایس اگرے کو شامل کیا گیا۔ ان جنگی جہازوں کا ڈیزائن اور مینوفیکچرنگ مکمل طور پر مقامی ہے۔ مسٹر مودی نے کہا کہ جون میں ہی ہوا بازی کے شعبے میں بھی بڑی کامیابی ملی ہے۔ 'میک ان انڈیا کے تحت تیار کردہ سی-295 طیارے نے اپنی پہلی پرواز مکمل کی ہے اور ایسے 40 طیارے ہندوستان میں ہی بنائے جا رہے ہیں۔ اس سے ایم ایس ایم ای اور ایرو اسپیس کے شعبے کو نئی مضبوطی ملے گی، روزگار کے مواقع بڑھیں گے اور آتم نربھر ہندوستان کا عزم مزید مضبوط ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ اسی مہینے دفاعی تحقیق اور ترقیاتی تنظیم نے مقامی طور پر لمبی دوری کی زمین پر مار کرنے والی کروز میزائل کا بھی کامیاب تجربہ کیا ہے۔ یہ میزائل دفاعی تحقیق اور ترقیاتی تنظیم کی لیبارٹریوں اور ہندوستانی صنعتوں کی شراکت داری سے تیار کی گئی ہے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ ان کامیابیوں سے واضح ہے کہ آج ہندوستان سمندر سے لے کر آسمان تک زیادہ محفوظ اورآتم نربھر بن رہا ہے۔ مسٹر مودی نے کہا، "میں اکثر کہتا ہوں، جو کھیلتا ہے، وہ کھلتا ہے۔ آج ملک میں ایسے نوجوانوں کی تعداد بہت تیزی سے بڑھ رہی ہے، جو کھیل بھی رہے ہیں اور کھل بھی رہے ہیں۔ پہلے کی نسبت اب کہیں زیادہ نوجوان کھیلوں کو کیریئر کے طور پر اپنا رہے ہیں۔ مجھے ناگالینڈ کی دو ایسی کوششوں کے بارے میں معلومات ملی ہیں، جو بہت دلچسپ ہیں۔ پہلی کوشش ہے 'ناگالینڈ بیبی لیگ'. نام سن کر آپ کو ضرور لگتا ہوگا یہ بہت چھوٹے بچوں کی کوئی عام لیگ ہوگی لیکن ایسا نہیں ہے۔ یہ پانچ سے 10-12 سال کی عمر کے چھوٹے چھوٹے بچے، پھول جیسے بچوں کی ایک غیر معمولی لیگ ہے اور ان بچوں کے فٹ بال کھلاڑیوں کی ایک ایسی لیگ ہے، جو ان کی رفتار کو اور صلاحیت کے لیے ان کی حوصلہ افزائی بھی کرتی ہے اور ان کی شناخت بھی بناتی ہے۔ اس کی شروعات ناگالینڈ کے زیادہ سے زیادہ بچوں کو فٹ بال سے جوڑنے کے لیے ہوئی تھی۔ پانچ سے بارہ سال تک کے لڑکے اور لڑکیاں اس میں حصہ لے سکتے ہیں۔ یہ لیگ اب اپنے تین سال پورے کر چکی ہے۔ اس لیگ کا بچوں کے ذہنوں پر بہت اچھا اثر پڑا ہے۔" انہوں نے کہا کہ ناگالینڈ میں ایک اور اچھی کوشش ہو رہی ہے۔ اس کا نام ہے، 'ناگالینڈ ویمن فٹسال لیگ'، ہو سکتا ہے آپ کے لیے یہ 'فٹسال' ایک نیا نام ہوگا، میں آپ کو بتاتا ہوں فٹسال کو انڈور فٹ بال بھی کہا جاتا ہے۔ اس میں ایک ٹیم میں صرف پانچ کھلاڑی ہوتے ہیں۔ کھیل کا میدان بھی فٹ بال کے میدان سے بہت چھوٹا ہوتا ہے۔ اس وجہ سے کھلاڑیوں کو تیز فیصلے کرنے ہوتے ہیں۔ انہیں اپنی تکنیک اور مہارت کا بہتر استعمال کرنا پڑتا ہے۔ ناگالینڈ کی ویمن فٹسال لیگ ہماری بیٹیوں کو اپنی صلاحیت دکھانے کا اچھا موقع دے رہی ہے۔ میں ایسی پہلوں کے لیے ناگالینڈ کے لوگوں کی تعریف کرتا ہوں۔ ایسی کوششیں ملک کے دوسرے حصوں کو بھی ترغیب دیتی ہیں۔ مسٹر مودی نے کہا کہ توہم پرستی ہزاروں سال سے انسانی معاشرے میں گھر کر کے بیٹھی ہے۔ توہم پرستی میں ڈوبے لوگ، پھر بنا دلیل کے، بنا سچائی جانے، ایسے فیصلے لینے لگتے ہیں، جن کا بڑا نقصان ہوتا ہے۔ وہیں معاشرے میں ایسے لوگ بھی ہوتے ہیں، جو سائنس، تجربے اور دلیل کی بنیاد پر ان نظریات کو چیلنج کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آسام میں ایک پرندہ پایا جاتا ہے۔ اس پرندے کا نام ہے 'ہرگیلا'۔ 'ہرگیلا' ایک نایاب پرندہ ہے۔ یہ فطرت کو صاف رکھنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے لیکن آسام کے کچھ علاقوں میں طویل عرصے تک اسے منحوس مانا جاتا تھا۔ لوگ اسے اپنے آس پاس دیکھنا پسند نہیں کرتے تھے۔ کئی بار ان درختوں کو بھی کاٹ دیا جاتا تھا جن پر ہرگیلا کے گھونسلے بنے ہوتے تھے۔ سوچیے، ایک ایسا پرندہ جو ماحول کی صفائی میں مدد کرتا ہے، وہی 'ہرگیلا' لوگوں کے خوف کا شکار بن گیا تھا۔ وزیر اعظم نے کہا کہ اسی دوران ماہر حیاتیات پورنیما دیوی برمن نے یہ سب دیکھا۔ انہوں نے لوگوں کے ذہنوں میں بیٹھے غلط نظریے کو بدلنے کا عزم کیا۔ انہوں نے خواتین سے بات کی، انہوں نے لوگوں کو سائنس کی بنیاد پر سمجھایا، آہستہ آہستہ خواتین اس مہم سے جڑنے لگیں۔ پھر ایک بڑی تبدیلی شروع ہوئی۔ جس پرندے کو کبھی منحوس مان کر بھگایا جاتا تھا، وہی گاؤں کی پہچان بننے لگا۔ ہزاروں دیہی خواتین 'ہرگیلا' کو بچانے کے لیے آگے آئیں - آج انہیں 'ہرگیلا آرمی' کے نام سے جانا جاتا ہے۔ ان خواتین نے معاشرے کے ساتھ جدوجہد بھی کی۔ معاشرے کو سمجھانے کے لیے دن رات کام کیا اور توہم پرستی کو پیچھے چھوڑ کر رہیں۔ انہوں نے دکھایا ہے جب صحیح معلومات پہنچائی جاتی ہیں، تو برسوں پرانی سوچ بھی بدل سکتی ہے۔ مسٹر مودی نے اپنے ماہانہ پروگرام من کی بات کی 135 ویں کڑی میں اتوار کو کہا کہ میگھالیہ کی پہچان بادلوں سے ہے، خوبصورت نظاروں سے ہے۔ جو میگھالیہ جاتا ہے، اسے وہاں کے لوگوں کا اپنائیت کا احساس بھی لمبے عرصے تک یاد رہتا ہے لیکن، میگھالیہ کی ایک اور خصوصیت ہے۔ یہ ہے میگھالیہ کے روٹ برج۔ ان روٹ برجوں کی کہانی بہت دلچسپ ہے۔ یہ برج کچھ دنوں یا کچھ سالوں میں نہیں بنتے۔ انہیں تیار ہونے میں کئی دہائیاں لگتی ہیں۔ ربڑ کے درختوں کی جڑوں کو آہستہ آہستہ سمت دی جاتی ہے۔ ان جڑوں کو پانی کے دھاروں کے پار لے جایا جاتا ہے۔ وقت کے ساتھ وہی جڑیں ایک مضبوط برج کی شکل اختیار کر لیتی ہیں۔ ان برجوں کی ایک اور خصوصیت ہے۔ یہ زندہ برج ہیں۔ وقت گزرنے کے ساتھ یہ اور مضبوط ہو جاتے ہیں۔ ان میں میگھالیہ کے لوگوں کی تخلیقی صلاحیت دکھائی دیتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کے پیچھے برسوں کا صبر اور فطرت کے تئیں گہرا احترام ہے۔ یہ برج بتاتے ہیں کہ انسان فطرت کے ساتھ مل کر کتنی حیرت انگیز چیزیں بنا سکتا ہے۔ یہ ہمارے ملک کی، اس دھرتی کی وراثت ہے۔ اب ہندوستان نے میگھالیہ کے روٹ برجوں کو یونیسکو ورلڈ ہیریٹیج سائٹ نیٹ ورک میں شامل کرانے کے لیے درخواست دی ہے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ ماحولیاتی تبدیلی کے باعث ان روٹ برجوں کے سامنے کئی چیلنجز بھی آتے ہیں۔ ایسے وقت میں میگھالیہ کے لوگوں نے اس قدرتی وراثت کے تحفظ کی ذمہ داری بھی بخوبی نبھائی ہے۔ پہلے یہ پتہ لگانا بھی آسان نہیں تھا کہ ایسے برجوں کی تعداد کتنی ہے؟ مقامی لوگوں نے خود ان کی گنتی شروع کی۔ اس کے بعد برادریوں نے ان برجوں کی دیکھ بھال کی ذمہ داری بھی سنبھالی۔ آج مقامی لوگ 120 سے زیادہ روٹ برجوں کی دیکھ ریکھ کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ کچھ ٹیمیں ہر سال ان پلوں کی صورتحال کی جانچ کرتی ہیں۔ کچھ لوگوں نے آس پاس کے علاقے کو مضبوط بنانے کے لیے نرسری بھی تیار کی ہے۔ اس طرح ان کے تحفظ کے لیے ایک پورا ایکو سسٹم تیار ہو گیا ہے۔ آپ نے دیکھا ہوگا، اس سال ہیلی وار جی کو پدم ایوارڈ سے نوازا گیا ہے۔ انہوں نے اپنی زندگی کے 50 سے زیادہ سال ان روٹ برجوں کی دیکھ بھال میں لگائے ہیں۔ ان کا لگن ہم سب کے لیے باعث ترغیب ہے۔ انہوں نے کہا کہ آپ نے بھی ان روٹ برجوں کا سفر کیا ہو، تو ان کی تصویریں سوشل میڈیا پر ضرور شیئر کیجیے۔ آپ کی تصویریں دوسرے لوگوں کو بھی میگھالیہ کی اس انوکھی وراثت کے بارے میں جاننے کے لیے راغب کریں گی۔ آج ہندوستانی ثقافت دنیا کے الگ الگ حصوں تک پہنچ رہی ہے۔ ہمارے گیت، موسیقی اور روحانیت کو دنیا بھر کے لوگ جان رہے ہیں اور اپنا رہے ہیں۔ ہندوستان سے ہزاروں کلومیٹر دور کیریبین سمندر میں ڈومینیکن ریپبلک نام کا ایک ملک ہے۔ وہاں ہندوستانیوں کی تعداد قریب 100 ہے شاید اس سے بھی کم ہوگی۔ اس کے باوجود ہندوستانی ثقافت اور روحانیت سے جڑی ایک بہت اچھی کوشش وہاں ہو رہی ہے۔ وہاں اسپینش بولنے والے کچھ لوگوں نے ایک ٹیم بنائی ہے۔ اس ٹیم کا نام ہے، 'برہم کمل ڈومینیکانا'۔ ٹیم کے اراکین مل کر ویدک ادب کا مطالعہ کرتے ہیں۔ وہ ویدک منتروں کا تلفظ بھی سیکھ رہے ہیں۔ انہیں اس کی کوئی باقاعدہ تربیت نہیں ملی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان سے اتنی دور رہ کر ہماری روایتوں کو سیکھنے کی ان کی یہ کوشش بہت باعث ترغیب ہے۔ میں 'برہم کمل ڈومینیکانا' وہاں کے تمام اراکین کو ان کی کوششوں کے لیے مبارکباد دیتا ہوں۔ میں ایسے تمام لوگوں کی دل سے تعریف کرتا ہوں جو ہندوستانی ثقافت کو دنیا بھر میں مقبول بنانے کے لیے مسلسل کوششیں کر رہے ہیں۔